کپاس کی پکار موبائل ایپ پنجاب اور سندھ کی زرعی مزدور یونینز کا تاریخی انقلاب
وفاقی بجٹ 2026-27، اور مزدوروں کا تحفظ

رپورٹ، چوہدری بشیر ، بیورو چیف اسلام آباد
پاکستان کا آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 ملکی تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر پیش کیا جا رہا ہے جسے معاشی ماہرین نے معیشت کی بقا اور خود مختاری کے لیے فیصلہ کن قرار دے دیا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت سالانہ بنیادوں پر کیے جانے والے عارضی مالیاتی اقدامات، منی بجٹس اور روایتی ٹیکسوں کے سہارے چلنے کے بجائے طویل المدتی اور جرات مندانہ معاشی اصلاحات کا راستہ اختیار کرے۔
یہ بجٹ محض ایک سالہ مالی دستاویز نہیں، بلکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈکے پروگرام کے بعد پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی اور حقیقی خودمختاری کا واضح روڈ میپ ہونا چاہیے۔
مختلف معاشی رپورٹس اور تجزیوں کے مطابق پاکستان کی مالیاتی پالیسی کئی دہائیوں سے ڈھانچہ جاتی خامیوں کا شکار رہی ہے۔ ملک کا پورا مالیاتی بوجھ ایک محدود ٹیکس نیٹ، بالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار اور مخصوص بااثر طبقات و شعبوں کو دی جانے والی اربوں روپے کی ٹیکس چھوٹ پر قائم ہے۔
اس غیر منصفانہ نظام نے نہ صرف عام آدمی اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کو کچل کر رکھ دیا ہے بلکہ ملکی ریونیو کو بھی جمود کا شکار کر دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک وفاقی اور صوبائی سطح پر ایک مربوط اور یکساں ٹیکس فریم ورک قائم نہیں کیا جاتا، تب تک کاروباری لاگت کو کم کرنا اور معیشت کو دستاویزی شکل دینا ناممکن رہے گا۔
بجٹ تجاویز میں سب سے اہم نکتہ زرعی شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔ ماہرین نے سفارش کی ہے کہ بڑے زمینداروں اور کمرشل بنیادوں پر چلنے والے زرعی کاروباروں پر ان کی حقیقی آمدن کے مطابق ٹیکس عائد کیا جائے
اس وقت ملکی جی ڈی پی میں بڑا حصہ رکھنے کے باوجود یہ شعبہ ٹیکس وصولی میں نہ ہونے کے برابر حصہ ڈالتا ہے۔ تاہم، اس پالیسی کے تحت چھوٹے اور پسماندہ کسانوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے
تاکہ ان پر کوئی اضافی بوجھ نہ پڑے۔ زرعی اشرافیہ کو ٹیکس نیٹ میں شامل کر کے حکومت بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ کم کر سکتی ہے۔
صنعتی شعبے اور برآمد کنندگان کو سستی بجلی، گیس اور کم شرح سود پر قرضوں کی فراہمی کے بغیر معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
عالمی منڈی میں بھارت، بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے ممالک کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستانی برآمدات پر عائد اضافی ٹیکسوں کا فوری خاتمہ کیا جائے اور سیلز ٹیکس ریفنڈز کی مہینوں سے زیرِ التوا ادائیگیاں فوری طور پر کلیئر کی جائیں۔ ریفنڈز میں تاخیر کی وجہ سے صنعتوں کو شدید مالیاتی بحران کا سامنا ہے
کاروبار میں آسانی کے لیے ایک انقلابی مہم کے تحت پاکستان سنگل ونڈو کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے تمام محکموں کے این او سیز لائسنسز اور تجارتی اجازت نامے ایک ہی چھت تلے آن لائن دستیاب ہوں گے، جس سے بیوروکریسی کا روایتی سرخ فیتہ اور کرپشن ختم ہوگی۔
دوسری طرف، سرکاری اخراجات کو لگام دینے کے لیے سفارش کی گئی ہے کہ تمام سرکاری اداروں اور وزارتوں کی سالانہ فنڈنگ کو ان کی کارکردگی اور قابلِ پیمائش اہداف (سے مشروط کیا جائے، اور خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی فوری نجکاری کی جائے
بجٹ تجاویز کا ایک اور اہم رخ ملک کے پسماندہ مزدور طبقے کی طرف ہے۔ ماہرین نے وفاقی حکومت کو ملک بھر کے متفرق لیبر قوانین کو یکجا کرنے کی سفارش کی ہے
تجویز کے مطابق نجی اور صنعتی شعبے میں کام کرنے والے تمام دیہاڑی دار اور مستقل محنت کشوں کو بہتر سماجی تحفظ، ہیلتھ انشورنس اور ریٹائرمنٹ کے بعد ای او بی آئی کی طرز پر پینشن اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت قانونی طور پر یقینی بنایا جانا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق، اگر حکومت ان بنیادی اصلاحات کو اس بجٹ کا حصہ بنانے میں ناکام رہی، تو ملک ایک اور سنگین معاشی بحران کی طرف بڑھ سکتا ہے
