October 29, 2026

پنجاب سوشل سیکیورٹی کے اسپتالوں میں مزدوروں کے مسائل

 پنجاب سوشل سیکیورٹی کے اسپتالوں میں مزدوروں کے مسائل

رپورٹ ( عامر سہیل، ریذیڈنٹ ایڈیٹر لیبر نیوز پنجاب )  

پاکستان فوڈ ورکرز فیڈریشن لاہور ریجن کے زیرِ اہتمام صوبے بھر کے سوشل سیکیورٹی ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں محنت کشوں کو درپیش شدید طبی و انتظامی مسائل کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی نشست منعقد ہوئی ہے

 اس اہم ترین بیٹھک میں نجی کارخانوں اور مختلف صنعتی شعبوں سے وابستہ ورکرز اور لیبر یونینز کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور پنجاب سوشل سیکیورٹی کے طبی نظام میں موجود خامیوں اور مزدوروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر شدید تحفظات کا اظہار کیا

نشست میں پنجاب ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن  گورننگ باڈی پنجاب کے ممبر اور سینیٹیشن ورکرز فیڈریشن کے چیئرمین عرفان احمد علوی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور محنت کشوں کے مسائل کو اعلیٰ حکام تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا

اس مشاورتی نشست کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں صرف خوراک کے شعبے سے وابستہ افراد ہی نہیں، بلکہ مختلف تجارتی اور صنعتی تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ تقریب میں پیپسی کو شیزان انٹرنیشنل، جے اینڈ پی کوٹس، آل قصور پاور لومز، بھٹہ مزدور یونین اور ستھرا پنجاب لیبر یونین کے عہدیداران سمیت فیکٹری ورکرز نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کر کے مزدوروں کے مسائل کو اجاگر کیا

اجلاس کے دوران شرکاء اور فیکٹری ورکرز نے سوشل سیکیورٹی پنجاب کے مختلف ہسپتالوں اور شعبوں میں روزانہ کی بنیاد پر پیش آنے والے طبی و انتظامی مسائل کے حوالے سے تفصیلات فراہم کیں

مزدور رہنماؤں نے شکایت کی کہ نجی کمپنیوں اور کارخانوں سے سوشل سیکیورٹی کی مد میں باقاعدگی سے فنڈز کٹوانے کے باوجود جب ایک غریب مزدور یا اس کا خاندان علاج کے لیے ہسپتال پہنچتا ہے تو اسے شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہسپتالوں میں ادویات کی عدم دستیابی، ڈاکٹروں کا غیر مناسب رویہ اور تشخیصی ٹیسٹوں میں غیر ضروری تاخیر جیسے مسائل نے مزدوروں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے

مہمانِ خصوصی اور پیسی گورننگ باڈی کے ممبر عرفان احمد علوی نے شرکاء کی شکایات کو غور سے سنا اور ان سے یکجہتی کا اظہار کیا

انہوں نے فیکٹری ورکرز اور یونین رہنماؤں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ان تمام جائز انتظامی اور طبی شکایات کو صرف اپنے تک محدود نہیں رکھیں گے، بلکہ پیسی کی گورننگ باڈی کے آئندہ اجلاس میں ان تمام معملات کو باقاعدہ ایجنڈے کے طور پر پیش کریں گے۔

عرفان احمد علوی نے مزید کہا کہ وہ وزیرِ محنت پنجاب، کمشنر پیسی اور سیکرٹری لیبر کے سامنے ان تمام مسائل کے فوری اور پائیدار حل کے لیے بھرپور آواز بلند کریں گے تاکہ محنت کش طبقے کو ان کا آئینی اور قانونی حق بغیر کسی رکاوٹ کے مل سکے

انہوں نے واضح کیا کہ سوشل سیکیورٹی کے ادارے مزدوروں کے خون پسینے کی کمائی سے چلتے ہیں، اس لیے ان ہسپتالوں پر پہلا اور اصل حق بھی انہی غریب محنت کشوں کا ہے۔

نشست کے اختتام پر پاکستان فوڈ ورکرز فیڈریشن اور دیگر شریک تنظیموں کے مابین اتفاق کیا گیا کہ مزدوروں کے حقوق کی بحالی اور سوشل سیکیورٹی ہسپتالوں میں بہتر طبی سہولیات کے حصول تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

اس سلسلے میں صوبے کے دیگر اضلاع اور صنعتی زونز میں بھی ایسی مشاورتی نشستوں کا سلسلہ جاری رکھنے پر مکمل اتفاق کیا گیا تاکہ تمام صنعتی ورکرز کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر کے انتظامیہ پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp