کپاس کی پکار موبائل ایپ پنجاب اور سندھ کی زرعی مزدور یونینز کا تاریخی انقلاب
بنگلہ دیش کے نئے لیبر قوانین

سلمان احمد ) ہیڈ لیبر نیوز ساوتھ ایشاء ڈیسک )
بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ میں پیش کردہ حالیہ لیبر ترامیم نے ملک کے صنعتی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے درمیان ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے
یہ ترامیم ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب بنگلہ دیش کو بین الاقوامی سطح پر، بالخصوص یورپی یونین اور امریکہ کی جانب سے، مزدوروں کے حقوق بہتر بنانے کے لیے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
اگرچہ حکومت اسے ایک بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے لیکن مزدور رہنما اور قانونی ماہرین ان ترامیم میں موجود کئی خلا اور پوشیدہ رکاوٹوں کی نشاندہی کر رہے ہیں
نئے قانون میں کچھ دیرینہ مطالبات کو تسلیم کیا گیا ہے جو بظاہر محنت کشوں کے لیے فائدہ مند دکھائی دیتے ہیں جیسے خواتین ورکرز کے لیے زچگی کی چھٹیوں کی مدت میں اضافہ کیا گیا ہے، جو کہ گارمنٹس سیکٹر میں کام کرنے والی لاکھوں خواتین کے لیے ایک بڑی سہولت ہے
یونین بنانے کے لیے درکار ملازمین کی رضامندی کی حد کو 20 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ مزدوروں کے لیے منظم ہونا آسان ہو سکے
کام کے دوران حادثے یا موت کی صورت میں دیے جانے والے معاوضے کی رقم میں اضافے کی بات کی گئی ہے، جو کہ رانا پلازہ جیسے واقعات کے بعد ایک حساس موضوع رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ترامیم کے باوجود کچھ بنیادی مسائل کو حل نہیں کیا گیا جو مزدوروں کے استحصال کا سبب بنتے ہیں
اگرچہ رجسٹریشن کی حد کم کی گئی ہے، لیکن اب بھی فیکٹری مالکان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ‘نظم و ضبط’ کے نام پر یونین رہنماؤں کو ہراساں کر سکیں یا انہیں ملازمت سے برطرف کر سکیں۔
حادثات کی صورت میں دیا جانے والا معاوضہ اب بھی مہنگائی کے تناسب اور بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے معیارات سے کافی کم ہیں
بنگلہ دیش کی محنت کش قوت کا ایک بڑا حصہ زراعت اور چھوٹے گھریلو کاروبار سے وابستہ ہے، جنہیں ان قوانین کے دائرہ کار سے باہر رکھا گیا ہے۔
بنگلہ دیش کی معیشت کا دارومدار ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات پر ہے، جو ملک کی کل برآمدات کا تقریباً 80 فیصد ہیں۔
یورپی یونین نے واضح کیا ہے کہ اگر لیبر قوانین کو عالمی معیارات کے مطابق نہ بنایا گیا تو بنگلہ دیش کو دی گئی تجارتی مراعات ختم کی جا سکتی ہیں
امریکہ نے بھی حال ہی میں مزدوروں کے حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جس سے برآمد کنندگان میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے
مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت مالکان کے دباؤ میں آکر قوانین کو مبہم رکھتی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ یونین سازی کے عمل میں بیرونی مداخلت کا مکمل خاتمہ کیا جائے بلیک لسٹنگ کے کلچر کو ختم کیا جائے جہاں احتجاج کرنے والے مزدور کو کسی دوسری فیکٹری میں کام نہیں ملتا اجرتوں کے تعین کے لیے ایک شفاف اور خودکار نظام وضع کیا جائے
بنگلہ دیش کے لیبر قوانین میں ترامیم بلاشبہ ایک قدم آگے ہیں، لیکن یہ منزل نہیں ہیں۔ جب تک قانون سازی میں مزدوروں کی حقیقی نمائندگی شامل نہیں کی جائے گی اور انتظامیہ کے پاس موجود غیر ضروری اختیارات کو کم نہیں کیا جائے گا
تب تک رانا پلازہ جیسے المیوں کا سایہ بنگلہ دیشی صنعت پر منڈلاتا رہے گا۔ پائیدار معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ منافع کے ساتھ ساتھ محنت کش کے وقار اور تحفظ کو بھی ترجیح دی جائے
