June 13, 2026

قربانی اور غریب محنت کش

 قربانی اور غریب محنت کش

طفیل میمن

———-

دعا ہے کہ اعلیٰ حکام اور بااثر افسران کی اس عید پر کی جانے والی بڑے بڑے مہنگے جانوروں کی قربانیاں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول و مقبول ہوں، اور وہ بالا افسران جو ہر سال باقاعدگی سے حج اور عمرے جیسی عظیم سعادتیں حاصل کرتے ہیں، خدا کرے کہ ان کی یہ عبادات بھی شرفِ قبولیت پا سکیں۔

ان امیر اور مقتدر افسران کے بچے عید کے پرمسرت موقع پر بھرپور طریقے سے خوشیاں منائیں، انہیں بہترین برانڈڈ نئے کپڑے، لذیذ ترین کھانوں کا انتظام، دوستوں یاروں اور رشتے داروں کی محفلیں اور ایک دوسرے کو قیمتی تحائف دینے کی تمام تر سہولیات میسر رہیں۔

بلاشبہ دنیا کی تمام نعمتیں اور رعائیاں ان کے قدموں میں مائل بہ کرم رہیں، لیکن اس چمک دمک کے پیچھے چھپی ایک تلخ باطنی حقیقت پر بھی غور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ تمام تر دنیاوی آسائشوں اور مذہبی فرائض کی ظاہری ادائیگی کے باوجود، اختیار رکھنے والے انھی کچھ افسران نے انتہائی سنگ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے،

 غریب مسکین بیواؤں اور یتیم بچوں کے قانونی طور پر منظور شدہ ‘ڈیتھ گرانٹ’ اور دیگر فلاحی امداد کے کیسز کو جان بوجھ کر سرخ فیتے کی نذر کر رکھا ہے۔

عید جیسے بڑے تہوار سے پہلے اگر ان غریب اور بے سہارا خاندانوں کو ان کی جائز رقم ادا کر دی جاتی، تو شاید ان کے معصوم بچے بھی عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکتے تھے

ان کے گھروں میں بھی چولہا جلتا اور وہ بھی اس دن کی مسرتوں کو محسوس کر پاتے۔ لیکن ایسا کیوں ہو؟ ہمارے یہ مقتدر بالا افسران اپنی روایتی انا اور بیوروکریٹک ہٹ دھرمی کے باعث فقط یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اس کائنات کی ساری خوشیاں، تمام تر نعمتیں، اور مسکراہٹیں صرف اور صرف ان کی ذات اور ان کے محلوں میں پلنے والے بچوں کے لیے مخصوص ہیں

مزدور طبقہ اور ان کے پسماندگان پہلے ہی شدید ترین معاشی بحران، ہوش ربا مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں

جب کسی غریب محنت کش کا انتقال ہو جاتا ہے، تو حکومت اور متعلقہ محکموں کی طرف سے ملنے والی ڈیتھ گرانٹ ان کے یتیم بچوں کے لیے ایک ناگزیر مالی سہارا ہوتی ہے

مگر فنڈز کی دستیابی کے باوجود، فائلوں کو روک کر رکھنا اور غریب بیواؤں کو دفاتر کے چکر کٹوانا ایک ایسا غیر انسانی اور غیر اخلاقی فعل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے

یہ رویہ نہ صرف آئینِ پاکستان میں دیے گئے سماجی انصاف کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے، بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی سراسر منافی ہے جو یتیموں اور مسکینوں کے حقوق کی پاسداری کا سختی سے حکم دیتی ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام اور بیوروکریسی کی اس ملی بھگت نے معاشرے کو دو واضح طبقات میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک طرف وہ اشرافیہ ہے جو مزدوروں کے خون پسینے کی کمائی پر عیش کر رہی ہے

اور دوسری طرف وہ سفید پوش طبقہ ہے جو اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے بھی بھیک مانگنے پر مجبور ہے۔ آخر وہ حقیقی عید کب آئے گی جب ان یتیم، مسکین اور معصوم بچوں کے مرجھائے ہوئے چہروں پر بھی سچی مسکراہٹ نمودار ہوگی؟

جب تک ہمارے نظام میں موجود افسران اپنے فرعونیت زدہ رویوں کو بدل کر غریبوں کو ان کے حقوق دہلیز پر فراہم نہیں کریں گے، تب تک یہ بڑی بڑی قربانیاں اور حج محض ایک ظاہری دکھاوا ہی رہیں گے

ضرورت اس امر کی ہے کہ بالا حکام بیانات اور فوٹو سیشنز سے نکل کر ان زیرِ التوا کیسز کا فوری نوٹس لیں تاکہ محنت کشوں میں پھیلا اضطراب ختم ہو سکے۔

تعارف ، طفیل احمد میمن مہران شوگر ملز مزدور یونین سی بی اے کے سئینر جنرل سیکریٹری کے عہدے پر فائز رہے محنت کشوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے ایک سرگرم سماجی کارکن اور تجزیہ نگار ہیں۔ طویل عرصے سے مزدوروں سے منسلک مختلف گروپس اور تنظیموں کے ذریعے سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ اور دیگر متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ آپ کا مقصد محنت کش طبقے، یتیموں اور بیواؤں کے قانونی حقوق کی فراہمی کے لیے شعور اجاگر کرنا اور متعلقہ حکام تک ان کی آواز پہنچانا ہے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp