June 19, 2026

ہائی جیک شدہ بجٹ میں محنت کش طبقہ ریلیف سے محروم

 ہائی جیک شدہ بجٹ میں محنت کش طبقہ ریلیف سے محروم

رپورٹ : حسن خان ، ہیڈ لیبر نیوز کامرس ڈیسک

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے ماحول کے درمیان حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ پیش کر دیا گیا ہے، مگر توقعات کے عین مطابق یہ بجٹ کسی طویل المدتی معاشی منصوبے کے بجائے محض ایک جبری دستاویز کے طور پر سامنے آیا ہے، جس میں ملک کے غریب محنت کش اور تنخواہ دار طبقے کے لیے کسی قسم کے ریلیف کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی

 دوسری جانب حکومت مسلسل یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ پاکستان نے معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے اور حکومتی مالیاتی نمائندے روایتی اعداد و شمار اور سطحی فارمولوں کے ذریعے معمولی مالیاتی اصلاحات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔

اگرچہ معیشت مالیاتی سال 2022ء کے شدید بحران سے کسی حد تک سنبھل چکی ہے اور مالیاتی سال 2026ء کا مالی خسارہ 21 سال کی کم ترین سطح پر ریکارڈ ہوا ہے،

تاہم یہ صورتحال زیادہ قابلِ ستائش نہیں ہے، کیونکہ ملک میں جی ڈی پی کی شرحِ نمو میں کوئی ایسا اضافہ دیکھنے میں نہیں آ رہا جو آبادی میں اضافے کے تناسب سے ہم آہنگ ہو، اور نہ ہی مستقبل قریب میں کسی بڑی سرمایہ کاری کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔

پاکستان کے بجٹ اور معاشی پالیسیوں کے تفصیلی جائزے سے یہ تلخ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ملک کی معیشت کو مکمل طور پر ہائی جیک کیا جا چکا ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے بجٹ کی شرائط ڈکٹیٹ کرائی گئی ہیں اور ٹیکسیشن پالیسی کا سارا نزلہ تنخواہ دار طبقے پر ہی گرایا گیا ہے۔

نجی بجلی گھر  صارفین کا خون نچوڑ رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف چینی، اسٹیل، ریل اسٹیٹ، زراعت، سیمنٹ، بینکنگ اور آٹو سیکٹر سے وابستہ اشرافیہ اربوں روپے کی ٹیکس چھوٹ، سبسڈیز اور درآمدی تحفظ کے مزے لوٹ رہی ہے

انہی سیاسی و معاشی فیصلوں کے نتیجے میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ملک کا مڈل کلاس (متوسط طبقہ) بری طرح پس چکا ہے۔ ورلڈ بینک نے ملک میں غربت کی شرح 44.7 فیصد تک پہنچنے پر شدید خطرے کی گھنٹی بجائی تھی، جبکہ حکومت مسلسل بیرونی قرضے حاصل کرنے میں مگن تھی

نام نہاد نو لبرل ازم کے فلسفے اور “کاروبار سے حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں” جیسے نعروں نے ملک کو شدید غربت، بے روزگاری، اسٹریٹ کرائمز کی بڑھتی ہوئی شرح اور سماجی تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا اور پاکستان معاشی میدان میں اپنے علاقائی حریفوں سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو رہا ہے

ملکی معیشت کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے کاروباری رہنماؤں اور معاشی ماہرین نے بجٹ کے حوالے سے کئی اہم تجاویز پیش کی تھیں جو نظر انداز کر دی گئیں۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری  کے بجٹ ایڈوائزری کونسل کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے بتایا تھا کہ ایف پی سی سی آئی نے حکومت کو 90 بجٹ تجاویز ارسال کی تھیں، جس میں حکومت پر زور دیا گیا تھا کہ روایتی ریوینیو اور ٹیکس ہدف پر مبنی طرزِ عمل کے بجائے ترقی پر مبنی پائیدار معیشت پر توجہ مرکوز کی جائے۔

 میاں زاہد حسین نے صنعتوں کے لیے بجلی اور توانائی کے نرخوں کو منطقی بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا تاکہ ملکی برآمدات کو فروغ دیا جا سکے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کر کے غربت کا خاتمہ ممکن ہو۔

 ان کا دعویٰ تھا کہ اگر حکومت ان تجاویز پر عمل کرتی تو مالیاتی سال 2027ء میں ملکی برآمدات میں 10 ارب ڈالر کا اضافہ ہو سکتا تھا، جس سے مجموعی برآمدات 40 ارب ڈالر تک پہنچ جاتیں

 انہوں نے انتباہ بھی کیا تھا کہ ملکی صنعت اب مزید بوجھ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں معیشت مفلوج ہو سکتی ہے، مگر بجٹ دستاویز میں ان کا خیال نہیں رکھا گیا۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی بجٹ تجاویز کی خصوصی کمیٹی کے چیئرمین ابو بکر شمسی نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کی تمام تر توجہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور ٹیکس کی شرح کو کم کرنے پر ہونی چاہیے۔

 انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ریل اسٹیٹ، زراعت، ریٹیلرز، ہول سیلرز اور سروسز جیسے غیر دستاویزی شعبوں کو فوری طور پر ٹیکس نیٹ میں لایا جائے، تاکہ نہ صرف تنخواہ دار ملازمین بلکہ ان کے آجروں (مالکان) کو بھی ریلیف مل سکے۔

انہوں نے واضح کیا تھا کہ ٹیکس نیٹ محدود ہونے کی وجہ سے پاکستان کو برین ڈرین اور ہنر مند مزدوروں کی شدید قلت کا سامنا ہے، جس سے صنعتی کوالٹی کنٹرول متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ جی ایس ٹی میں صرف 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ بھی ملک میں مہنگائی کو 6 فیصد تک بڑھا سکتا ہے، جو کاروباری ماحول کو مزید پُرخطر بنا دے گا

دارسن سیکیورٹیز کے سی ای او دل آویز احمد نے کہا تھا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج آسانی سے 2 لاکھ پوائنٹس کی تاریخی سطح حاصل کر سکتی ہے، بشرطیکہ اس بجٹ میں ‘سپر ٹیکس’ میں کٹوتی کی جائے۔

انہوں نے تجویز دی تھی کہ حکومت کو سپر ٹیکس یکمشت نہیں تو کم از کم چار مسلسل مراحل میں مکمل طور پر ختم کر دینا چاہیے، کیونکہ اس اقدام سے بینکنگ، فرٹیلائزرز اور دیگر بڑے صنعتی شعبوں کے منافع میں نمایاں اضافہ ہوتا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتا

انہوں نے بھی حکومت سے انرجی ٹیرف کو کم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، مگر بجٹ میں نجی شعبے کی ان تجاویز کو یکسر رد کر دیا گیا۔

اسلام آباد کے پالیسی ساز اور مرکزی بینک کے سربراہ ماضی کے معاشی اتار چڑھاؤ سے بچنے کے لیے سست اور مستخکم معاشی ترقی کی گردان تو الاپ رہے ہیں،

 لیکن ان کے پاس اس بات کا کوئی ٹائم فریم یا اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کب کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے بغیر 6 فیصد سے زائد کی مستحکم معاشی ترقی حاصل کرنے کے قابل ہو سکے گا۔ حکومت ماضی میں غیر دستاویزی شعبوں پر ٹیکس لگانے میں بری طرح ناکام رہی ہے

اور اس سلسلے میں پیش کی گئی ‘تاجر دوست اسکیم’ ناقص گورننس کی بدترین مثال بن کر سامنے آئی ہے۔ معیشت کو سدھارنے کے لیے حل اب بھی موجود تھے، مگر پیش کردہ بجٹ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہمارے حکمران معاشی اصلاحات کے لیے قطعی طور پر تیار نہیں ہیں۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp