October 30, 2026

جبری مشقت کے خلاف امریکی تحقیقات پاکستان کی نئی لیبر پالیسی کی تیاری

 جبری مشقت کے خلاف امریکی تحقیقات پاکستان کی نئی لیبر پالیسی کی تیاری

رپورٹ ( اسامہ قذافی ، نمائندہ لیبر نیوز اسلام آباد )  امریکی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان سمیت دنیا کی 60 معیشتوں کے خلاف شروع کی جانے والی وسیع تر تجارتی تحقیقات کے تناظر میں پاکستان نے امریکی پابندیوں اور اضافی ڈیوٹیوں سے بچنے کے لیے واشنگٹن میں اپنے کیس کی بھرپور پیروی شروع کر دی ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے کے زیرِ اہتمام اس معاملے پر عوامی سماعتوں کا آغاز 28 اپریل سے ہو چکا ہے، جو 14 مئی 2026 تک جاری رہیں گی

پاکستان کی جانب سے امریکہ میں متعین سفیر، وزارتِ ٹیکسٹائل، وزارتِ تجارت اور وزارتِ انسانی وسائل کے اعلیٰ حکام پر مشتمل وفد اس اہم ترین سماعت میں ملکی موقف کا دفاع کر رہا ہے۔

یہ قانونی اور سفارتی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ باہمی ٹیرف  کو واپس لینے کا حکم دیا

اس واپسی کے فوراً بعد یو ایس ٹریڈ نمائندے نے 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کے تحت پاکستان سمیت 60 ممالک کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا۔

ان تحقیقات کا بنیادی مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آیا یہ ممالک اپنے ہاں جبری مشقت  سے تیار ہونے والی اشیاء کی درآمد اور برآمد پر مؤثر پابندی عائد کرنے اور اس قانون پر سختی سے عملدرآمد کروانے میں ناکام رہے ہیں یا نہیں۔

امریکہ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ کیا ان ممالک کی پالیسیاں امریکی تجارتی مفادات کے خلاف امتیازی سلوک کی مرتکب ہو رہی ہیں یا کیا وہاں کپاس، ٹیکسٹائل اور دیگر شعبوں میں جبری مشقت کی سرپرستی کا کوئی مستقل نمونہ موجود ہے۔

اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہو گیا تو امریکہ ان مصنوعات پر بھاری ڈیوٹیز یا درآمدی پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔

اس ممکنہ معاشی خطرے سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا ایک اہم اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری تجارت نے بریفنگ دی۔

 اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کی سرکاری اور نجی ٹیکسٹائل سیکٹر کی جانب سے یو ایس ٹی آر  کو مشترکہ اور ہم آہنگ تحریری بیانات جمع کرائے جائیں گے تاکہ موقف میں کوئی تضاد نہ رہے

سب سے اہم فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی ادارہ محنت کے طے شدہ اصولوں کے مطابق، پاکستان کے ‘امپورٹ پالیسی آرڈر’ میں فوری ترمیم کی جائے گی

جس کے تحت جبری مشقت، کان کنی یا غیر قانونی مینوفیکچرنگ سے تیار کردہ کسی بھی قسم کے سامان کی پاکستان میں درآمد پر مکمل پابندی ہوگی وزارتِ انسانی وسائل اس ترمیم کا عمل فوری شروع کرے گی، جس کے بعد ای سی سی سے اس کی حتمی منظوری لی جائے گی

اجلاس کے دوران جب وزیرِ صنعت کے معاونِ خصوصی نے سندھ کے چند کپاس کے کھیتوں میں جبری مشقت اور چائلڈ لیبر سے متعلق امریکی محکمہ محنت کی 2024 کی رپورٹ جس میں 2004 کی آئی ایل او رپورٹ کا حوالہ دیا گیا تھا کے بارے میں سوال اٹھایا تو ڈائریکٹر جنرل ٹیکسٹائل نے واضح کیا کہ پاکستان کے جوابی مسودے میں ان تمام خدشات کا تفصیلی جواب شامل ہے

امریکہ کو بتایا جا رہا ہے کہ پاکستان نے عالمی برانڈز اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے بیٹر کاٹن انیشیٹو آرگینک کپاس کی کاشت اور جدید ٹریس ایبلٹی سسٹم متعارف کرائے ہیں

ان اقدامات کا مقصد مقامی کپاس کی پوری سپلائی چین کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق بنانا، کسانوں کے روزگار کو بہتر کرنا اور جبری مشقت کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہے

اسٹیئرنگ کمیٹی نے تمام ترامیم کے ساتھ جوابی مسودے کی منظوری دے دی ہے جسے واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے آن لائن پورٹل کے ذریعے امریکی حکام کو ارسال کر دیا گیا ہے

اس کے ساتھ ہی کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ پاکستان کے سفیر واشنگٹن میں یو ایس انٹرنیشنل ٹریڈ کمیشن  کے سامنے خود ذاتی طور پر پیش ہو کر حکومتِ پاکستان کی طرف سے زبانی بیان ریکارڈ کرائیں

جہاں ان کے ہمراہ کمرشل اتاشی اور وزارتِ تجارت کے تکنیکی ماہرین بھی موجود ہوں گے تاکہ ملکی ٹیکسٹائل اور برآمدی شعبے کو کسی بھی بڑے بحران سے بچایا جا سکے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp