October 30, 2026

 سندھ کا محکمہ محنت اور ٹریڈ یونینزکا مقدس گٹھ جوڑ

  سندھ کا محکمہ محنت اور ٹریڈ یونینزکا مقدس گٹھ جوڑ

تحریر ( محمد سلیم ، صدر پی سی ای ایم ) کراچی، جو کبھی اپنی فعال مزدور تحریکوں اور ٹریڈ یونینز کی بدولت پورے ملک میں ایک منفرد شناخت رکھتا تھا، آج ایک عجیب و غریب منظر نامے کا گواہ بن رہا ہے۔ شہر کے صنعتی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ کیا سندھ کا محکمہ محنت اور ٹریڈ یونینز کے نمائندے اب ایک ہی تصویر کے دو رخ بن چکے ہیں؟

حالیہ مہینوں میں منعقد ہونے والی محافل، سیمینارز اور سرکاری پروگراموں میں ایک خاص رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے؛ ہر جگہ وہی چند چہرے، وہی مخصوص افسران اور وہی لیبر لیڈرز نظر آتے ہیں۔ اس قریبی تعلق نے محنت کش طبقے کے ذہنوں میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے

ٹریڈ یونین کا بنیادی مقصد محکمے کی کوتاہیوں پر نظر رکھنا اور مزدور کے حق کے لیے آواز اٹھانا ہوتا ہے۔ لیکن سندھ میں صورتحال کچھ مختلف دکھائی دے رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ محکمہ محنت کے افسران اور لیبر منسٹر کے ساتھ یونین رہنماؤں کے دل لگ گئے ہیں

یہ ہم آہنگی بظاہر مثبت معلوم ہو سکتی ہے، لیکن جب ریگولیٹر محکمہ محنت اور جس کی نگرانی کرنی ہے یونینز اور مالکان ایک ہی میز پر نظر آئیں تو مفادات کے ٹکراؤ کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے یہ صورتحال مقدس گٹھ جوڑ لگتا ہے جس کا نقصان صرف اور صرف اس عام مزدور کو ہو رہا ہے جو آج بھی سڑکوں پر اپنے حقوق کے لیے خوار ہے۔

اس پورے منظر نامے میں سب سے تشویشناک پہلو گورننگ باڈیز میں ہونے والی سلیکشن ہے ایک مخصوص لابی یا فرد واحد جنگل کے قانون کی طرح پسند اور ناپسند کی بنیاد پر تقرریاں کر رہا ہے گورننگ باڈیز، جن کا کام پالیسی سازی اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے اب مبینہ طور پر نوازشات بانٹنے کا مرکز بنتی جا رہی ہیں۔

ایک ایسے شخص کا ذکر کثرت سے کیا جا رہا ہے جو پسِ پردہ رہ کر ڈوریاں ہلا رہا ہے اور اس بات کا تعین کر رہا ہے کہ کون کس کمیٹی کا حصہ بنے گا اور کسے نوازا جائے گا اس طرزِ عمل نے ان محنت کشوں اور ایماندار افسران میں مایوسی پیدا کر دی ہے جو میرٹ کی بنیاد پر نظام کی بہتری چاہتے ہیں۔

سندھ کی ٹریڈ یونینز اور لیبر فیڈریشنز کے ذمہ داران پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سرکاری دفاتر کی زینت بننے کے بجائے فیکٹریوں کے گیٹ پر کھڑے ہو کر مزدور کی پکار سنیں۔ جب لیڈر اور افسر ایک ہی رنگ میں رنگے جائیں، تو عام آدمی کا عدالتِ انصاف تک پہنچنا ناممکن ہو جاتا ہے

کراچی کا صنعتی پہیہ تبھی درست سمت میں چلے گا جب یونینز اپنی خود مختار حیثیت برقرار رکھیں گی اور محکمہ محنت صرف تصاویر بنوانے کے بجائے قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گا۔ اگر یہ ‘کمال’ کا گٹھ جوڑ یوں ہی برقرار رہا، تو سندھ کی مزدور تحریک اپنی رہی سہی ساکھ بھی کھو دے گی

تعارف : محمد سلیم پاکستان کے معروف مزدور رہنما اور پاکستان فیڈرشن آف کیمیکل انرجی مائنز اینڈ جنرل ورکرز یونین کے صدر ہیں مصنف کیمیکل، توانائی اور مائنز سیکٹر سے وابستہ محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ، لیبر قوانین کے نفاذ اور صنعتی مسائل کے حل کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں اور ساتھ ہی مزدور تحریک میں اپنی جدوجہد، مؤثر قیادت اور محنت کشوں کی نمائندگی کے حوالے سے ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
2 Shares

مزید خبریں

WhatsApp