بھٹہ مزدور تنظیموں کا اعلانِ جنگ
انجینئر جمیل احمد ملک
پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ جس طبقے کے خون پسینے سے چلتا ہے، وہ ملک کا پسا ہوا محنت کش ہے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ اکیسویں صدی کے اس جدید دور میں بھی ہمارے ملک میں جبری مشقت، پیشگی بانڈڈ لیبر اور کارپوریٹ و جاگیردارانہ ہٹ دھرمی کا ایک ایسا ظالمانہ اور لعنتی نظام رائج ہے جو معصوم اور نہتے محنت کشوں کا خون چوس رہا ہے۔
فیصل آباد کے علاقے روشن والا میں حال ہی میں رونما ہونے والا دلخراش اور لرزہ خیز واقعہ اس استحصالی معاشرے کا بین ثبوت ہے،
جہاں بااثر بھٹہ مالک امجد، منشی اورنگزیب اور چوکیدار عابد نے بربریت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے، محض اپنے طبقاتی غرور کی تسکین کے لیے ایک غریب اور بے بس بھٹہ مزدور مختار کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیا
مختار کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ ایک ایسے نظام میں پیدا ہوا تھا جہاں مزدور کو انسان نہیں بلکہ آجر کی ملکیت سمجھا جاتا ہے۔ اس لرزہ خیز قتل نے نہ صرف فیصل آباد بلکہ ملک بھر کی مزدور تنظیموں اور باشعور شہریوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
آج تمام نظریاتی قوتیں، بشمول کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان، آزادی تحریک، بھٹہ مزدور یونین اور پاکستان مزدور کسان پارٹی، مقتول کو انصاف دلانے اور بھٹہ مزدوروں کی حقیقی نمائندگی کے لیے ایک صفحے پر آ چکی ہیں۔
ہم کچے کوئلے کی بھٹیوں میں جلنے والے ان لاکھوں انسانوں کی طرف سے واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اب قاتلوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچائے بغیر ہماری یہ تحریک کسی صورت رکنے والی نہیں ہے۔
مقتول مختار کے پسماندگان، بلکتے ہوئے یتیم بچوں اور بیوہ کو انصاف دلانے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے روشن والا کے مقام پر منعقد ہونے والا مشاورتی اجلاس اس انقلابی عزم کا عکاس تھا کہ اب مزدور طبقہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔
ہم نے برسوں ظلم سہا ہے، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ اس فرسودہ نظام کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جایا جائے۔ تاہم، اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ افسوسناک اور شرمناک امر مقامی انتظامیہ اور پولیس کا رویہ ہے
وہ مقتول کے مظلوم اور بے سہارا خاندان کی دادرسی کرنے اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے بجائے، روایتی گٹھ جوڑ اور مکروہ گٹھ جوڑ کے تحت بااثر بھٹہ مالکان کے وفود کے ساتھ بند کمروں میں خفیہ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جان بوجھ کر تفتیش کو سست روی اور ابہام کا شکار کیا جا رہا ہے تاکہ اصل حقائق پر پردہ ڈالا جا سکے
ستم ظریفی کی انتہا دیکھیے کہ اس لرزہ خیز جرم کے مرکزی ملزمان، بھٹہ مالک امجد اور اس کا منشی اورنگزیب، قانون کی گرفت سے دور سرِعام دندناتے پھر رہے ہیں۔
وہ عبوری ضمانتوں کی قانونی پناہ گاہوں کا سہارا لے کر مقتول کے غریب اور خوفزدہ خاندان پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ آزادی تحریک اور مزدور تنظیموں کے تعاون سے درج کروائی گئی ایف آئی آر واپس لے لیں اور ان کے ساتھ زبردستی مفاہمت کر لیں۔
مظلوموں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، ان کے گھروں کا گھیراؤ کیا جا رہا ہے، لیکن یہ ظالم شاید یہ بھول چکے ہیں کہ اب مقتول مختار اور اس کا خاندان تنہا نہیں ہے۔ اب ان کی پشت پر ملک کی پوری منظم مزدور قوت اور باضمیر وکلاء برادری کھڑی ہے۔
ہم ان ملزمان کی عبوری ضمانتیں منسوخ کرانے کے لیے عدالتوں میں بھرپور قانونی و عوامی طاقت کا مظاہرہ کریں گے۔ پریس کلب اور بار ایسوسی ایشنز نے بھی یقین دلایا ہے کہ وہ اس طبقاتی اور انسانی جنگ میں مظلوم کا پورا ساتھ دیں گے۔
کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان اور بائیں بازو کی دیگر اتحادی جماعتیں مقتول کے خاندان کو ہر سطح پر نہ صرف مفت قانونی امداد فراہم کریں گی، بلکہ ان کی آواز کو ہر عوامی اور صحافتی فورم پر بلند رکھا جائے گا۔
مقامی انتظامیہ کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ اب اس احتجاجی مہم کو صرف فیصل آباد یا روشن والا تک محدود نہیں رکھا جائے گا، بلکہ اسے صوبائی اور قومی سطح پر اٹھا کر ایک ملک گیر انقلابی تحریک کی شکل دی جائے گی،
تاکہ پاکستان کے چپے چپے پر کام کرنے والے بھٹہ مزدور کو یہ احساس ہو کہ اس کی لڑائی لڑنے والے موجود ہیں۔ جب تک پیشگی کے اس جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کا جڑ سے مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا اور جبری مشقت کے شکار تمام محنت کشوں کو حقیقی سماجی و معاشی آزادی نہیں مل جاتی ہماری یہ مشترکہ جدوجہد اور اعلانِ جنگ جاری رہے گا۔ حق اور انصاف کی یہ لڑائی کبھی رائیگاں نہیں جائے گی
تعارف : جمیل احمد ملک پاکستان کی بائیں بازو کی سیاست کا ایک معتبر اور نمایاں نام ہیں، جو اس وقت کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے مرکزی چیئرمین کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے ملک کے محنت کشوں، ہاریوں اور مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں ان کا بنیادی نظریہ کارل مارکس اور لینن کے افکار پر مبنی ہے۔ وہ ملک کے صنعتی و زرعی مزدوروں کے معاشی استحصال کے خلاف، سرمایہ دارانہ نظام کے سامنے ہمیشہ ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑے رہے ہیں انہوں نے کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ اور تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ جیسے استحصالی نظام کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائی ہے وہ ایک ایسے پاکستان کے خواہاں ہیں جہاں محنت کش کو اس کے خون پسینے کی پوری قیمت ملے اور ریاست سچے معنوں میں ایک فلاحی مملکت کا روپ دھار سکے
