او آئی سی سی آئی کا وفاقی بجٹ کا خیرمقدم، کیش اکانومی میں اضافے اور ریفنڈز پر تشویش کا اظہار
کراچی ( لیبر نیوز ویب ڈیسک ) اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو ساختی اصلاحات کا حامل قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم معیشت کو دستاویزی نہ بنانے اور سیلز ٹیکس معاملات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے
چیمبر کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے 13 کھرب روپے کی قابلِ ذکر وصولی کا بڑا حصہ پہلے سے ٹیکس نیٹ میں شامل اداروں سے لیا گیا، جبکہ غیر رسمی کیش اکانومی گزشتہ سال کے 9 کھرب سے 33 فیصد اضافے کے ساتھ 12 کھرب روپے تک پہنچ گئی ہے، جسے چیمبر نے پالیسی ناکامی قرار دیا
او آئی سی سی آئی نے سپر ٹیکس میں جزوی نرمی، برآمدی آمدن پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی 2 سے 1.25 فیصد اور رئیل اسٹیٹ ٹیکسوں کی تنظیم نو کا خیرمقدم کیا ہے
بیان میں فیس لیس اسیسمنٹ نظام کو اہم اصلاح قرار دیتے ہوئے تشویش ظاہر کی گئی کہ بجٹ میں آئل ریفائنریز کے لیے سیلز ٹیکس اسٹیٹس کی بحالی اور کارپوریٹ ریفنڈز کی ادائیگی کے لیے کوئی واضح میکانزم شامل نہیں کیا گیا، جو سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
