October 30, 2026

محنت کشوں کی جدوجہد اور ہمارا سماج

 محنت کشوں کی جدوجہد اور ہمارا سماج

تحریر ( ندیم خان ) کسی بھی معاشرے کی معاشی بقا اور ترقی کا اصل دارومدار اس کے محنت کش طبقے پر ہوتا ہے۔ وہ کارخانوں کی مشینوں کا شور ہو، کھیتوں میں لہلہاتی ہریالی ہو یا شہروں کے آسمان سے باتیں کرتی بلند و بالا عمارتیں؛ ان سب کے پیچھے کسی نہ کسی مزدور کے پسینے کی خوشبو اور انتھک محنت کی داستان چھپی ہوتی ہے۔

 محنت کش دراصل وہ معمار ہے جو اپنی ہڈیوں کا ایندھن جلا کر سماج کے روشن مستقبل کی تعمیر کرتا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ جس کے ہاتھ اس دنیا کو سنوارتے ہیں، وہی ہاتھ اکثر خالی رہتے ہیں اور یہی طبقہ سب سے زیادہ معاشی مشکلات، کم اجرت اور سماجی ناانصافی کی چکی میں پستا ہے۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں معیشت کا سارا بوجھ پیداواری شعبوں پر ہے، محنت کشوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ تعمیرات، صنعت، زراعت اور خدمات کے شعبوں میں مزدور ہی وہ حقیقی قوت ہیں جو ملک کے معاشی پہیے کو رواں رکھتے ہیں۔ لیکن افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ پالیسی سازی کے ایوانوں میں ان کی آواز سب سے کمزور ہے۔ ریاست اور صنعت کار طبقہ اکثر ان کے بنیادی مسائل سے آنکھیں چرا لیتا ہے۔

حالیہ برسوں میں مہنگائی کے جس طوفان نے سر اٹھایا ہے، اس نے سفید پوش اور محنت کش طبقے کے لیے جینا محال کر دیا ہے۔ آٹا، بجلی اور ادویات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے مزدور کی “کم از کم اجرت” کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ روزگار کے غیر یقینی حالات اور سماجی تحفظ کے اداروں (جیسے سیسی اور ای او بی آئی) کی عدم دلچسپی نے محنت کش کو بے سہارا چھوڑ دیا ہے۔ جب ایک مزدور کو اس کی محنت کا مناسب صلہ نہیں ملتا، تو اس کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا خاندان غذائی قلت اور جہالت کے اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔

ایک منصفانہ معاشرے کی پہچان ہی یہ ہے کہ وہاں محنت کی قدر کی جائے اور مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کا حق دیا جائے۔ تعلیم، صحت اور کام کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری اور معاشرے کا اخلاقی تقاضا ہے۔ سرمایہ دار طبقے کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مزدور کی خوشحالی دراصل ان کے اپنے کاروبار کی پائیداری کی ضمانت ہے۔ اگر معمارِ قوم ہی بھوکا اور بیمار ہوگا، تو ترقی کی عمارت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گی۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم کھوکھلے نعروں اور سال میں ایک دن “یومِ مزدور” منانے کی روایت سے باہر نکلیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محنت کشوں کی آواز کو سنا جائے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ اجرتوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ، سوشل سیکیورٹی کارڈز کی فراہمی اور لیبر قوانین پر سختی سے عملدرآمد ہی وہ راستے ہیں جو ایک مضبوط اور منصفانہ پاکستان کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ یاد رکھیے، جب مزدور خوشحال ہوگا تو معاشرہ ترقی کرے گا، اور یہی خوشحالی ہمارے قومی وقار کی اصل ضامن ہے

 

 تعارف ندیم خان کا شمار ان دانشوروں اور سماجی کارکنوں میں ہوتا ہے جو محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد میں علمی اور عملی طور پر صفِ اول میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان کا قلم محنت کش طبقے کی آواز بن کر ایوانوں میں گونجتا ہے، جہاں وہ اپنی تخلیقات کے ذریعے مزدوروں کے ماتھے کے پسینے کی قدر اور ان کے حقوق کے تحفظ کی وکالت کرتے ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
1 Shares

مزید خبریں

WhatsApp