April 22, 2026

مزدور کے بچے پر تعلیم کا تالہ

 مزدور کے بچے پر تعلیم کا تالہ

رپورٹ ( عامر سہیل، ریذیڈنٹ ایڈیٹر پنجاب )

 پاکستان میں محنت کش طبقہ پہلے ہی کمر توڑ مہنگائی اور کم اجرتوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، لیکن اب ایک نئے تنازعے نے جنم لیا ہے جس نے مزدوروں کے بچوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے

 ورکرز ویلفیئر فنڈ کی جانب سے تعلیمی وظائف کے لیے نمبروں کی کڑی شرائط اور سیلف ایجوکیشن اسکیم میں تبدیلیوں نے ملک بھر کی لیبر یونینز میں غصے کی لہر دوڑا دی ہے

ورکرز ویلفیئر فنڈ کی گورننگ باڈی کے حالیہ 166ویں اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کے مطابق اب مزدوروں کے بچوں کے لیے تعلیمی وظائف کے حصول کو 60 سے 80 فیصد نمبروں کی شرط سے مشروط کر دیا گیا ہے

ماضی میں پالیسی انتہائی سادہ تھی کہ جس طالب علم کا کسی تعلیمی ادارے میں میرٹ پر داخلہ ہو جاتا تھا، فنڈ اس کی فیس ادا کرنے کا پابند تھا

لیبر رہنماؤں کا موقف ہے کہ یہ فنڈ کسی سرکاری گرانٹ سے نہیں بلکہ آجروں اور مزدوروں کے خون پسینے کی کمائی سے بنتا ہے، لہٰذا اس پر بیوروکریسی کا ایسا کنٹرول جو مزدور کے حق کو محدود کرے، غیر قانونی ہے۔

پاکستان کی مزدور تنظیموں نے  اس فیصلے کو طبقاتی تقسیم کا ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مزدور کا بچہ جو بغیر ٹیوشن، مہنگے سکولز اور بنیادی سہولیات کے تعلیم حاصل کر رہا ہے اسے ایلیٹ کلاس کے بچوں کے برابر نمبر لانے پر مجبور کرنا دراصل اسے تعلیم سے محروم کرنے کے مترادف ہے

پاکستان میں مزدور تجزیہ کاروں کے مطابق ایسی شرائط عائد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ریاست صرف کریم یا ٹاپرز کو پڑھانا چاہتی ہے، جبکہ اوسط نمبر لینے والے مزدور کے بچے کے پاس آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہیں رہے گا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 25-A ریاست کو اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ 5 سے 16 سال تک کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے

اسی طرح آرٹیکل 37(b) پسماندہ طبقات کی تعلیمی ترقی کو یقینی بنانے کا حکم دیتا ہے مزدور رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ کے نئے ضوابط ان بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں

ایک اور اہم نکتہ سیلف ایجوکیشن اسکیم کو محدود کرنا ہے۔ یہ اسکیم ان محنت کشوں کے لیے ایک امید تھی جو ملازمت کے دوران اپنی تعلیم مکمل کر کے اپنے عہدے اور سماجی حیثیت کو بہتر بنانا چاہتے تھے۔ اب اس اسکیم پر قدغن لگانے سے مزدور کے لیے ترقی کے تمام دروازے بند ہوتے نظر آ رہے ہیں۔

پاکستان کی مختلف ٹریڈ یونینز، مزدور فیڈریشنزنے مطالبہ کیا ہے کہ نمبروں کی شرط ختم کر کے داخلہ کی بنیاد پر فیس ادائیگی’ کی پرانی پالیسی بحال کی جائے سیلف ایجوکیشن اسکیم کو مکمل فعال کیا جائے فنڈ کی گورننگ باڈی میں بیوروکریسی کے بجائے مزدوروں کی حقیقی نمائندگی یقینی بنائی جائے

دوسری جانب مزدور تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ مزدور دشمن  فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو یہ احتجاج سڑکوں سے ہوتا ہوا عدالتوں تک پہنچے گا

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ریاست اس طبقے کو تعلیم کا حق دے گی جو معیشت کا پہیہ چلاتا ہے، یا مزدور کا بچہ واقعی صرف مزدور بننے کے لیے ہی پیدا ہوا ہے؟

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp