آئی ایل او کا انڈونیشیا میں معزور محنت کشوں کے لیے تربیتی پروگرام، شراکت داری کا معاہدہ
محنت کشوں کو مینیمم ویج نہیں لیونگ ویج چاہیے
شاہد خان یوسفزئی
سندھ کی صنعتوں، فیکٹریوں، گارمنٹس یونٹس، ٹیکسٹائل ملوں، کیمیکل، فارماسیوٹیکل، انجینئرنگ، شپ بریکنگ اور تعمیراتی شعبوں سمیت دیگر تمام پیداواری اکائیوں میں لاکھوں مزدور دن رات اپنا خون پسینہ بہا کر ملکی معیشت کا پہیہ چلاتے ہیں۔
یہ انھی محنت کشوں کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے کہ ملک میں کارخانے چلتے ہیں، برآمدات میں اضافہ ہوتا ہے اور سرمایہ دار طبقہ سالانہ اربوں روپے کا منافع کماتا ہے۔
مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہلانے والا یہی مزدور اپنے خاندان کے لیے دو وقت کی روٹی، علاج معالجہ، بچوں کی تعلیم اور چھت جیسی بنیادی انسانی ضروریات حاصل کرنے سے بھی قاصر ہے۔
حکومت کی جانب سے ہر سال روایتی بجٹ پیش کیا جاتا ہے اور مزدوروں کی کم از کم اجرت میں چند ہزار روپے کا معمولی اضافہ کر کے اسے ایک تاریخی کارنامے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ موجودہ دور میں کمر توڑ مہنگائی، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل ہوش ربا اضافے نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے
حکومت کی جانب سے مقرر کردہ موجودہ کم از کم اجرت ایک اوسط مزدور خاندان کے ماہانہ اخراجات کا ایک چوتھائی حصہ بھی پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
اس تلخ حقیقت سے بھی نظریں نہیں چرائی جا سکتیں کہ سندھ کے بڑے صنعتی مراکز بشمول کراچی، حیدرآباد، کوٹری، نواب شاہ اور سکھر جیسے شہروں میں لاکھوں ایسے محنت کش موجود ہیں جنہیں حکومت کی مقرر کردہ کم از کم اجرت بھی نصیب نہیں ہوتی اور وہ مالکان کی من مانی کے باعث اس سے بھی کم تنخواہوں پر بارہ بارہ گھنٹے کام کرنے پر مجبور ہیں۔
دوسری طرف اشیائے خوردونوش، مکانات کے کرایوں، ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور ادویات کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ ان سنگین حالات میں پورا محنت کش طبقہ شدید ترین معاشی دباؤ، ذہنی اذیت اور بدترین استحصال کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔
مزدور محاذِ عمل کا مؤقف بالکل واضح اور دوٹوک ہے کہ اب مزدوروں کو صرف مروجہ مینیمم ویج (کم از کم اجرت) کی تسلی نہیں، بلکہ لیونگ ویج یعنی جینے کے قابل ایسی تنخواہ ملنی چاہیے جس کے ذریعے وہ اس مہنگائی کے دور میں اپنے بچوں کے ساتھ ایک باوقار اور باعزت زندگی گزار سکیں
ملک کے موجودہ بھیانک معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ سندھ بھر میں مزدور کی کم از کم اجرت 80 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جائے اور صرف اعلان ہی نہ ہو بلکہ تمام صنعتی و تجارتی اداروں میں اس پر سختی سے عملدرآمد کو بھی یقینی بنایا جائے
ہم حکومتِ وقت اور متعلقہ مقتدر حلقوں سے درج ذیل مطالبات فوری پورے کرنے کا تقاضا کرتے ہیں سندھ بھر میں مزدور کی کم از کم اجرت فی الفور 80 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جائے اور اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔
تمام نجی، نیم سرکاری، صنعتی اور تجارتی اداروں میں اس مقررہ اجرت پر سو فیصد عملدرآمد کو قانونی طور پر یقینی بنایا جائے کارخانوں میں رائج بدنام زمانہ کنٹریکٹ سسٹم، تھرڈ پارٹی مینوفیکچرنگ اور ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے ملازمین کو فوری طور پر مستقل کیا جائے
تمام رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مزدوروں کے لیے مفت علاج، بچوں کی معیاری تعلیم اور سوشل سکیورٹی کارڈز کی فراہمی کو لازمی بنایا جائے پینشن کے نظام اور ای او بی آئی کے ڈھانچے کو کرپشن سے پاک کر کے مضبوط، شفاف اور مؤثر بنایا جائے
خواتین ورکرز کو مردوں کے مساوی اجرت دی جائے اور کام کی جگہوں پر انہیں ہراساں کیے بغیر محفوظ ماحول فراہم کیا جائے بین الاقوامی قوانین کے تحت فیکٹریوں میں ٹریڈ یونین سازی کے آئینی حق کو بحال کیا جائے اور تمام مزدور دشمن قوانین کا خاتمہ کیا جائے۔
حکمران طبقے کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اگر ملک کا مزدور خوشحال ہوگا تو صنعت چلے گی، معیشت مضبوط ہوگی اور ملک واقعی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا
لیکن اگر ملک کی تقدیر بدلنے والا یہ محنت کش طبقہ یوں ہی غربت، بھوک، افلاس اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبا رہا، تو معاشی ترقی اور خوشحالی کے تمام تر حکومتی دعوے محض کھوکھلے الفاظ ثابت ہوں گے۔
آج وقت کا اہم ترین تقاضا ہے کہ سندھ کے تمام شعبوں سے وابستہ محنت کش، کسان اور مزدور متحد ہوکر اپنے حقوق کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں اور حکومت و سرمایہ دار طبقے کو یہ واضح پیغام دیں کہ اب ہمیں صرف کم از کم اجرت نہیں بلکہ جینے کے قابل اجرت چاہیے۔
مینیمم ویج نہیں، لیونگ ویج چاہیے! کم از کم اجرت 80 ہزار روپے مقرر کرو! محنت کشوں کو باعزت زندگی کا حق دو! مزدور دشمن بجٹ نامنظور!
تعارفعارف ، شاہد خان یوسفزئی مزدور محاذِ عمل کے سینیئر نائب صدر شاہد خان یوسفزئی سندھ کی مزدور تحریک کا ایک معتبر نام ہیں، جو گزشتہ طویل عرصے سے صنعتی ملازمین کے حقوق، طبقاتی اتحاد اور محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لیے صفِ اول میں رہ کر سرگرمِ عمل ہیں وہ سندھ بھر کے صنعتی ورکرز کو درپیش مسائل کے حل، اجرتوں کے تحفظ اور محنت کش طبقے کے پائیدار سماجی و معاشی حقوق کی بحالی کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں
