پاکستان اسٹیل کے محنت کش اور اربابِ اختیار کا ظلمِ عظیم
مرزا مقصود
ایک وقت تھا کہ کراچی کے ساحل پر قائم پاکستان اسٹیل ملز ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھی اور اس کا ہر ملازم خود کو اس صنعتی ترقی کا قابلِ فخر حصہ سمجھتا تھا۔
لیکن آج اسی قومی اثاثے کو اپنی زندگی کے سنہرے پچیس، تیس یا چالیس سال دینے والے سابق ملازمین کراچی پریس کلب کی تپتی سڑک پر اپنے جائز حقوق اور بوڑھے ماتھے کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ملنے والی مزدوری کے بقایا جات کے لیے سسک رہے ہیں
۔ ریٹائرڈ ایمپلائز یونٹی آف پاکستان اسٹیل کے زیرِ اہتمام سابق ملازمین کے مکمل واجبات کے حصول کے لیے پریس کلب پر کیا جانے والا احتجاج محض ایک مظاہرہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس سنگدل اور استحصالی نظام کے خلاف ایک کھلی چارج شیٹ ہے۔
اس شدید گرمی میں سینئر سٹیزنز کی عمر کو پہنچے ہوئے سینکڑوں بوڑھے، لاچار اور بیمار افراد کا پریس کلب آنا خود اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمرانوں کی کارکردگی اور ترجیحات پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان اسٹیل آج بھی سو فیصد حکومتِ پاکستان کی ملکیت میں ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کے موجودہ اثاثوں کی مجموعی مالیت تقریباً 3 ہزار ارب روپے لگائی جاتی ہے۔
دوسری طرف ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے رہنما محمد وحید کا کہنا ہے کہ سابق ملازمین کے تمام جائز اور قانونی واجبات کا کل تخمینہ صرف 30 ارب روپے ہے
کتنا بڑا المیہ ہے کہ 3 ہزار ارب کے اثاثے رکھنے والا ادارہ اپنے معمر ملازمین کو ان کے حصے کے 30 ارب روپے دینے سے قاصر ہے، اور یہ سراسر حکمرانوں کی نااہلی، سرد مہری اور مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
حالات اس قدر تشویشناک ہیں کہ کئی ملازمین کی ادائیگیاں سال 2012ء سے واجب الادا ہیں اور وہ اب تک دفاتر کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک چکے ہیں۔ خاص طور پر جولائی 2011ء تا اکتوبر 2012ء کے دوران ریٹائر ہونے والے ملازمین کے ساتھ تو ظلم کی انتہا کر دی گئی
انہیں ان کے واجبات کی ادائیگی میں ورکرز کو چارٹر آف ڈیمانڈ اور افسران کو نئے پے اسکیل کے جائز فوائد سے یکسر محروم رکھا گیا اور انہیں صرف بنیادی گریجویٹی، ان کیشمنٹ اور پروویڈنٹ فنڈ کی مد میں معمولی رقم تھما دی گئی۔
ہماری حکومت سے اپیل ہے کہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں واجبات کی ادائیگی کے لیے باقاعدہ رقم مختص کی جائے، اور ورکرز کو 12-2010ء کے چارٹر آف ڈیمانڈ کا 22 ماہ کا ایریئر اور افسران کو 2011ء کے پے اسکیل کے 15 ماہ کے بقایا جات فی الفور ادا کیے جائیں۔
اس معاشی استحصال کی داستان یہیں ختم نہیں ہوتی۔ فنڈز کی ہیرا پھیری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کے پروویڈنٹ فنڈ کا باقاعدہ آڈٹ سال 18-2017ء سے اب تک نہیں کیا گیا۔
اس مجرمانہ غفلت کا نتیجہ یہ نکلا کہ جن ملازمین کو پروویڈنٹ فنڈ کی رقم دی بھی گئی، ان کو 2018ء کے بعد ریٹائرمنٹ پر اصل رقم کے اوپر بننے والا منافع سرے سے ادا ہی نہیں کیا گیا۔
چونکہ یہ رقم اب تک اسٹیل ملز انتظامیہ کے پاس پڑی ہوئی ہے، لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ اصل رقم کی فوری ادائیگی کے ساتھ ساتھ اس پر بننے والا قانونی منافع اور تاخیر کی وجہ سے مالی سال 26-2025ء تک کا منافع پر منافع کمپاؤنڈ انٹرسٹ بھی بوڑھے ملازمین کو منتقل کیا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ ملازمین کی رہائشی اسکیموں میں بھی سنگین مالی بے ضابطگیاں کی گئی ہیں۔ اسٹیل ملز انتظامیہ نے گلشنِ حدید فیز III، فیز II اور فیز I ایکسٹینشن کے نام پر ملازمین سے کروڑوں روپے کے ترقیاتی اخراجات تو وصول کر لیے، لیکن ان اسکیموں میں آج تک ترقیاتی کام نہیں کروایا گیا۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وہاں فوری طور پر سڑکوں، پانی اور نکاسیِ آب کا کام شروع کروایا جائے۔ اسی طرح گلشنِ حدید فیز IV اسکیم کی منظوری چارٹر آف ڈیمانڈ کے علاوہ تمام متعلقہ قانونی اتھارٹیز سے ہونے کے باوجود اب تک پلس ملازمین کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ نہیں کی گئی جو سراسر ناانصافی ہے
اسٹیل ٹاؤن میں جو سابق ملازمین الائٹیز اب تک رہائش پذیر ہیں اور جن کے واجبات کی رقم باقی ہے، یا وہ سابق ایمپلائز جنہوں نے ناگزیر وجوہات کی بنا پر اپنے این ڈی سی جمع نہیں کروائے، ان کو ہراساں کرنے کے بجائے نارمل ٹاؤن شپ پالیسی کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں۔
ٹاؤن شپ میں پانی، بجلی اور گیس جیسی بنیادی ضرورتوں پر الائٹیز سے غیر قانونی طور پر بے انتہا اضافی چارجز وصول کیے جا رہے ہیں، جسے عدالتِ عالیہ نے بھی روک دیا ہے
انتظامیہ کو چاہیے کہ اس معاملے کو عدالتی احکامات کی روشنی میں فوری طے کرے۔ مزید برآں، پچھلے کئی سالوں سے بینیولنٹ فنڈز کی ادائیگیاں مکمل طور پر معطل ہیں
جس کی وجہ سے وفات پا جانے والے سابق ملازمین کے بیوہ اور یتیم بچے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں، انہیں یہ فنڈ فوری جاری کیا جائے۔ میڈیکل کی وہ سہولت جو ان ملازمین کو تاحیات ملنی تھی،
اسے بھی غیر قانونی طور پر بند کر دیا گیا ہے، لہٰذا اس سہولت کی بحالی ممکن نہیں تو اس کے بدلے ملازمین کو یکمشت مناسب معاوضہ ادا کیا جائے۔
مزدور محاذِ عمل اور ریٹائرڈ ملازمین کی تمام نمائندہ تنظیمیں ان مطالبات کے حق میں مسلسل آواز اٹھاتی رہیں گی۔ ہم ان تمام مطالبات پر مشتمل خطوط ملک بھر کے سابق ملازمین کے دستخطوں کے ساتھ براہِ راست وزیرِ اعظم پاکستان کو ارسال کریں گے
اگر اب بھی ہمارے بوڑھے ملازمین کے زخموں پر مرہم نہ رکھا گیا، تو اس پرامن احتجاج کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیلا دیا جائے گا۔ انصاف کی یہ جنگ اب آخری سانس تک جاری رہے گی
تعارف : مرزا مقصود اس وقت مزدور محاذِ عمل کے صدر کی حیثیت سے صنعتی ورکرز کی قیادت کر رہے ہیں، ان کا شمار صنعتی حلقوں کے ان چند لیبر لیڈرز میں ہوتا ہے جو کسی سیاسی وابستگی کے بغیر خالصتاً محنت کشوں کے معاشی اور آئینی حقوق کے لیے جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی قیادت کا محور مزدور محاذِ عمل کا پلیٹ فارم ہے پاکستان کی مزدور تحریک، محنت کشوں اور ریٹائرڈ ملازمین کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی ایک نمایاں اور سرگرم شخصیت ہیں وہ مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف نہ صرف سڑکوں پر متحرک رہتے ہیں بلکہ خطوط اور کالموں کے ذریعے براہِ راست اربابِ اختیار تک محنت کشوں کی فریاد پہنچانے کے لیے معروف ہیں
