آئی ایل او کا انڈونیشیا میں معزور محنت کشوں کے لیے تربیتی پروگرام، شراکت داری کا معاہدہ
آل پاکستان وومن ورکرز کانفرنس میں ملک گیر تحریک کا اعلان، لیبر کوڈز پر تحفظات
رپورٹ ، عمیر شاہ، نمائندہ لیبر نیوز
ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کے زیرِ اہتمام آرٹس کونسل کراچی میں منعقدہ آل پاکستان وومن ورکرز کانفرنس میں مزدور رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کے مندوبین نے غریب خواتین محنت کشوں کے لیے محفوظ حالاتِ کار، صنفی مساوات اور کم از کم اجرت کے بجائے باوقار لیونگ ویج کی فراہمی کا پرزور مطالبہ کیا ہے
کانفرنس کا آغاز روایتی طور پر مزدوروں کے عالمی ترانے دی انٹرنیشنل سے ہوا۔ ٹیکسٹائل اور گارمنٹ سیکٹر سے وابستہ ملک بھر کی خواتین نے اس کانفرنس میں شرکت کر کے معاشی استحصال اور سماجی ناانصافی کے خلاف فرنٹ لائن پر جدوجہد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا
تقریب سے زہرہ خان، اسد اقبال بٹ، حبیب الدین جنیدی، ناصر منصور، ڈاکٹر لبنا ناز، مظہر عباس اور حسنیٰ خاتون سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
کانفرنس کے پہلے سیشن میں ٹیکسٹائل اور گارمنٹ فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین نے صنفی امتیاز، اجرت کی چوری، جنسی و نفسیاتی ہراسمنٹ اور غیر قانونی برطرفیوں کے خلاف اپنی مزاحمت کی سچی کہانیاں شیئر کی گئی

ایک گارمنٹ فیکٹری کی ورکر زبیدہ محمد بخش نے، جو بین الاقوامی برانڈز کے لیے کپڑے تیار کرتی ہیں، کام کی جگہ پر ہراسمنٹ کے خلاف اپنی دو سالہ طویل قانونی جنگ کی کامیابی کا احوال سنایا۔ ان کی اس جدوجہد کے نتیجے میں ملوث افراد کو سزا ہوئی، جس نے فیکٹریوں میں قائم خوف اور خاموشی کے کلچر کو توڑا۔
اسی طرح زرین، تہرین، سومیہ اور بشریٰ نامی خواتین نے بھی اجرت کی چوری اور غیر قانونی برطرفی کے خلاف اپنی کامیاب تحریکوں کا ذکر کیا، جس پر ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کی دستاویزی فلم کو سراہا گیا
سیشن کی صدارت کرتے ہوئے نامور سماجی کارکن نرگس رحمان نے کہا کہ یہ کانفرنس اس بات کا ثبوت ہے کہ اب خواتین ورکرز ایک منظم اور ناقابلِ شکست قوت بن چکی ہیں

دوسرے سیشن میں مقررین نے پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے ٹیکسٹائل اور گارمنٹ سیکٹر کے چیلنجز پر تفصیلی تجزیہ پیش کیا۔ اگرچہ یہ شعبہ ملکی برآمدات کا نصف سے زائد حصہ پیدا کرتا ہے، لیکن یہاں کام کرنے والے دو کروڑ سے زائد کارکنان، بالخصوص خواتین، شدید استحصال کا شکار ہیں
فیکٹریوں میں تحریری معاہدوں کا نہ ہونا، غیر قانونی ٹھیکیداری نظام (کانٹریکٹ لیبر)، اور سوشل سیکیورٹی یا ای او بی آئی پینشن کی سہولیات سے محرومی عام ہے۔
صنعتی افرادی قوت میں خواتین کا مجموعی حصہ 22 فیصد ہے، لیکن ٹیکسٹائل اور گارمنٹ سیکٹر میں ان کی شرح 30 فیصد سے زائد ہے

جہاں انہیں مردوں کے مقابلے میں یکساں کام کے لیے انتہائی کم اجرت دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، ملک میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد ہوم بیسڈ گھروں میں کام کرنے والی خواتین ورکرز ہیں، جن کی بڑی تعداد سندھ میں ہے، جو قانون سازی کے باوجود اب بھی بنیادی حقوق سے دور ہیں
مزدور رہنماؤں نے پنجاب میں متعارف کرائے گئے نئے لیبر کوڈ کو اینٹی ورکر قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی اور عزم ظاہر کیا کہ مزدور دشمن قوانین کے خلاف سخت مزاحمت کی جائے گی
انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے مزدور نمائندوں کے ساتھ جاری مشاورتی عمل کا خیرمقدم کیا۔ کانفرنس میں شریک صوبائی وزیرِ محنت سعید غنی نے خواتین کو یقین دلایا کہ سندھ میں مزدوروں کی مشاورت کے بغیر کوئی قانون سازی نہیں ہوگی۔ انہوں نے ہوم بیسڈ اور زرعی شعبے کی خواتین کے لیے کی گئی قانون سازی کا ذکر کرتے ہوئے کانفرنس کی سفارشات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کروائی۔ اس موقع پر خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے 9 رکنی ’پاکستان ٹیکسٹائل گارمنٹ وومن ورکرز کمیٹی‘ بھی منتخب کی گئی

انفرنس کے اختتام پر متفقہ طور پر ایک جامع قرارداد منظور کی گئی جس میں مطالبہ کیاگیا کہ ملک بھر میں کم از کم اجرت کے بجائے فوری طور پر لیونگ ویج کا نفاذ کیا جائے
فیکٹریوں میں ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کر کے تمام ورکرز کو اپوائنٹمنٹ لیٹر، سوشل سیکیورٹی اور ای او بی آئی کارڈز دیے جائیں جنسی ہراسمنٹ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت ہر فیکٹری میں خواتین کی نمائندگی کے ساتھ اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیاں لازمی بنائی جائیں
بڑھتی ہوئی گرمی کے پیشِ نظر فیکٹریوں میں لازمی درجہ حرارت کنٹرول سسٹم، وینٹیلیشن، اضافی پیڈ بریک، اور سال میں دو بار خواتین کا مفت طبی معائنہ یقینی بنایا جائے

بین الاقوامی برانڈز عالمی سپلائی چین میں سستی لیبر کا ماڈل ختم کریں اور تجارتی معاہدوں میں ٹریڈ یونین کے حقوق شامل کریں مزدور تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اگلے 6 ماہ کے اندر ان مطالبات پر ٹھوس پیش رفت نہ ہوئی، تو لیبر ڈیپارٹمنٹس اور برانڈز کے دفاتر کے باہر احتجاج کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے ملک گیر آل پاکستان ورکرز مارچ کا آغاز کر دیا جائے گا۔
