October 29, 2026

زرعی مزدوروں کی جدوجہد کا اہم سنگِ میل

 زرعی مزدوروں کی جدوجہد کا اہم سنگِ میل

رپورٹ ( محمد احتشام ، نمایندہ لیبر نیوز)

پاکستان میں زراعت کو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، لیکن اس شعبے سے وابستہ لاکھوں ہاری اور کھیت مزدور دہائیوں سے اپنے بنیادی قانونی اور معاشی حقوق سے محروم چلے آ رہے تھے۔ اس استحصالی نظام کے خلاف نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان کی مسلسل اور طویل جدوجہد کے نتیجے میں ایک تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے

جس نے سندھ کے ہاریوں، کھیت مزدوروں، ایگریکلچر ورکرز اور ماہی گیروں کو ‘سندھ انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ  کے تحت قانونی طور پر باقاعدہ ورکر محنت کش تسلیم کروایا۔

فیڈریشن کی ان ہی تاریخی کوششوں کے باعث نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار زرعی مزدوروں کو ایک چھتری تلے منظم کرتے ہوئے سندھ ایگریکلچر جنرل ورکرز یونین” کی باقاعدہ رجسٹریشن کروائی گئی

یہ یونین اس وقت صوبے کے غریب زرعی مزدوروں کے لیے سوشل سیکیورٹی، اولڈ ایج بینیفٹس (پنشن) اور رائج الوقت لیبر قوانین کے تحت تمام بنیادی حقوق کے حصول کے لیے ایک توانا آواز بن کر مسلسل جدوجہد کر رہی ہے

آج کی تاریخ میں سندھ کے 16 مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 10 ہزار سے زائد ممبران اس یونین کا حصہ بن کر اپنے حقوق کے لیے منظم جدوجہد کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں

اسی سلسلے میں سندھ ایگریکلچر جنرل ورکرز یونین کا دو روزہ سالانہ اجلاس 21 اور 22 جون کو صوبائی دارالحکومت کراچی میں نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان کے مرکزی دفتر میں منعقد ہوا اس اہم ترین اجلاس میں سندھ بھر سے نامور ہاری رہنما اور یونین کے منتخب نمائندگان خصوصی طور پر شرکت کر رہے ہیں

دو روزہ بیٹھک کے دوران جہاں یونین کے اندرونی تنظیمی امور کا جائزہ لیا جائے گا، وہی سندھ کے ہاریوں اور زرعی مزدوروں کو درپیش موجودہ کٹھن مسائل، موسمیاتی تبدیلیوں کے زراعت پر اثرات، مالکان کی جانب سے کی جانے والی حق تلفی اور حقوق کے تحفظ کے لیے آئندہ کے جامع لائحہ عمل اور حکمتِ عملی پر تفصیلی غور و خوض کیا جائے گا۔

اس تاریخی اور اہم اجلاس کی صدارت سندھ ایگریکلچر جنرل ورکرز یونین کی مرکزی صدر سبھاگی بھیل کریں گی، جو خود ہاری طبقے سے تعلق رکھتی ہیں اور مزدور خواتین کی حقوق کی ایک مضبوط علامت بن کر ابھری ہیں

اجلاس کی انفرادیت یہ ہے کہ اس میں سندھ کے دور دراز اضلاع سے نچلی سطح کے منتخب ہاری نمائندگان شریک ہو کر اپنے اپنے علاقوں کے مسائل میز پر رکھیں گے:

یہ کانفرنس اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ جب تک کھیتوں میں پسینہ بہانے والے آخری ہاری کو اس کا جائز قانونی مقام، منصفانہ معاوضہ اور تحفظ نہیں مل جاتا، زرعی مزدوروں کے حقوق کی یہ طبقاتی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp