کپاس کی پکار موبائل ایپ پنجاب اور سندھ کی زرعی مزدور یونینز کا تاریخی انقلاب
بھارت کے محنت کشوں کا یکم جولائی سے ملک گیر احتجاج کا اعلان

سلمان جاوید ، ہیڈ ساوتھ ایشاء ڈیسک
بھارت میں دیہی محنت کشوں کی تنظیموں کے ایک بڑے اتحاد نے، جس میں این آر ای جی اے سنگھرش مورچہ اور جوائنٹ پلیٹ فارم فار ایگریکلچرل اینڈ رورل ورکرز یونینز شامل ہیں، مرکزی حکومت کی مجوزہ نئی اسکیم کے خلاف یکم جولائی سے غیر معینہ مدت کے لیے ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے
یہ احتجاج مودی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف کیا جا رہا ہے جس کے تحت دیہی روزگار کی ضمانت کے تاریخی قانون ‘مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ کو ختم کر کے اس کی جگہ ‘وِکست بھارت گارنٹی فار روزگار اینڈ آیویکا مشن یعنی نافذ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزدور رہنماؤں اور سماجی کارکنوں نے اس نئی اسکیم کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے
ان کا مؤقف ہے کہ یہ نئی اسکیم منریگا کے اس بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دے گی جو مزدوروں کو قانونی حق کے طور پر روزگار فراہم کرتا ہے، جس سے کروڑوں دیہی محنت کشوں کا روزگار شدید خطرے میں پڑ جائے گا۔
این آر ای جی اے سنگھرش مورچہ کے رہنما نکھل ڈے نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہمارا پہلا اور بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ نئی اسکیم کو فوری طور پر رول بیک کیا جائے اور منریگا کے ڈیمانڈ بیسڈ طلب پر مبنی روزگار کے نظام کو بحال کیا جائے
مزدور تنظیموں نے حکومت کے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ نئی اسکیم کے تحت دیہی خاندانوں کے لیے گارنٹی شدہ روزگار کے دن 100 سے بڑھا کر 125 کر دیے جائیں گے۔
مزدور تنظیموں کے کے مطابق 9 جون کو مرکزی حکومت کی جانب سے عبوری بجٹ میں کی گئی مختص رقم کی بنیاد پر، بہترین صورتحال میں بھی کسی خاندان کو سال میں صرف 42 دن کا کام مل سکے گا
بڑے صوبوں میں یہ صورتحال مزید ابتر ہوگی۔ ان کے تخمینے کے مطابق، سالانہ بنیادوں پر آندھرا پردیش میں مزدوروں کو صرف 42.35 دن، چھتیس گڑھ میں 39.07 دن، بہار میں 30.94 دن، اتر پردیش میں 27.50 دن، کرناٹک میں 26.44 دن اور مہاراشٹر میں محض 14.40 دن کا کام مل پائے گا۔
مسودے کی اس شق پر بھی شدید تنقید کی گئی جس کے تحت ریاستی حکومتوں کو اس پروگرام کے 40 فیصد اخراجات خود برداشت کرنے ہوں گے، جسے ریاستوں پر ایک غیر معمولی مالی بوجھ قرار دیا گیا ہے
مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑی ریاست کے پاس اتنے فنڈز نہیں ہیں کہ وہ وعدہ کیے گئے 125 دنوں کا آدھا حصہ بھی پورا کر سکے۔ اس گارنٹی کو پورا کرنے کے لیے صرف اتر پردیش کو مزید 28,000 کروڑ روپے اور مہاراشٹر کو 31,000 کروڑ روپے سے زائد کی اضافی فنڈنگ کی ضرورت ہوگی
وزارتِ دیہی ترقی نے 22 مئی کو اس نئی اسکیم کے قوانین کا مسودہ جاری کر کے 20 جون تک عوامی رائے مانگی تھی۔ لیبر گروپس کا کہنا ہے کہ وہ اس کے خلاف اپنی رائے جمع کرا چکے ہیں جس میں اسکیم کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے
کارکنوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ نئے مسودے میں اجرتوں میں اضافے پر مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے، جبکہ منریگا کے تحت ملنے والی اجرتیں پہلے ہی کئی ریاستوں میں قانونی کم از کم اجرت سے کم ہیں۔
اسکیم کا ایک اور متنازع پہلو ڈیجیٹل تصدیقی نظام اور ای کے وائی سی کی لازمی شرط ہے۔ نکھل ڈے کے مطابق، اس ڈیجیٹل نظام نے ملک بھر کے دیہی علاقوں میں تباہی مچائی ہے اور لاکھوں غریب مزدوروں کو روزگار سے محروم کر دیا ہے
راجستھان اسنگٹھت مزدور یونین کی مدھولیکا نے بتایا کہ چہرے کی شناخت کے نظام کی وجہ سے خواتین کو کام دینے سے انکار کر دیا جاتا ہے کیونکہ معمولی سی ظاہری تبدیلی پر مشین انہیں نہیں پہچانتی
خواتین کا کہنا ہے کہ مشین کے سامنے پہچان کے لیے انہیں روز ایک ہی ساڑھی اور بلاؤز پہننا پڑتا ہے، جبکہ سافٹ ویئر اپڈیٹس کی وجہ سے سرکاری ریکارڈ سے کام کی جگہیں ہی غائب ہو جاتی ہیں۔
آل انڈیا ایگریکلچرل ورکرز یونین کے جنرل سیکرٹری بی وینکٹ نے ملک گیر تحریک کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان تبدیلیوں سے سب سے زیادہ نقصان خواتین، دلتوں اور آدیواسیوں قبائلیوں کو پہنچے گا جو منریگا ورکرز کا ایک بڑا حصہ ہیں
انہوں نے واضح کیا کہ مزدوروں پر یہ حملہ براہِ راست سماجی انصاف پر حملہ ہے تنظیموں نے حکومت کے اس دعوے کو بھی جھوٹا قرار دیا کہ منتقلی کے دوران کسی کا روزگار ختم نہیں ہوگا۔ ڈیٹا کے مطابق، سال 2026 کے پہلے پانچ مہینوں میں اتر پردیش، راجستھان، کرناٹک، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں روزگار کی فراہمی میں واضح کمی دیکھی گئی ہے
یکم جولائی سے شروع ہونے والا یہ احتجاج ملک بھر میں پنچایت کی سطح پر منظم کیا جائے گا اور حکومت کی جانب سے اسکیم کی واپسی تک جاری رہے گا۔
