May 31, 2026

قموس گل خٹک، مزدور تحریک کا ناقابلِ فراموش باب

 قموس گل خٹک،  مزدور تحریک کا ناقابلِ فراموش باب

مختار حسین اعوان

—————-

ملک کی مزدور تحریک کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے کردار، اصولوں اور مسلسل جدوجہد کے باعث تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتی ہیں۔

قموس گل خٹک صاحب بھی انہی عظیم رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے اپنی پوری زندگی محنت کشوں کے حقوق کے لیے وقف کر دی اور ایک ایسی مثال قائم کی جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔

قموس گل خٹک صاحب کی زندگی کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک عام مزدور کے طور پر کیا تھا۔ یہی وہ مرحلہ تھا

جہاں انہوں نے مزدور طبقے کے مسائل، استحصال اور ناانصافیوں کو نہ صرف قریب سے دیکھا بلکہ خود پر محسوس بھی کیا۔ یہ مشاہدہ ہی ان کی طویل جدوجہد کی بنیاد بنا۔

 انہوں نے حالات کی سختیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے مزدوری کے ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور وکالت کی ڈگری حاصل کی، تاکہ وہ قانون کے میدان میں رہتے ہوئے مزدوروں کی زیادہ مؤثر اور قانونی بنیادوں پر نمائندگی کر سکیں

ان کا ماننا تھا کہ منتشر آوازیں کبھی مضبوط نہیں ہوتیں اور نہ ہی بڑے مقاصد حاصل کر سکتی ہیں، اسی لیے انہوں نے مزدوروں کو منظم کرنے کا بیڑا اٹھایا۔

ان کی مخلص قیادت، بے لوث خدمات اور اصولی مؤقف نے انہیں مختصر عرصے میں محنت کش طبقے کی امید کی کرن بنا دیا۔

قاموس گل خٹک مرحوم نے نبی احمد مرحوم کے ساتھ مل کر مزدور فیڈریشن  کی بنیاد رکھی اور اسے ایک فعال اور مؤثر پلیٹ فارم میں تبدیل کیا۔

انہوں نے مختلف ٹریڈ یونینز کو ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے کنفیڈریشن کے ذریعے مزدور اتحاد کو فروغ دیا اور تحریک کو ایک نئی و جدید سمت عطا کی

سن 2002 میں جب صنعتی تعلقات آرڈیننس آئی آر او دوہزار دو  کے ذریعے مزدوروں کے حقوق پر قدغن لگانے کی کوشش کی گئی، تو قاموس گل خٹک کی جرأت مندانہ جدوجہد ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئی

وہ مزدور دشمن پالیسیوں کے سامنے کبھی نہیں جھکے اور ہر اس قانون کے خلاف آواز بلند کی جو محنت کش کے بنیادی حقوق کے منافی تھا

خصوصاً لکھڑا کول مائنز کے مزدوروں کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ سنہری حروف میں لکھی جائیں گی۔ انہوں بھی نہ صرف ان کان کنوں کو منظم کیا بلکہ انہیں وہ حقوق دلائے جن سے وہ برسوں سے محروم تھے،

جن میں ای او بیآئی اور سیسی  میں رجسٹریشن اور اجتماعی معاہدوں کے ذریعے مراعات کا حصول شامل ہے۔

 انہی بے مثال خدمات کے باعث وہ مزدوروں کے حلقوں میں “بابائے لکھڑا” کے لقب سے معروف ہوئے۔

ورکرز ویلفیئر بورڈ  اور سیسی کے گورننگ باڈی ممبر کی حیثیت سے بھی ان کی کارکردگی مثالی رہی۔ ان کے دور میں فلاحی اسکیموں کی بروقت تکمیل، علاج و معالجہ کے معیار میں بہتری اور ادویات کی دستیابی نے مزدور طبقے کو حقیقی ریلیف فراہم کیا

آج جب قاموس گل خٹک مرحوم جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں، تو ان کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔

یہ صرف ایک فرد کا بچھڑنا نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک قیادت اور ایک عہد کا نقصان ہے تاہم، ان کی جدوجہد، اصول اور خدمات ہمیشہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی

 ان کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ہم ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے مزدوروں کے حقوق کے لیے بلا خوف و خطر آواز بلند کریں اور انصاف کی اس شمع کو روشن رکھیں جو انہوں نے اپنی زندگی بھر جلائے رکھی

تعارفِ ، مختار حسین اعوان پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن کے مرکزی صدر اور مزدور تحریک کے معتبر رہنما ہیں۔ وہ دہائیوں سے کراچی سمیت ملک بھر کے صنعتی و تجارتی مراکز میں محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد کر رہے ہیں معاشی بحران کے نتیجے میں مزدور طبقے پر ٹوٹنے والے مہنگائی کے پہاڑ اور ان کے جائز مطالبات کے لیئے آواز بلند رکھتے ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp