انسانیت، قوم پرستی اور سماجی منافقت
تحریر ( سیدمحمد اکرم شاہ، چیئرمین یونائٹیڈ ڈیموکریٹک پارٹی )
انسانیت کا جوہر صرف انفرادی عبادات یا ذاتی کامیابیوں میں پنہاں نہیں، بلکہ اس کا اصل امتحان وہ احساس ھے جو ایک انسان دوسرے کے دکھ کو دیکھ کر اپنے دل میں محسوس کرتا ھے۔ جب کوئی معاشرہ مجموعی طور پر تکلیف میں ہو اور اس کے حقوق پامال کیے جا رہے ہوں، تو وہاں خاموش تماشائی بنے رہنا محض مصلحت نہیں بلکہ ایک اخلاقی جرم ہے
حب الوطنی اور بے حسی کا تضاد یہ ہے کہ جو شخص اپنے ملک اور قوم کو درپیش مصائب، ناانصافیوں اور مظالم سے لاتعلقی اختیار کر لیتا ھے، وہ درحقیقت اپنے وجود کے اعلیٰ مقصد سے منحرف ہو جاتا ھے۔ حب الوطنی کا تقاضا صرف جھنڈا لہرانا نہیں، بلکہ قوم کے زخموں پر مرہم رکھنا ھے۔
اگر ایک انسان اپنے ہم وطنوں کی چیخیں سن کر بھی خاموش ھے، تو اس کی قابلیت محض خود غرضی، اس کا مذہب مکاری اور اس کی شرافت محض ایک سوانگ یا ناٹک ھے۔ ایسی شرافت جو ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھائے، درحقیقت ظالم کی خاموش حمایت ہوتی ھے ۔
انسانیت کی معراج یہ نہیں کہ انسان بلند وبالا ڈگریاں حاصل کرے یا دولت کے ڈھیر لگا لے، بلکہ انسانیت کا عروج یہ ھے کہ وہ اپنی ذات کے حصار سے نکل کر پوری قوم کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھے۔ جب تک انسان کے اندر اجتماعی درد بیدار نہیں ہوتا، وہ اشرف المخلوقات کے درجے پر پورا نہیں اتر سکتا۔
بدقسمتی سے، موجودہ دور میں کئی مذہبی گروہ اور جماعتیں اپنے اصل مقصد سے بھٹک چکی ہیں۔ وہ مذہب جو مظلوم کی حمایت اور انصاف کی سربراہی کے لیے آیا تھا، آج اسے طاقتور کے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جا رہا ھے۔ جب مذہبی مقتدرہ عام آدمی کی پکار سننے کے بجائے فسطائیت اور ظالم نظام کی آلہ کار بن جائے، تو معاشرے میں اخلاقی بگاڑ پیدا ہوتا ھے۔
ظالم کی حمایت اور عام آدمی کی تکلیف سے چشم پوشی کرنا مذہب کی روح کے منافی ھے، مذہبی جماعتوں کا ظالم کے ساتھ کھڑا ہونا یا خاموش رہنا نہ صرف عوام کے ساتھ دھوکہ ھے بلکہ یہ ان کے اپنے دعووں کی نفی بھی ھے۔ حقیقی مذہبیت وہ ھے جو وقت کے جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق بلند کرے، نہ کہ وہ جو اقتدار کی راہداریوں میں فسطائیت کا دست و بازو بنے
ایک زندہ قوم وہی ھے جس کے افراد ایک دوسرے کے دکھ کو محسوس کرتے ہوں۔ اگر ہم اپنی قابلیت، شرافت اور مذہب کو محض ذاتی مفاد تک محدود رکھیں گے، تو ہم ایک بے حس ہجوم تو بن سکتے ہیں، مگر ایک معزز قوم نہیں۔ وقت کا تقاضا ھے کہ ہم اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کریں اور انسانیت کے اس درجے کو پائیں جہاں دوسروں کا درد ہمیں بے چین کر دے
