چائلڈ لیبر کا سنگین بحران، 60 لاکھ سے زائد بچے متاثر
زمان سیف ، نمائندہ لیبر نیوز لاہور
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں چائلڈ لیبر بچوں سے مزدوری کا مسئلہ ایک انتہائی سنگین اور خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ حالیہ سرکاری و غیر سرکاری ذرائع سے سامنے آنے والے چونکا دینے والے انکشافات کے مطابق اس وقت صوبے میں 60 لاکھ سے زائد بچے چائلڈ لیبر کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔
حکومت اور متعلقہ محکموں کی جانب سے بلند و بانگ دعووں کے باوجود، بیوروکریسی کی سستی اور فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث اس ناسور کے خاتمے کے لیے بنائے گئے تمام تر منصوبے اور ‘ایکشن پلانز’ محض فائلوں تک ہی محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔
پنجاب میں 5 سے 14 سال کی عمر کے بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد سکول جانے کے بجائے آٹو ورکشاپس، اینٹوں کے بھٹوں، ہوٹلوں اور گھروں میں مزدوری کرنے پر مجبور ہے
محکمہ لیبر پنجاب نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک جامع تین سالہ ‘چائلڈ لیبر ایکشن پلان تیار کیا تھا، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ اس پلان پر عملدرآمد کے لیے تاحال فنڈز جاری نہیں کیے جا سکے
فنڈز کی اس شدید قلت کے باعث ایک سال کے عرصے میں صوبہ بھر سے صرف 2 ہزار بچوں کو چائلڈ لیبر سے نکالا جا سکا، جو کہ 60 لاکھ کی مجموعی تعداد کے سامنے سمندر میں ایک قطرے کے برابر ہے۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ مناسب مانیٹرنگ اور مالی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے ان نکالے گئے بچوں میں سے 40 فیصد بچے دوبارہ تعلیمی نظام سے ڈراپ آؤٹ ہو کر مجبوری کے تحت اسی مزدوری کی زندگی میں واپس لوٹ چکے ہیں
پنجاب کے چار بڑے اضلاع لاہور، رحیم یار خان، ساہیوال اور سرگودھا میں چائلڈ لیبر سے نکالے گئے بچوں کی ذہنی و جسمانی بحالی، رہائش اور تعلیم کے لیے جدید ری ہیبیلیٹیشن سینٹرز قائم کرنے کی تجویز دی گئی تھی
اس منصوبے کے تحت ہر سینٹر کے لیے 2 ایکڑ رقبہ مختص کیا جانا تھا، جہاں 200 بچوں کو بیک وقت رکھنے کی گنجائش ہونی تھی۔
اس منصوبے کے لیے سال 2024ء میں مانگی گئی فنڈنگ تاحال جاری نہیں ہو سکی۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے محکمہ لیبر نے حکومت سے 1 ارب 23 کروڑ روپے کے فنڈز کا مطالبہ کیا تھا، لیکن حکومتی ترجیحات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ فنڈز دینے کے بجائے محکمہ کو یہ اسکیم ہی واپس لینے کی ہدایت کر دی گئی۔
صوبے میں بچوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے ‘چائلڈ پروٹیکشن بیورو’ کے اپنے وسائل اس حد تک محدود ہو چکے ہیں کہ وہ اب صرف انتہائی سنگین اور تشدد کے کیسز پر ہی توجہ مرکوز کرنے کے قابل رہ گیا ہے
عام سطح پر گلی محلوں اور بازاروں میں کام کرنے والے لاکھوں بچے اس ادارے کی پہنچ سے دور ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے غریب خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے ‘فیملی انڈومنٹ فنڈ’ جیسی مستقل تجاویز پر عمل نہیں کیا جاتا، تب تک بچوں کو دوبارہ مزدوری پر مجبور ہونے سے نہیں روکا جا سکتا۔
اس تمام تر مایوس کن صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل لیبر پنجاب کا کہنا ہے کہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، چائلڈ لیبر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے لیے صوبے میں چائلڈ لیبر کورٹس کو جلد فعال کر دیا جائے گا
انہوں نے مزید بتایا کہ تعطل کا شکار ہونے والے بحالی مراکز کے قیام کے لیے حکومت سے دوبارہ فنڈز طلب کر لیے گئے ہیں۔ تاہم، زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ جب تک بجٹ میں بچوں کے مستقبل کو ترجیح نہیں دی جائے گی، پنجاب کی سڑکوں پر اوزار اٹھائے معصوم بچپن یونہی سسکتا رہے گا۔
