October 29, 2026

شکاگو کے شہداء کو خراجِ عقیدت اور مزدور حقوق کی جدوجہد کی تقریب

 شکاگو کے شہداء کو خراجِ عقیدت اور مزدور حقوق کی جدوجہد کی تقریب

محمد احتشام ( ہیڈ لیبر نیوز ساؤتھ سندھ )

حیدرآباد کے کراؤن بینکیوٹ ہال میں مھران پروگریسیو ایمپلائیز فیڈریشن کے زیرِ اہتمام ایک ایسی تقریب منعقد کی گئی جو نہ صرف ماضی کے عظیم شہداء کی یادوں سے معطر تھی بلکہ موجودہ دور کے محنت کشوں کے سلگتے ہوئے مسائل کا آئینہ دار بھی تھی۔

شکاگو کے مزدوروں کو خراجِ تحسین اور وزیر محنت سندھ سعید غنی کے کوارڈینیٹر اور سندھ سوشل سیکیورٹی کے گورننگ باڈی کے رکن ، ادیب کالم نگار محمد خان ابڑو کے اعزاز میں استقبالیہ کے عنوان سے منعقدہ اس پروگرام نے سندھ کی صنعتی پٹی کے مزدوروں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر دیا

تقریب کے مہمانِ خصوصی محمد خان ابڑو تھے جنہیں مزدور مسائل پر مسلسل قلم اٹھانے اور ایوانوں میں ان کی آواز بننے پر خصوصی اعزاز سے نوازا گیا

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مزدور کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومتِ سندھ مزدوروں کے جائز مطالبات اور مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے اور وہ خود ان مسائل کو متعلقہ حکام تک پہنچانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں گے

مھران پروگریسیو ایمپلائیز فیڈریشن کے مرکزی صدر عبدالواحد شورو نے اپنے صدارتی خطاب میں شکاگو کے شہداء کی قربانیوں کو دنیا بھر کے مزدوروں کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی مزدور طبقہ انہی نظریات کے تحت اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے متحد ہے۔ تقریب میں زیل پاک سیمنٹ، ٹریٹ کارپوریشن، ٹیکسٹائل یونینز اور بالخصوص پلیدار ورکرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جو اس بات کا ثبوت تھا کہ مزدور تحریک آج بھی زندہ و جاوید ہے

پروگرام کے دوران مقررین نے سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے فلیٹس کی خستہ حالی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ خطاب میں بتایا گیا کہ 1504 اور 128 فلیٹس میں بجلی، گیس اور نکاسی آب جیسی بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ میرج گرانٹ، ڈیتھ گرانٹ اور تعلیمی وظائف اسکالرشپس کی فراہمی میں غیر ضروری تاخیر نے محنت کشوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا ہے۔ مقررین نے اداروں کی اس مبینہ نااہلی کو مزدور دشمنی قرار دیتے ہوئے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا

تقریب کا ایک اہم پہلو پلیدار مزدوروں تعمیراتی اور بوجھ اٹھانے والے کارکنوں کے مسائل تھے۔ یہ انکشاف کیا گیا کہ ان محنت کشوں کو تاحال سوشل سیکیورٹی اور جیسے اداروں میں رجسٹرڈ نہیں کیا گیا

اس موقع پر شبیر احمد، فہیم عباسی اور عرفانہ جبار نے محکمہ لیبر سندھ پر شدید تنقید کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ کئی ایسی صنعتیں جو فیکٹری ایکٹ کے دائرے میں آنی چاہئیں، انہیں جان بوجھ کر شاپس ایکٹ کے تحت رکھا گیا ہے تاکہ مزدوروں کو ان کے قانونی حقوق سے محروم رکھا جا سکے

 تقریب کے اختتام پر تمام شریک تنظیموں جن میں این ایل ایف سندھ اور ہوم بیسڈ لیبر یونین بھی شامل تھیں، نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جب تک آخری مزدور کو اس کا حق نہیں مل جاتا جدوجہد جاری رہے گی۔

مھران پروگریسیو ایمپلائیز فیڈریشن نے واضح کیا کہ وہ صنعتی مزدوروں اور پسے ہوئے طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے عملی میدان میں اپنی کوششیں مزید تیز کرے گی

یہ تقریب نہ صرف ایک استقبالیہ تھی بلکہ سندھ کے محنت کشوں کی جانب سے حکومت کے لیے ایک واضح پیغام تھا کہ اب ان کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp