June 13, 2026

ڈیجیٹل پلیٹ فارم ورکرز کنونشن 193 منظور،عالمی ٹریڈ یونینز کا خیرمقدم

 ڈیجیٹل پلیٹ فارم ورکرز کنونشن 193 منظور،عالمی ٹریڈ یونینز کا خیرمقدم

رپورٹ ( طیبہ تاثیر، ایڈیٹر لیبر نیوز فارن ڈیسک )

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے سالانہ اجلاس کے دوران دنیا بھر کے محنت کشوں، بالخصوص ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور تیزی سے پھیلتی ہوئی گیگ اکانومی سے وابستہ ورکرز کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے

عالمی مزدور تنظیموں، حکومتوں اور آجروں کے نمائندوں کے درمیان برسوں پر محیط طویل جدوجہد، مباحثوں اور سہ فریقی مذاکرات کے بعد، آن لائن پلیٹ فارم ورکرز کے تحفظ کے لیے تاریخ کے پہلے باضابطہ بین الاقوامی لیبر اسٹینڈرڈ یعنی کنونشن نمبر 193 کو بھاری اکثریت سے منظور کر لیا گیا ہے

اس تاریخی دستاویز پر کانفرنس کے صدر اور ڈی جی آئی ایل او نے باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں، جسے عالمی مزدور تحریک میں ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔

اب گیگ ورکرز قوانین کی نظر میں پوشیدہ نہیں رہے مزدوروں کے حقوق کے لیے سرگرم عالمی ادارے ’سولیڈیرٹی سینٹر‘ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، اب تک دنیا بھر میں رائیڈ ہیلنگ ٹیکسی سروسز، فوڈ ڈیلیوری، لاجسٹکس اور ای کامرس جیسے آن لائن ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے وابستہ کروڑوں کارکنان عالمی لیبر قوانین کی نظر میں پوشیدہ، غیر منظم یا غیر رسمی شعبے کا حصہ شمار ہوتے تھے

کمپنیاں انہیں باقاعدہ ملازم تسلیم کرنے کے بجائے محض آزاد کنٹریکٹرز قرار دے کر اپنی قانونی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کر لیتی تھیں

تاہم اس نئے عالمی معیار کی منظوری کے بعد ان لاکھوں کروڑوں ورکرز کو باقاعدہ قانونی شناخت مل گئی ہے۔ اب یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اور مقامی آن لائن پلیٹ فارمز محنت کشوں کو بنیادی حقوق اور سماجی تحفظ فراہم کرنے سے انکار نہیں کر سکیں گے

بلکہ وہ انہیں مناسب و وقت پر اجرت کی ادائیگی، کام کے محفوظ حالات اور طبی و حادثاتی انشورنس جیسے بنیادی حقوق فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔

سروسز سیکٹر کی عالمی تنظیم یونی گلوبل یونین نے اس نئے کنونشن کو ڈیجیٹل دور میں مزدوروں کی سب سے بڑی اور یادگار فتح قرار دیا ہے۔ یونین کے مطابق یہ تاریخ کا پہلا بین الاقوامی قانون ہے جس میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور خودکار الگورتھمک مینجمنٹ کو باقاعدہ مانیٹرنگ اور قانونی دائرے میں لایا گیا ہے۔

 نئے منظور شدہ قواعد کے تحت تمام آن لائن پلیٹ فارمز اور کمپنیوں کے لیے یہ لازمی ہوگا کہ وہ اپنے کارکنوں پر مکمل واضح اور شفاف کریں کہ ان کا خودکار نظام  کس طرح کام کرتا ہے اور یہ ورکرز کے روزگار، آرڈرز کی تقسیم اور معاوضے کے تعین کو کس طرح متاثر کرتا ہے

سب سے اہم بات یہ کہ ڈیجیٹل ایپس پر کام کرنے والے ورکرز کے اکاؤنٹس کی اچانک معطلی، بلاکنگ یا جرمانے جیسے حساس اور روزگار سے جڑے فیصلوں میںانسانی نگرانی اور مداخلتکو لازمی قرار دیا گیا ہے

اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بے حس کمپیوٹر پروگرام یا الگورتھم کسی بھی مزدور کا چولہا یکطرفہ طور پر بند نہ کر سکے اور ورکرز کو صفائی اور اپیل کا پورا موقع ملے۔

انٹرنیشنل ٹریڈ یونین کنفیڈریشن نے اس بین الاقوامی پیش رفت کا شاندار الفاظ میں خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کنونشن 193 دنیا بھر کے گیگ ورکرز کو انجمن سازی (یونین بنانے) اور اپنے مطالبات کے لیے انتظامیہ کے ساتھ اجتماعی سودے بازی  کا بنیادی اور قانونی حق فراہم کرتا ہے۔ آئی ٹی یو سی کے مطابق، یہ کنونشن ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں روایتی اور مستقل ملازمتوں کا رجحان کم ہو رہا ہے اور اس کی جگہ ڈیجیٹل عارضی روزگار لے رہا ہے

ایسے میں اس قانون کے ذریعے دنیا کے ہر خطے کے محنت کش کو کارپوریٹ استحصال سے بچانے کے لیے ایک مضبوط عالمی حفاظتی نیٹ فراہم کر دیا گیا ہے۔

اس عالمی کانفرنس کی ایک اور خوش آئند بات یہ رہی کہ پاکستان کے سرکاری حکام، آجروں اور مزدور رہنماؤں پر مشتمل سہ فریقی وفد اس تاریخی قانون سازی کے موقع پر مکمل طور پر ایک پیج پر نظر آیا اور پاکستانی وفد نے متفقہ طور پر اس کنونشن کے حق میں اصولی موقف اختیار کیا۔

عالمی مزدور رہنماؤں نے مذاکرات کی کامیابی پر دنیا بھر کے ورکر ڈیلیگیٹس اور یونینز کے غیر متزلزل عزم اور یکجہتی کو سراہتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کنونشن 193 کی منظوری تو محض پہلا مرحلہ تھا

 اصل چیلنج اس کا نفاذ ہے اب اگلا ہدف دنیا بھر کی حکومتوں، بشمول پاکستان، سے اس بین الاقوامی قانون کی مقامی پارلیمان سے توثیق کروانا اور اسے ملکی قوانین کا حصہ بنا کر اس کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانا ہے، تاکہ ڈیجیٹل دنیا کے معماروں کو ان کا جائز حق مل سکے۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp