April 20, 2026

محنت کشوں کی خاموش چیخ

 محنت کشوں کی خاموش چیخ

رپورٹ ( احتشام اکرام ، بیورو چیف سندھ )

پاکستان کی معیشت کے اعداد و شمار میں جہاں اکثر شرحِ نمو، برآمدات اور غیر ملکی قرضوں کا ذکر ہوتا ہے، وہاں معاشرے کا ایک بڑا حصہ ایسا بھی ہے جو ان اعداد و شمار کی گونج میں کہیں دب کر رہ گیا ہے

ملکی معیشت کی شہ رگ یعنی محنت کش طبقے کی اس بدحالی کی تصویر کشی کرتی ہے جو اب صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی المیہ بن چکا ہے

پاکستان میں گزشتہ دو برسوں کے دوران مہنگائی کی شرح نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ایک عام مزدور جس کی اجرت کا بڑا حصہ صرف آٹا، دال اور سبزی جیسی بنیادی اشیاء پر خرچ ہو جاتا تھا

اب ان اشیاء کی خریداری سے بھی قاصر نظر آتا ہے۔ بجلی اور گیس کے ٹیرف میں مسلسل اضافے نے غریب خاندانوں کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے کہ انہیں ’کھانے یا روشنی‘ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ افراطِ زر کا سب سے زیادہ اثر دیہاڑی دار اور کم اجرت والے طبقے پر پڑا ہے، کیونکہ ان کی آمدنی منجمد ہے جبکہ اخراجات میں 100 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے

حکومت کی جانب سے کم از کم اجرت کے اعلانات تو کیے جاتے ہیں، مگر رپورٹ اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ نجی شعبے خصوصاً چھوٹی صنعتوں اور غیر رسمی شعبے میں ان قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے

لاکھوں مزدور آج بھی مقررہ حد سے کہیں کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی متبادل موجود نہیں۔ جبری برطرفیوں کا خوف اور یونین سازی پر غیر علانیہ پابندیوں نے ان کی آواز کو مزید دبا دیا ہے۔

سوشل سیکیورٹی کے اداروں، جیسے سیسی اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کی کارکردگی پر بھی سوالات ہیں، مزدور طبقے کی یہ خاموش چیخ اس وقت مزید بلند ہوتی ہے جب انہیں بیماری کی صورت میں اسپتالوں میں ادویات نہیں ملتیں یا ان کے بچوں کے لیے تعلیمی وظائف کے دروازے کڑی شرائط کے ذریعے بند کر دیے جاتے ہیں

ورکرز ویلفیئر فنڈ جیسے اداروں میں بیوروکریسی کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ان فلاحی منصوبوں کو محنت کشوں کی پہنچ سے دور کر رہا ہے جو انہی کے پیسوں سے چلتے ہیں

معاشی تنگدستی اب صرف پیٹ تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ محنت کشوں کے گھروں میں ذہنی تناؤ، گھریلو جھگڑوں اور بچوں کی تعلیم چھڑوانے کا سبب بن رہی ہے

غربت کی وجہ محنت کشوں کے بچوں کے  اسکول چھوڑنے کی تعداد میں حالیہ مہینوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کا مطلب ہے کہ پاکستان کی اگلی نسل بھی غربت کے اسی چکرمیں پھنسنے کے خطرے سے دوچار ہے

صرف ایک شکایت نامہ نہیں بلکہ پالیسی سازوں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ پاکستان کو اگر معاشی استحکام کی طرف بڑھنا ہے تو اسے ماڈل کے بجائے نچلے طبقے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک محنت کش کے ہاتھ میں قوتِ خرید نہیں ہوگی، ملکی صنعتیں اور کاروبار ترقی نہیں کر سکتے۔

فوری اصلاحات کے طور پر کم از کم اجرت پر سختی سے عملدرآمد، سوشل سیکیورٹی اداروں کی اوور ہالنگ اور مزدوروں کے لیے سستی ٹرانسپورٹ و رہائش کی فراہمی ناگزیر ہے

اگر اس خاموش چیخ کو اب بھی نہ سنا گیا، تو یہ خاموشی کسی بڑے معاشرتی دھماکے کی شکل اختیار کر سکتی ہے جو ملکی استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوگا

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp