کپاس کی پکار موبائل ایپ پنجاب اور سندھ کی زرعی مزدور یونینز کا تاریخی انقلاب
ملکی صنعت کے لیے خطرے کی گھنٹی ؟

حسن خان ، ہیڈ کامرس اینڈ ٹریڈ ڈیسک
پاکستان کی کاروباری اور صنعتی برادری نے حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے صنعتی پہیہ جام ہو سکتا ہے۔
تاجر رہنماؤں کے مطابقایک ایسے وقت میں جب برآمدی شعبہ ریلیف کا منتظر تھا، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے پیداواری لاگت کو ناقابلِ برداشت حد تک بڑھا دیا ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں کا کہنا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے صنعتوں کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے بجائے مقامی سطح پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھایا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق اگر حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں کی پالیسی پر فوری نظرثانی نہ کی تو پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں اپنی مسابقت کھو دیں گی، جس کا براہِ راست اثر ملکی برآمدات پر پڑے گا۔
دوسری جانب ایف بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ محمد تحسین نے حکومت کے اس فیصلے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے صنعتوں کی کمر توڑنے کے مترادف قرار دیا ہے
انہوں نے نشاندہی کی کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدے کے تحت لگائی گئی بھاری پٹرولیم لیوی نے مقامی صنعت کاروں کے لیے کاروبار کرنا ناممکن بنا دیا ہے۔
شیخ محمد تحسین کا کہنا تھا کہ ایندھن مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 40 فیصد تک کا غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی 22 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے خطے کے دیگر ممالک سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں توانائی اور ایندھن کی قیمتیں پڑوسی ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں جو ملکی صنعت کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو رہی ہیں۔
صنعتی رہنماؤں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر آئی ایم ایف سے ان شرائط پر دوبارہ بات چیت نہ کی گئی اور پٹرولیم لیوی میں کمی نہ لائی گئی تو بڑے پیمانے پر فیکٹریوں کی بندش اور بے روزگاری کا خدشہ ہے۔
ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے لیے صنعتوں کو ترجیحی بنیادوں پر سستا ایندھن اور بجلی فراہم کرے تاکہ ملک کو معاشی دلدل سے نکالا جا سکے
کاروباری برادری کا یہ موقف واضح ہے کہ موجودہ معاشی پالیسیاں برآمدات میں اضافے کے بجائے کمی کا سبب بن رہی ہیں، اور اگر ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے تو ملکی معیشت کی بحالی کا خواب ادھورا رہ سکتا ہے۔
