June 20, 2026

پائلر کا کرامت علی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس

 پائلر کا کرامت علی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس

رپورٹ،  فیضان شیخ ، نمائندہ لیبر نیوز

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ  کے زیرِ اہتمام آرٹس کونسل کراچی میں محنت کش اور موجودہ معاشی صورتحال کے عنوان سے ایک اہم کانفرنس منعقد ہوئی

یہ تقریب پائلر کے بانی اور ملک کے ممتاز مزدور رہنما مرحوم کرامت علی کی یاد اور ان کی تاحیات جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کی گئی، جنہوں نے پائلر اور پاکستان فشر فوک فورم  جیسے بڑے پلیٹ فارمز کی بنیاد رکھنے اور انہیں بلندیوں تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

پروگرام میں نظامت کے فرائض شرافت علی کی صاحبزادی عابدہ نے انجام دیے کانفرنس میں ملک کے مایہ ناز معیشت دانوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور ٹریڈ یونین رہنماؤں نے شرکت کر کے ورکرز کے حقوق، سانحہ بلدیہ کیس اور حالیہ بجٹ کے اثرات کا گہرا تجزیاتی احاطہ کیا

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین نے بطور سینئر معیشت دان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک تشویشناک معاشی حقیقت کی نشاندہی کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کی 80 سے 85 فیصد غیر رسمی معیشت اس وقت کسی بھی قسم کے سماجی، معاشی اور ماحولیاتی تحفظ کی پالیسیوں سے یکسر محروم ہے

انہوں نے مینوفیکچرنگ سیکٹر کے آؤٹ سورس ہونے اور گیگ اکانومی (رائیڈ ہیلنگ اور فوڈ ڈیلیوری ورکرز) کے تیزی سے پھیلتے ہوئے دائرے کا ذکر کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ بجٹ فریم ورک میں ان لاکھوں محنت کشوں کے قانونی و مالی تحفظ کے لیے کوئی اقدامات شامل نہیں

ڈاکٹر عشرت حسین نے امیر اور غریب کے درمیان تیزی سے بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری کو معاشرتی ہم آہنگی اور ملکی بقا کے لیے ’’سانپ کا زہر‘‘ قرار دیا، جو پورے سماجی تانے بانے کو تباہ کر رہا ہے۔

پائلر کے ڈائریکٹر عباس حیدر نے اپنے خطاب میں مجوزہ سندھ لیبر کوڈ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے ذریعے بنیادی اصطلاحات کو مبہم بنا کر مزدوروں کے دیرینہ حقوق سلب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے

انہوں نے پائلر کی حالیہ فیلڈ ریسرچ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ غریب اور صنعتی علاقوں میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ نے نہ صرف روزمرہ دہاڑی داروں کے لیے معاشی عدم تحفظ پیدا کیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں شدید ذہنی تناؤ کی وجہ سے گھریلو تشدد کی شرح میں بھی خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

عباس حیدر نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کا تذکرہ کرتے ہوئے فیکٹری مالکان اور کام کی جگہ پر حفاظت کو یقینی بنانے والے متعلقہ حکومتی اداروں کی مجرمانہ غفلت کو 259 مزدوروں کی موت کا اصل ذمہ دار ٹھہرایا

انہوں نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کمزور استغاثہ اور اصل حقائق کو چھپانے کے باعث آج 14 سال گزرنے کے بعد بھی متاثرہ خاندان انصاف سے محروم ہیں اور ملزمان کی بریت کارپوریٹ سیکٹر کو مزدوروں کی زندگیوں سے کھیلنے کا ایک خطرناک سگنل دے رہی ہے، جس سے صنعتی تحفظ مخدوش ہونے کا خدشہ ہے

مہمانِ اعزاز اور معروف ماہرِ تعمیرات و اربن پلانر عارف حسن نے پینل گفتگو کے دوران واضح کیا کہ گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے اب سب سے زیادہ غریب طبقہ متاثر ہو رہا ہے، جس کے لیے اب کمیونٹی اور گھریلو سطح پر فوری ساختی تبدیلیاں لانا ہوں گی

انہوں نے محنت کشوں کی گنجان آباد بستیوں کے لیے کم لاگت اور عملی حل تجویز کرتے ہوئے کہا کہ گھروںمیں ہوا کا گزر، انسولیٹڈ چھتوں کی تعمیر اور دیواروں پر ریفلیکٹو کوٹنگز جیسے سستے اقدامات کو سرکاری سطح پر فروغ دیا جائے تاکہ شدید گرمی کی لہروں کے ہلاکت خیز اثرات کو کم کیا جا سکے

کانفرنس کے اختتام پر شرکا اور مزدور تنظیموں نے متفقہ طور پر حکومت کے سامنے درج ذیل مطالبات پیش کیے حکومتِ وقت ماحولیاتی تبدیلیوں اور تپش میں اضافے کو محض ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ مزدوروں کا معاشی بحران تسلیم کرے

وفاقی و صوبائی بجٹ میں ایسے ٹھوس ساختی اقدامات کیے جائیں جس سے ماحولیاتی ایمرجنسی کا غریب اور محنت کش طبقے پر پڑنے والا غیر متناسب مالی بوجھ کم ہو سکے

شرکاۓ نے سانحہ بلدیہ کے متاثرین کے لیے گروپ انشورنس کیسز کا کمشنر کورٹ میں فوری فیصلہ کیا جائے اور ملک بھر کی فیکٹریوں میں کارپوریٹ سیفٹی قوانین کا سخت آڈٹ یقینی بنایا جائے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp