محنت کش اور گروپ انشورنس کی ادائیگیاں
قاضی تحسین احمد ہاشمی
گزشتہ چند سالوں سے سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں یہ خبر وقفے وقفے سے گردش کر رہی ہے کہ فلاں صوبائی عدالت، ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ آف پاکستان نے یہ حتمی فیصلہ دے دیا ہے کہ سرکاری محکموں کے ریٹائرڈ ملازمین کو ان کی گروپ انشورنس کی رقم فوری ادا کی جائے
اس امر میں کوئی دو رائے نہیں اور نہ ہی کوئی شک ہے کہ یہ رقم ان ملازمین کا سو فیصد جائز اور قانونی حق ہے۔ ان ملازمین نے اپنی زندگی کے 25 سے 45 سال تک ہر ماہ اپنی تنخواہوں سے ایک خاص رقم انشورنس کی مد میں حکومتِ پاکستان کے پاس جمع کرائی ہے
لیکن تلخ باطنی حقیقت یہ ہے کہ عدالتی فیصلوں کی ان خبروں کے باوجود آج تک کسی بھی عام ریٹائرڈ ملازم کو اس گروپ انشورنس کی رقم کی عملی ادائیگی نہیں ہو سکی۔
یہاں ایک اہم اور سنجیدہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ خبریں پھیلانے اور ان کو ہوا دینے والے عناصر کون ہیں؟ اگر اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو بغیر کسی شک و شبہ کے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ چند مفاد پرست وکلاء کی کمائی کا ایک باقاعدہ راستہ اور ایک منظم ہتھکنڈا ہے
یہ وکلاء اس طرح کی سنسنی خیز اور گمراہ کن خبریں پھیلا کر بوڑھے اور سیدھے سادھے ریٹائرڈ ملازمین کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، اور انہیں انشورنس کی رقم کے حصول کے لیے عدالت میں کیس رجسٹرڈ کرانے کا جھانسا دیتے ہیں
ملازمین اپنی جمع پونجی بچانے کی جلد بازی اور رقم ملنے کی امید میں ان وکلاء کو اپنا کیس سونپ دیتے ہیں، جو ان سے بھاری ایڈوانس فیسیں بٹور لیتے ہیں
کچھ عرصہ گزرنے کے بعد جب کوئی پریشان حال ملازم اپنے کیس کی پیشرفت پوچھتا ہے، تو وکیل صاحب روایتی طفل تسلیاں دیتے ہوئے فرماتے ہیں آپ بے فکر ہو جائیں، جیسے ہی حکومت کی طرف سے انشورنس کی رقوم کی ادائیگی شروع ہوگی، آپ کا کیس سب سے پہلے نمٹایا جائے گا
میں اپنے ان سادہ لوح سرکاری ملازمین بھائیوں کے سامنے ایک سیدھا سا سوال رکھنا چاہتا ہوں؛ اگر کوئی صوبائی یا وفاقی عدالت اس سلسلے میں کوئی اصولی فیصلہ صادر کرے گی تو کیا وہ ادائیگی صرف کیس داخل کرنے والے ایک مخصوص شخص کو ہوگی؟
ہرگز نہیں! عدالت کا فیصلہ پورے پاکستان کے ہر سرکاری ریٹائرڈ ملازم کے لیے یکساں لاگو ہوگا اور محکمہ خود سب کو ادائیگی کا پابند ہوگا۔
چلیں، ایک لمحے کے لیے ان وکلاء کی منطق مان بھی لیں کہ رقم صرف کیس کرنے والے کو ملے گی، تب بھی اس اندھی دوڑ میں جلد بازی کے بجائے ہوش مندی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ اس نام نہاد قانونی چکر میں رقوم جمع کرانے والے سینکڑوں معمر افراد تو دنیا سے رخصت ہو کر اللہ کے پاس چلے گئے،
اور اب ان کے لواحقین عدالتوں اور چیمبرز کے چکر کاٹ کر پریشان ہیں کہ رقم کب ملے گی؟ جبکہ وکلاء کے جوابات آج بھی وہی پرانے ہیں
بلکہ اب تو ان سے مزید پیسے بٹورنے کے لیے ‘سکسیشن سرٹیفکیٹ’ (جانشینی کا سرٹیفکیٹ) بنوانے کے نئے متبادل مکر و فریب شروع کر دیے گئے ہیں۔
سب سے آخری اور تکنیکی بات یہ ہے کہ بعض عناصر تو باقاعدہ سوشل میڈیا پر رقم کی ادائیگی کا ایک فرضی شیڈول بھی شیئر کرتے ہیں کہ فلاں گریڈ کے ملازم کو اتنے لاکھ ملیں گے اور فلاں اسکیل والے کو اتنے۔ آپ خود ذرا عقل کا استعمال کریں؛
ان تمام اسکیلز کی ایک اوسط رقم نکالیں اور اسے پاکستان کے لاکھوں ریٹائرڈ ملازمین کی کل تعداد سے ضرب دے کر دیکھیں۔
حاصل شدہ مجموعی رقم اربوں کھربوں روپے بنے گی۔ کیا پاکستان کے موجودہ معاشی حالات اور قومی خزانے کی صورتحال اس قابل ہے کہ وہ فی الفور ہر شخص کو اتنی بڑی بڑی رقوم نقد ادا کر سکے؟ جواب یقیناً نفی میں ہے۔
یہ میرے ذاتی خیالات اور مشاہدات ہیں، جن سے متفق ہونا یا اختلاف کرنا ہر شخص کی اپنی سوچ، سمجھ اور اس کا جمہوری حق ہے۔
ہر انسان اپنی زندگی کے تجربات کی روشنی میں ہی سوچتا اور فیصلہ کرتا ہے۔ جو سچائی میں نے اپنی سروس اور ریٹائرمنٹ کے بعد سمجھی اور دیکھی، وہ دیانت داری کے ساتھ قلمبند کر دی ہے۔ اگر آپ نے اسے پڑھ لیا ہے تو آپ کا شکریہ،
اور اگر نہیں پڑھا تو اپنے معاشی تحفظ کے لیے اسے ضرور پڑھیں اور دوسروں تک پہنچائیں۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین
تعارف:قاضی تحسین احمد ہاشمی پاکستان کے ممتاز تجزیہ کار، کالم نگار اور مزدور امور کے ماہر ہیں۔ وہ طویل عرصے سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر محنت کشوں کے حقوق، صنعتی تعلقات اور طبقاتی نظام پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں سماجی و معاشی ناانصافیوں کے خلاف محنت کش طبقے میں شعور بیدار کرنے اور لیبر قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتی ہیں۔ وہ اپنے منفرد اور فکری اندازِ تحریر کے باعث ادبی اور صنعتی حلقوں میں یکساں مقبول ہیں
