بھارت میں نئے لیبر کوڈز سے مزدوروں کے تحفظ کا نیا دور
سلمان جاوید ، ہیڈ ساوتھ ایشیاء ڈیسک
مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائززایم ایس ایم ای کو ہندوستان کی معاشی ترقی اور صنعتی استحکام کی ریڑھ کی ہڈنگ تصور کیا جاتا ہے۔ ملک کی مجموعی قومی پیداوار جی ڈی پی میں 30 فیصد سے زائد حصہ ڈالنے والے اس شعبے میں تقریباً 6.5 کروڑ اکائیاں قائم ہیں، جو 28 کروڑ افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہیں
تاہم طویل عرصے سے پیچیدہ ریگولیٹری قوانین، کاغذی کارروائیوں اور سخت تعمیلی ضوابط کو اس شعبے کی آزادانہ نمو میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا رہا ہے۔ حکومتِ ہند کی جانب سے متعارف کروائے گئے نئے لیبر کوڈز کا بنیادی مقصد ان دیرینہ مسائل کا تدارک، کاروباری آسانی کو فروغ دینا اور محنت کشوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنا ہے
نئے لیبر کوڈز کے تحت ایم ایس ایم ایز پر سے قانونی تعمیل کا بوجھ نمایاں طور پر کم کیا گیا ہے بجلی کے ساتھ کام کرنے والے اداروں کے لیے لائسنس کی حد 10 سے بڑھا کر 20 اور بغیر بجلی والے اداروں کے لیے 20 سے بڑھا کر 40 کارکنان کر دی گئی ہے۔ فیکٹری کی توسیع اور تعمیر کی منظوری کی مجموعی مدت کو 90 دن سے گھٹا کر صرف 30 دن تک محدود کر دیا گیا ہے
اب بھارت بھر میں 5 سال کے لیے قابلِ قبول واحد لائسنس، ایک ہی الیکٹرانک رجسٹریشن اور سنگل ریٹرن کا نظام متعارف کروایا گیا ہے پچاس سے کم مزدور رکھنے والے ٹھیکیداروں کو لائسنس کے اضافی ضوابط سے استثنیٰ دیا گیا ہے جبکہ پہلے یہ حد 20 مزدوروں کی تھی۔
اداروں کی بندش، لے آف یا ریٹرنچمنٹ کے لیے منظوری کی مقررہ حد 100 سے بڑھا کر 300 مزدور کر دی گئی ہے، جس سے چھوٹے کاروباری اداروں کو مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق فوری فیصلے کرنے کی لچک حاصل ہوئی ہے رواں معائنہ کاری کو ویب بیسڈ رینڈمائزڈ سسٹم اور انسپکٹر-فیسلیٹیٹر ماڈل سے بدل دیا گیا ہے، جس سے روایتی ہراسانی اور قانونی خوف کم ہوگا۔
ان اصلاحات میں محض آجرین ہی کو سہولیات فراہم نہیں کی گئیں بلکہ مزدوروں کی فلاح، مساوات اور وقار کے لیے جامع دفعات بھی شامل کی گئی ہیں کم از کم اجرت کی شرط کو تمام تر ملازمین پر نافذ کر دیا گیا ہے اور ملک بھر میں مزدوروں کی غیر ضروری نقل و مکانی کو روکنے کے لیے ایک یکساں فلور ویج مقرر کی جائے گی
نئے لیبر کوڈ کے مطابق تمام ملازمین کے لیے تقرری نامہ جاری کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ 180 دن کام کرنے والے مزدور با معاوضہ سالانہ چھٹی کے حقدار ہوں گے یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کو شفٹ کے اختتام پر، جبکہ ماہانہ ملازمین کو اگلے مہینے کی 7 تاریخ کے اندر اجرت کی ادائیگی کو قانونی طور پر لازم قرار دیا گیا ہے
فکسڈ ٹرم ایمپلائمنٹ کے تحت عارضی طور پر رکھے گئے مزدوروں کو بھی باقاعدہ ملازمین کے برابر اجرت، الاؤنسز، بونس اور سوشل سیکیورٹی فوائد حاصل ہوں گے ملازمت اور اجرت میں ٹرانس جینڈر افراد سمیت کسی بھی بنیاد پر امتیازی سلوک کو ممنوع قرار دیا گیا ہے، اور ہر ملازم کے لیے مفت سالانہ طبی معائنے کی سہولت کو لازمی بنایا گیا ہے
بھارت کے نئے لیبر کوڈز نہ صرف ایم ایس ایم ای شعبے کو جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہیں، بلکہ تعمیلی اخراجات میں کمی اور آپریشنل لچکداری کے ذریعے ان کی پیداوری صلاحیت کو بڑھاتے ہیں
قانونی تعمیل کو سہل بنانے اور محنت کشوں کو مضبوط سماجی تحفظ فراہم کرنے کے یہ متوازن اقدامات ہندوستان کو 2047 تک ایک ترقی یافتہ معیشت بنانے کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت ثابت ہوں گے
