پاکستان میں غیر ہنر مندی کا بحران
Skill competency development concept. Up new ability skill training for technology evolution. Leadership thinking upskill. Hand hold wooden cube, soft skill digital icon. Education learning talent
امیر صدیقی ، ن مائندہ لیبر نیوز
پاکستان اس وقت دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے تاہم یہ آبادیاتی منافع ملک کے لیے ایک سنگین چیلنج بنتا جا رہا ہے کیونکہ روایتی تعلیمی نظام مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنر مند افرادی قوت پیدا کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔
موجودہ معاشی بحران اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے دور میں، ماہرینِ تعلیم اور اقتصادی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹیکنیکل اور ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ ہی پاکستان کے لیے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے اور معیشت کو پٹری پر لانے کا واحد اور فوری راستہ ہے
پاکستان میں ہر سال لاکھوں طلبہ یونیورسٹیوں سے آرٹس، کامرس اور دیگر روایتی شعبوں میں ڈگریاں لے کر نکلتے ہیں، لیکن ان کے پاس کوئی عملی ہنرنہیں ہوتا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مارکیٹ میں ملازمتیں محدود ہونے کے باعث گریجویٹس کی ایک بڑی فوج بے روزگار گھوم رہی ہے،
جبکہ دوسری طرف مقامی اور بین الاقوامی صنعتوں کو پلمبرز، الیکٹریشنز، ویلڈرز، ڈیٹا اینالسٹ، سافٹ ویئر ڈیولپرز اور جدید مشینری چلانے والے ہنر مندوں کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ اس خلیج نے ملکی پیداواری صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ صنعتی شعبے کا کہنا ہے کہ انہیں ‘کاغذی ڈگریوں’ کے بجائے ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو کام کا عملی تجربہ رکھتے ہوں
پاکستان میں تکنیکی تعلیم کے فروغ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سماجی رویے ہیں۔ معاشرے میں آج بھی ووکیشنل ٹریننگ یا ڈپلومہ کرنے والے نوجوانوں کو روایتی یونیورسٹی کی ڈگری رکھنے والوں کے مقابلے میں کم تر سمجھا جاتا ہے۔ اس منفی تاثر کے باعث والدین اور طلبہ تکنیکی اداروں کا رخ کرنے سے کتراتے ہیں
اس کے علاوہ، پاکستان میں ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹس (جیسے نیوٹیک اور ٹیوٹا) فنڈز کی کمی، پرانے نصاب اور فرسودہ مشینری کے مسائل سے دوچار ہیں۔ کئی اداروں میں آج بھی وہ کورسز پڑھائے جا رہے ہیں جن کی جدید صنعتی دنیا میں کوئی طلب نہیں ہے۔ اساتذہ کی جدید خطوط پر تربیت نہ ہونا اور انڈسٹری کے ساتھ کمزور روابط اس بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں
خلیجی ممالک جی سی سی، یورپ اور اب جاپان و جنوبی کوریا جیسے ممالک میں ہنر مند افرادی قوت کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماضی میں پاکستان زیادہ تر غیر ہنر مند یا نیم ہنر مند لیبر باہر بھیجتا رہا ہے،
جس کی وجہ سے پاکستانی ورکرز کو کم اجرت ملتی ہے۔ اگر حکومت جدید تقاضوں، جیسے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ اور نرسنگ وغیرہ میں نوجوانوں کو عالمی معیار کے مطابق ڈپلومے کروائے، تو نہ صرف ملکی بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا بلکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں اربوں ڈالر کا اضافہ ممکن ہے، جو ملکی معیشت کے لیے آکسیجن کا درجہ رکھتی ہیں۔
لیبر ماہرین کے مطابق، اگر پاکستان کو اپنے نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے تو حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر تعلیمی ایمرجنسی نافذ کر کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ تکنیکی تعلیم کے لیے مختص کرنا ہوگا۔ نصاب کو جرمنی اور جاپان جیسے ممالک کے ماڈلز پر استوار کرنے کی ضرورت ہے جہاں ‘ڈیوئل ٹریننگ سسٹم’ (صنعت اور انسٹی ٹیوٹ کا مشترکہ نظام رائج ہے۔
ساتھ ہی نجی شعبے اور فیکٹری مالکان کو تربیتی عمل میں شامل کرنا ہوگا تاکہ طلبہ کو براہِ راست فیلڈ کا تجربہ مل سکے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میڈیا اور سیمینارز کے ذریعے تکنیکی ہنر کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے تاکہ نوجوانوں میں یہ شعور بیدار ہو کہ ‘ہنر مند ہاتھ کبھی بھوکا نہیں مرتا۔ پاکستان کی بقا اب صرف اکیڈمک ڈگریوں میں نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی اور عملی مہارتوں کو اپنانے میں پنہاں ہے۔
