June 13, 2026

بجٹ 2026 اور ہائی جیک شدہ معیشت کیا محنت کش کو ریلیف مل سکے گا؟

 بجٹ 2026 اور ہائی جیک شدہ معیشت کیا محنت کش کو ریلیف مل سکے گا؟

رپورٹ ( حسن خان ، ہیڈ کامرس اینڈ ٹریڈ ڈیسک )

پاکستان میں نئے مالیاتی بجٹ کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں، تاہم معاشی ماہرین اور عوامی حلقوں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی بجٹ طویل مدتی معاشی منصوبے کے بجائے محض ایک حکومتی نفاذ کی دستاویز بن کر رہ جائے گا

جس میں ورکنگ کلاس یعنی محنت کش طبقے کے لیے کسی ریلیف کی امید نظر نہیں آتی۔ اگرچہ حکومتی نمائندے اور مالیاتی مشیر روایتی اعداو شمار کا سہارا لے کر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ملک معاشی استحکام حاصل کر چکا ہے اور جاری مالی سال  کا مالیاتی خسارہ 21 سال کی کم ترین سطح پر ریکارڈ کیا جائے گا

لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ملک میں جی ڈی پی کی شرحِ نمو آبادی کے بڑھنے کی رفتار سے مطابقت نہیں رکھتی اور نہ ہی مستقبل قریب میں کسی بڑی سرمایہ کاری کے آثار دکھائی دے رہے ہیں

مبصرین کا کہنا ہے کہ جس طرح عالمی مالیاتی فنڈ  بجٹ کی شرائط طے کرتا ہے، اور جس طرح ٹیکسیشن پالیسی کا سارا بوجھ تنخواہ دار طبقے پر ڈال دیا جاتا ہے، اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی معیشت مکمل طور پر چند بااثر طبقات کے ہاتھوں ہائی جیک ہو چکی ہے

ایک طرف آزاد بجلی گھر صارفین کا خون چوس رہے ہیں، تو دوسری طرف شوگر، اسٹیل، رئیل اسٹیٹ، زراعت، سیمنٹ، بینکنگ اور آٹو سیکٹر سے وابستہ اشرافیہ اربوں روپے کی ٹیکس چھوٹ، سبسڈیز اور درآمدی تحفظ کے مزے لوٹ رہی ہے

عالمی بینک کی رپورٹس کے مطابق ملک میں غربت کی شرح 44.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے، لیکن اس کے باوجود حکومت کی تمام تر توجہ صرف مزید قرضے لینے پر مرکوز ہے۔ نیو لبرل معاشی پالیسیوں اور ‘بزنس سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں’ جیسے نعروں نے ملک کو شدید غربت، بے روزگاری اور سماجی تقسیم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے بجٹ ایڈوائزری کونسل کے چیئرمین میاں زاہد حسین کے مطابق انہوں نے حکومت کو 90 بجٹ تجاویز ارسال کی ہیں

انہوں نے زور دیا کہ حکومت روایتی ریونیو بڑھانے کے بجائے گروتھ بیسڈ پائیدار معیشت پر توجہ دے۔ انہوں نے صنعتوں کے لیے بجلی اور توانائی کے نرخوں کو اعتدال پر لانے کا مطالبہ کیا تاکہ برآمدات کو فروغ ملے اور روزگار کے مواقع پیدا ہو سکیں

ان کا دعویٰ ہے کہ اگر ان تجاویز پر عمل کیا گیا تو آئندہ مالی سال میں ملکی برآمدات 10 ارب ڈالر کے اضافے کے ساتھ 40 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، بصورتِ دیگر صنعتیں مزید بوجھ برداشت نہیں کر پائیں گی۔

دوسری جانب، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی بجٹ تجاویز کمیٹی کے چیئرمین ابوبکر شمسی کا کہنا ہے کہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور ٹیکس کی شرح کو کم کرنا ہوگا۔

انہوں نے رئیل اسٹیٹ، زراعت، ریٹیلرز اور ہول سیلرز جیسے غیر دستاویزی شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ٹیکس کے محدود دائرے کی وجہ سے ملک کو پڑھے لکھے طبقے کی ہجرت اور ہنرمند افرادی قوت کی شدید کمی کا سامنا ہے

اس کے علاوہ، جی ایس ٹی میں ایک فیصد کا ممکنہ اضافہ مہنگائی کو مزید 6 فیصد تک بڑھا سکتا ہے، جو کاروبار کے لیے تباہ کن ہوگا

مالیاتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت بجٹ میں ‘سپر ٹیکس’ کا خاتمہ کر دے تو پاکستان اسٹاک ایکسچینج آسانی سے 2 لاکھ پوائنٹس کی تاریخی سطح عبور کر سکتی ہے۔

ڈارسن سیکورٹیز کے سی ای او دل آویز احمد کے مطابق سپر ٹیکس کو یکمشت یا چار اقساط میں ختم کرنے سے بینکنگ اور فرٹیلائزر جیسے بڑے شعبوں کے منافع میں اضافہ ہوگا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔

اگرچہ اسلام آباد کے پالیسی ساز اور اسٹیٹ بینک کے گورنر ماضی کے معاشی بحرانوں سے بچنے کے لیے سست اور مستحکم ترقی کی وکالت کر رہے ہیں، لیکن ان کے پاس اس بات کا کوئی حتمی جواب نہیں کہ پاکستان کب کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے بغیر 6 فیصد سے زائد کی پائیدار معاشی ترقی حاصل کر پائے گا

حکومت ماضی میں تاجر دوست اسکیم جیسی پالیسیوں کے ذریعے بڑے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے میں بری طرح ناکام رہی ہے، جو ناقص گورننس کی ایک واضع مثال ہے

معاشی ماہرین کے مطابق معیشت کو سدھارنے کے حل موجود ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے حکمران طبقے میں ان اصلاحات کو نافذ کرنے کی حقیقی مرضی موجود ہے؟ کیونکہ معاشی اصلاحات اجتماعی کوششوں سے ہوتی ہیں، کسی معجزے سے نہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp