June 13, 2026

دیہاڑی دار مزدور معاشی بحران کے سائے میں

 دیہاڑی دار مزدور معاشی بحران کے سائے میں

رپورٹ ( معاذ مغل، نمائندہ لیبر نیوز )

ملک کے سب سے بڑے صنعتی و کاروباری شہر کراچی کی معروف شاہراہوں اور مارکیٹ کے فٹ پاتھوں پر صبح کا سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی ایک خاص ہلچل شروع ہو جاتی ہے۔

 یہ شہر بھر سے جمع ہونے والے ان دیہاڑی دار مزدوروں، راج مزدوروں (میسنز)، ترکھانوں (کارپینٹرز) اور رنگ سازوں (پینٹرز) کا ہجوم ہوتا ہے جو اپنے اوزاروں کے تھیلے اٹھائے، دن بھر کی سخت مزدوری کی آس میں سڑک کنارے بیٹھ جاتے ہیں۔

کراچی کی مارکیٹ کی سڑکوں پر روزگار کے مواقع کی تلاش میں گھنٹوں انتظار کرنے والے ان محنت کشوں کی تعداد اور ان کی معاشی حالت موجودہ دور کے سنگین ترین معاشی چیلنجز کی عکاس ہے۔

کراچی کے مختلف علاقوں جیسے کہ صدر، لیاقت آباد، جودھیا بازار، اور ناظم آباد کے چوراہوں پر قائم یہ ‘مزدور چوک’ روزانہ صبح پانچ بجے ہی آباد ہو جاتے ہیں۔ یہاں موجود محنت کشوں کی نظریں سڑک سے گزرتی ہر گاڑی اور بائیک پر ٹکی ہوتی ہیں، اس امید کے ساتھ کہ کوئی گاہک آئے گا اور انہیں کام پر لے جائے گا۔

 ترکھان اور رنگ ساز اپنے برش اور آری سنبھالے، تو راج مزدور اپنے تیشے اور کنڈی صاف کیے گھنٹوں سڑک کنارے بیٹھے رہتے ہیں۔

ان مزدوروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں انہیں مہینے کے 25 سے 26 دن باقاعدگی سے کام مل جاتا تھا، لیکن اب صورتحال بالکل بدل چکی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، تعمیراتی مٹیریل (سیمنٹ، سریا اور رنگ) کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں مندی کے باعث لوگوں نے گھروں کی تعمیر و مرمت کا کام انتہائی محدود کر دیا ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ ان ہنر مندوں کو ہفتے میں بمشکل دو یا تین دن ہی دیہاڑی ملتی ہے، اور باقی دن وہ اسی فٹ پاتھ پر خالی ہاتھ شام کا اندھیرا پھیلے تک انتظار کر کے مایوس لوٹ جاتے ہیں۔

موجودہ معاشی منظرنامے میں ان دیہاڑی دار مزدوروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج روزمرہ کے اخراجات کو پورا کرنا ہے۔ آٹے، چینی، دالوں اور یوٹیلٹی بلوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں،

جبکہ ان کی روزانہ کی اجرت (دیہاڑی) یا تو منجمد ہے یا کام کی شدید مسابقت کی وجہ سے وہ کم پیسوں پر بھی کام کرنے پر مجبور ہیں۔

مزدور چوک پر بیٹھے ایک سینیئر کارپینٹر نے اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے بتایا کہ اگر وہ دن بھر کے انتظار کے بعد خالی ہاتھ گھر لوٹتا ہے، تو گھر میں بچوں کے فاقوں کی نوبت آ جاتی ہے۔

تعمیراتی شعبے کے جمود نے ان لاکھوں خاندانوں کو خطِ غربت سے نیچے دھکیل دیا ہے جو مکمل طور پر روزانہ کی کمائی پر انحصار کرتے ہیں۔ شہر کی بلند و بالا عمارتوں اور چمکتی ہوئی شاہراہوں کے پسِ منظر میں، سڑک کنارے بیٹھے یہ رنگ ساز اور راج مزدور جدید ترقی کے دعووں کے درمیان ایک گہرا تضاد پیش کرتے ہیں۔

پاکستان میں غیر منظم شعبے سے وابستہ ان لاکھوں مزدوروں کے لیے سماجی تحفظ کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہے۔ نہ تو ان کی کوئی کم از کم اجرت مقرر ہے اور نہ ہی کام کے دوران کسی حادثے یا چوٹ کی صورت میں انہیں کوئی طبی یا مالی امداد ملتی ہے۔

فیکٹری ملازمین کی طرح ان دیہاڑی داروں کا کوئی سوشل سیکیورٹی کارڈ یا اولڈ ایج بینیفٹ کا نظام نہیں ہے، جس کی وجہ سے یہ بڑھاپے یا بیماری کی صورت میں بالکل بے آسرا ہو جاتے ہیں۔

ماہرینِ معاشیات کے مطابق، کراچی جیسے معاشی انجن میں دیہاڑی دار طبقے کی یہ حالت ملکی معیشت کی اندرونی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ جب تک تعمیراتی صنعت کو فروغ دینے اور کاروباری لاگت کو کم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہیں کیے جائیں گے،

 تب تک ان ہنر مند ہاتھوں کو روزگار ملنا محال رہے گا۔ کراچی کی مارکیٹ کی سڑکوں پر روزانہ لگنے والی یہ انسانوں کی منڈی حکومت اور پالیسی سازوں سے ایک ہی سوال کرتی ہے کہ ان کی محنت کی قدر کب کی جائے گی اور انہیں باعزت روزگار کی ضمانت کب ملے گی

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp