June 13, 2026

مرکنٹائل جدیدیت اور جاگیردارانہ فرسودگی

 مرکنٹائل جدیدیت اور جاگیردارانہ فرسودگی

آدم عباس

بندرگاہیں اکثر تاریخ کا رخ بدل دیتی ہیں۔ وہ صرف جہازوں کے لنگر انداز ہونے کی جگہیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ نئے خیالات، نئی معیشتوں، نئے طبقات اور نئے سماجی رشتوں کی پیداٸش گاہ بھی بنتی ہیں

کراچی کی تاریخ بھی اسی حقیقت کی ایک بڑی مثال ہے یہ شہر محض جغرافیہ کی وجہ سے اہم نہیں بنا بلکہ اس لیے اہم بنا کیونکہ وہ عالمی تجارت، بحری راستوں، ریلوے، نوآبادیاتی انتظام اور مرکنٹاٸل سرمایہ داری کے ایک بڑے نظام سے جڑ گیا تھا

یہی وجہ ہے کہ کراچی کی سماجی تشکیل باقی سندھ سے مختلف انداز میں ہوٸی اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ فرق ایک گہرے تاریخی تضاد میں بدلتا چلا گیا

برطانوی دور میں جب سندھ کو 1847 میں بمبئی ریزیڈنسی کا حصہ بنایا گیا تو اس فیصلے کے پیچھے صرف انتظامی سہولت نہیں تھی بلکہ ایک مکمل معاشی اور بحری منطق موجود تھی۔

برطانوی سلطنت کو ایک ایسی بندرگاہ کی ضرورت تھی جو ایک طرف افغانستان، ایران اور وسط ایشیا سے جڑنے والے راستوں پر نظر رکھ سکے اور دوسری طرف پنجاب، سندھ اور گجرات جیسے اہم معاشی خطوں کو سمندر سے منسلک کر سکے

کراچی اس مقصد کے لیے موزوں تھا۔ اس کی بندرگاہ قدرتی طور پر گہرے پانیوں تک رساٸی رکھتی تھی اور وہ بمبئی، گجرات اور بین الاقوامی تجارتی راستوں سے آسانی سے منسلک ہو سکتا تھا۔ اسی لیے کراچی کو جلد ہی ایک بڑے مرکنٹائل مرکز میں تبدیل کرنے کا عمل شروع ہوا

یہاں ایک بنیادی فرق پیدا ہوتا ہے جسے سمجھے بغیر سندھ کی جدید تاریخ کو سمجھنا مشکل ہے۔ کراچی کی ترقی کی بنیاد زمین نہیں بلکہ تجارت تھی۔ اس کی معیشت جاگیردارانہ رینٹ کے بجاٸے بندرگاہ، درآمد و برآمد، جہازرانی، بینکاری، انشورنس، ریلوے، گوداموں اور عالمی منڈی کے ساتھ تعلق پر قاٸم ہوٸی

اسی وجہ سے کراچی میں وہ طبقات ابھرے جن کا تعلق مرکنٹائل اور شہری معیشت سے تھا۔ پارسی سرمایہ دار، گجراتی تاجر، میمن، بوہری، کچھی اور دیگر کاروباری برادریاں اس پورے نظام کا اہم حصہ بنیں

ان طبقات نے صرف تجارت نہیں کی بلکہ شہری ادارے، مارکیٹیں، تعلیمی ادارے، مالیاتی ڈھانچے، صنعتی سرگرمیاں اور جدید شہری ثقافت بھی پیدا کی۔

اس کے برعکس اندرون سندھ کی بڑی سماجی ساخت جاگیرداری اور زرعی طاقت کے گرد قاٸم رہی۔ وہاں زمین ہی طاقت کا اصل سرچشمہ تھی۔ زرعی رینٹ، مقامی اثر و رسوخ، قباٸلی یا خاندانی اقتدار اور محدود دیہی معیشت نے ایک ایسا سماجی ماحول پیدا کیا جس میں جدید شہری اور صنعتی تبدیلی کی رفتار بہت سست رہی۔

 اس لٸیے کراچی اور باقی سندھ کے درمیان وقت کے ساتھ ایک واضح فرق پیدا ہوتا گیا۔ کراچی کی معیشت مسلسل گردش، رابطے اور توسیع پر کھڑی تھی جبکہ اندرون سندھ کی بڑی معیشت نسبتا ساکن اور زمین کے گرد محدود رہی۔

یہ وہ دورانیہ تھا جب سندھ کے اندر نظر نہ آنے والی مگر واضح لکیریں ابھرنے لگیں۔ ایک سندھ بندرگاہ، تجارت اور صنعت کے ساتھ مستقبل کی طرف بڑھ رہا تھا جبکہ دوسرا اب بھی زمین، جاگیرداری اور روایتی طاقت کے داٸروں میں مقید تھا

ایک طرف کراچی تھا جہاں بندرگاہی سرمایہ داری، تجارت، صنعت، ریلوے، بینکاری اور شہری ادارے تیزی سے ایک جدید سماجی ڈھانچہ تشکیل دے رہے تھے۔ یہاں لوگوں کی نقل و حرکت زیادہ تھی، نئی ملازمتیں پیدا ہو رہی تھیں، بیرونی دنیا سے تعلق بڑھ رہا تھا

مختلف زبانیں اور ثقافتیں آپس میں مل رہی تھیں اور سماجی تبدیلی کی رفتار تیز تھی۔ دوسری طرف اندرون سندھ کا بڑا حصہ ایسا تھا جہاں جاگیردارانہ تعلقات، غربت، محدود تعلیم، کمزور شہری ڈھانچے اور غیر مساوی طاقت کے نظام زیادہ مضبوط تھے

 وہاں تبدیلی کی رفتار سست تھی اور معیشت کا بڑا حصہ اب بھی زرعی بالادستی کے گرد گھوم رہا تھا اہم بات یہ ہے کہ یہ تضاد صرف 1947 کے بعد پیدا نہیں ہوا تھا۔ اس کی بنیادیں اس سے بہت پہلے نوآبادیاتی دور میں ہی پڑ چکی تھیں

جب کراچی بمبئی، گجرات اور عالمی تجارت سے جڑ رہا تھا تب اندرون سندھ اسی رفتار سے صنعتی یا شہری تبدیلی کے عمل میں شامل نہیں ہو رہا تھا۔ اس لیے تقسیم ہند کے بعد جو شہری و دیہی تضادات زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آٸے، ان کی جڑیں پہلے سے موجود تھیں۔ دراصل تقسیم نے کئی پرانے تضادات کو مزید واضح کر دیا۔

1936 میں جب سندھ کو بمبئی ریزیڈنسی سے الگ کر کے الگ صوبہ بنایا گیا تب بھی کراچی کی معاشی روح بنیادی طور پر وہی رہی۔ انتظامی نقشہ بدل گیا مگر شہر کی معیشت اب بھی مرکنٹاٸل نیٹ ورکس، بندرگاہی سرگرمیوں اور تجارتی سرماٸے کے گرد گھوم رہی تھی

کراچی کی بندرگاہ، ریلوے، مالیاتی ڈھانچے اور صنعتی امکانات بدستور اسی نوآبادیاتی تجارتی منطق سے جڑے رہے۔ اس دوران اندرون سندھ کی سیاست میں جاگیردار طبقہ زیادہ نمایاں ضرور ہوا، مگر وہ کراچی جیسی شہری اور صنعتی جدیدیت کا حقیقی محرک نہ بن سکا۔

اسی تاریخی فرق نے بعد میں سندھ کی سیاست، سماج اور معیشت میں مستقل تناو پیدا کیا۔ کیونکہ ایک خطے میں دو الگ معاشی اور سماجی رفتاریں موجود تھیں

ایک رفتار شہری، صنعتی، مرکنٹائل اور نسبتا جدید تھی جبکہ دوسری زرعی، جاگیردارانہ اور نسبتا سست رفتار۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی اور باقی سندھ کے درمیان صرف جغرافیائی نہیں بلکہ سماجی، معاشی اور نفسیاتی فاصلے بھی پیدا ہوتے گئے۔

شاید سندھ کا سب سے بڑا لگ بھگ پونے دو صدیوں پر محیط تاریخی سوال بھی یہی ہے کہ آیا وہ اپنی اس داخلی تقسیم کو ختم کر پاٸے گا یا نہیں۔ کیونکہ کوٸی بھی سماج اس وقت تک مکمل طور پر جدید نہیں بن سکتا جب تک جدیدیت صرف چند شہروں، بندرگاہوں یا مخصوص طبقات تک محدود رہے

حقیقی تبدیلی تب جنم لیتی ہے جب ہاری, کھیت مزدور، صعنتی مزدور، چھوٹا تاجر، طالب علم اور دیہی آبادی سب جدید معیشت، صنعت، تعلیم اور شہری اداروں کا حصہ بنیں۔ جب تک جاگیردارانہ فرسودگی، غیر مساوی طاقت اور زمین کے گرد قاٸم پرانے سماجی رشتے اپنی گرفت برقرار رکھیں گے

تب تک سندھ کے اندر یہ تاریخی تضاد بھی باقی رہے گا ایک طرف تیز رفتار شہری و صنعتی حرکت اور دوسری طرف سست رفتار، محدود اور غیر مساوی سماجی ڈھانچہ

شاید سندھ کی آٸندہ تاریخ کا فیصلہ بھی اسی سوال پر ہوگا کہ آیا وہ زمین سے بندھی ہوٸی طاقت کی دنیا سے نکل کر علم، صنعت، اداروں اور اجتماعی جدیدیت کی طرف بڑھ پاتا ہے یا نہیں

تعارف : آدم عباس ممتاز دانشور، مصنف، مترجم اور ترقی پسند نظریاتی استاد ہیں وہ طویل عرصے سے پاکستان میں مزدوروں، کسانوں اور پسے ہوئے طبقات کے حقوق، اور ان میں اجتماعی سیاسی شعور بیدار کرنے کے لیے فکری سطح پر سرگرم ہیں پاکستان میں محنت کشوں کے اجتماعی شعور کی آبیاری کرنے والے چند گنے چنے فکری رہنماؤں میں سے ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp