کپاس کی پکار موبائل ایپ پنجاب اور سندھ کی زرعی مزدور یونینز کا تاریخی انقلاب
ایڈز اسکینڈل : سندھ ہائیکورٹ کے کمرہٴ عدالت میں متاثرہ بچوں کے لواحیقین کی آہ بکا

کراچی ( لیبر نیوز ویب ڈیسک) سندھ ہائیکورٹ میں ولیکا ہسپتال میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے کیس کی سماعت کے دوران متاثرہ بچوں کے والدین اور وکلاء کے شدید احتجاج، نعرے بازی اور شور شرابے کے باعث صورتِ حال کشیدہ ہو گئی، جس پر جج چیمبر میں چلے گئے
درخواست گزار کے وکلاء طارق منصور اور سرفراز مغل نے موقف اختیار کیا کہ اب تک 9 بچے جان بحق ہو چکے ہیں مگر حقائق اور انکوائری رپورٹ عدالت سے چھپائی جا رہی ہے۔سماعت کے دوران انکشاف کیا گیا کہ ڈریپ نے مختلف مقامات سے ایسی سرنجیں برآمد کی ہیں جو دوبارہ استعمال ہو سکتی ہیں
سیسی کے وکیل محسن شاہوانی نے بتایا کہ غفلت کے مرتکب 37 افسران کو معطل کر کے شوکاز نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ متاثرین کی امداد کے لیے 2 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے
سماعت کے موقع پر ذوالفقار جونیئر نے بھی عدالت پہنچ کر متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا اور نظامِ صحت پر شدید تنقید کی۔ عدالت نے فریقین کے جذباتی رویے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ قانون کے مطابق وکالت کی جائے اور واضح کیا کہ کیس کا حکم نامہ جلد جاری کیا جائے گا
