آئی ایل او کا انڈونیشیا میں معزور محنت کشوں کے لیے تربیتی پروگرام، شراکت داری کا معاہدہ
بجٹ اور مزدور کی مایوسی
لیاقت علی ساہی
————-
پاکستان میں سالانہ بجٹ کی دستاویز محض اعداد و شمار کا گورکھ دھندا نہیں ہوتی، بلکہ یہ ملک کے کروڑوں محنت کشوں، دیہاڑی داروں اور سفید پوش تنخواہ دار طبقے کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔ بدقسمتی سے امسال بھی وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ نے عوام کو شدید مایوس کیا ہے
بجٹ میں تنخواہ دار اور محنت کش طبقے کو کوئی خاطر خواہ ریلیف نہیں دیا گیا، اور حکومت کی جانب سے تنخواہوں میں کیا گیا معمولی اضافہ موجودہ بدترین مہنگائی کے دور میں اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ثابت ہوا ہے۔
بڑھتے ہوئے یوٹیلٹی بلز، گیس، بجلی کے نرخوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اور بے پناہ اضافے کے تناظر میں یہ ریلیف بالکل ناکافی ہے جو عوام کی معاشی مشکلات میں کمی لانے سے قاصر ہے
اس بجٹ کا ایک اور بڑا اور ظالمانہ پہلو پیٹرولیم مصنوعات پر ایک سو روپے سے زائد لیوی کی وصولی کا فیصلہ ہے۔ یہ غریب اور مڈل کلاس عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے، کیونکہ پیٹرول مہنگا ہونے سے براہِ راست ہر بنیادی چیز کی قیمت کو پر لگ جاتے ہیں
حکومت کو چاہیے کہ اس ظالمانہ پیٹرولیم لیوی کو فوری طور پر ختم کرے یا اس میں نمایاں کمی لا کر عوام کو حقیقی معاشی ریلیف فراہم کرے، تاکہ مہنگائی کے ہولناک اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔
اس کے ساتھ ہی، وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے ہمارا یہ پرزور مطالبہ ہے کہ ملک میں کم از کم اجرتوں میں اضافے کا فوری اعلان کیا جائے اور اس پر اسی ماہ یعنی جون ہی سے عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
ہمارے ہاں ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ حکومتوں کی جانب سے اجرتوں میں اضافے کا سرکاری نوٹیفکیشن جاری ہونے کے باوجود، مختلف اداروں میں موجود تھرڈ پارٹی کنٹریکٹرز کئی کئی ماہ تک نئی اجرتیں نافذ نہیں کرتے
جس کے باعث غریب محنت کش اپنے جائز قانونی حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔ متعدد سرکاری اور نجی ادارے اس وقت تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ سسٹم کے ذریعے محنت کشوں کا بدترین استحصال کر رہے ہیں، جسے اب ختم ہونا چاہیے۔ غیر ہنر مند اور ہنر مند دونوں اقسام کے کارکنوں کی تنخواہوں میں ان کی محنت کے مطابق فوری اور مناسب اضافہ وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے
اگر ہم عالمی اور علاقائی صورتحال پر نظر ڈالیں، تو اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سمجھوتے اور کشیدگی میں کمی لانے کی سفارتی کاوشیں انتہائی خوش آئند ہیں۔ خطے میں امن، استحکام اور سفارتی مذاکرات کے فروغ کے لیے ہونے والی یہ کوششیں بلاشبہ قابلِ ستائش ہیں
ہمیں قوی امید ہے کہ تمام فریقین بین الاقوامی مسائل کے حل کے لیے افہام و تفہیم اور مذاکرات کا راستہ اختیار کریں گے تاکہ دنیا کو مزید تباہی اور معصوم انسانی جانوں کے ضیاع سے بچایا جا سکے
اس سلسلے میں، وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی جانب سے امن، مفاہمت اور عالمی سطح پر مذاکرات کے فروغ کے لیے جاری کاوشیں بھی تاریخ کا ایک مثبت حصہ اور قابلِ تحسین اقدام ہیں
آج عالمی سطح پر طاقت کے بل بوتے پر معصوم انسانوں، خواتین اور بچوں کے قتلِ عام کے واقعات دل دہلا دینے والے اور انتہائی افسوسناک ہیں۔ عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ان جارحانہ واقعات کا مؤثر نوٹس لینا چاہیے، ذمہ دار عناصر کا سخت احتساب یقینی بنانا چاہیے اور بے گناہ متاثرین و شہداء کو انصاف فراہم کرنا چاہیے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک معاشی اور سماجی طور پر مستحکم نہیں ہو سکتا جب تک اس کا مزدور اور محنت کش طبقہ خوشحال نہ ہو
حکومت کو چاہیے کہ بجٹ اور اپنی تمام معاشی پالیسیوں کی تشکیل میں سرمایہ داروں کے بجائے محنت کشوں، تنخواہ دار طبقے اور کم آمدن والے غریب افراد کے مفادات کو اولین ترجیح دے، تاکہ ملک میں حقیقی معاشی انصاف، عوامی فلاح اور سماجی استحکام کو فروغ مل سکے۔
———-
تعارف ، لیاقت ساہی اسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈیموکریٹک ورکرز یونین کے سیکریٹری جنرل کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور ملک کے ممتاز سماجی و مزدور رہنما ہیں معاشی پالیسیوں میں تنخواہ دار طبقے، محنت کشوں اور کم آمدنی والے افراد کے حقوق اور مفادات کے تحفظ سمیت مزدور کو معاشی انصاف اور سماجی استحکام کے لیے مسلسل آواز بلند کرتے رہتے ہیں
