October 30, 2026

کیا بجٹ میں محنت کش کو ریلیف ملے گا؟

 کیا بجٹ میں محنت کش کو ریلیف ملے گا؟

خالد خان

پاکستان کا محنت کش طبقہ اس وقت ملکی تاریخ کے بدترین معاشی بحران اور ہوش ربا مہنگائی کے دباؤ تلے سسک رہا ہے۔ وفاق اور صوبائی حکومتیں جب مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاریوں میں مصروف ہیں، تو کراچی کی سڑکوں سے لے کر صنعتی علاقوں کے کوارٹرز تک، ہر طرف سے ایک ہی فریاد سنائی دے رہی ہے کہ اب جینا ناممکن ہو چکا ہے

 اسی سنگین صورتحال کے پیشِ نظر حکومت سے مطالبہ ہے کہ آئندہ بجٹ میں کم از کم اجرت میں سو فیصد اضافہ کیا جائے اور بوڑھے ملازمین کی بڑھاپا پینشن کو بھی اس کم از کم اجرت کے برابر لایا جائے، تاکہ یہ پسا ہوا طبقہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے بغیر عزت وقار کے ساتھ دو وقت کی روٹی کما سکے

ملک میں مہنگائی کا گراف جس تیز رفتاری سے اوپر گیا ہے، اس نے غریب اور مزدور کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے ایک ایسا ڈومینو اثر پیدا کیا ہے

جس کی زد میں آ کر اشیائے خوردونوش، ٹرانسپورٹ، بجلی، گیس، ادویات اور بچوں کے تعلیمی اخراجات عام آدمی کی پہنچ سے کوسوں دور ہو چکے ہیں

المیہ یہ ہے کہ ایک طرف تو مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، اور دوسری طرف افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اب بھی صوبے کے لاکھوں مزدوروں کو حکومت کی مقرر کردہ پچھلی کم از کم اجرت یعنی 40 ہزار روپے بھی نہیں مل رہی

 مالکان اور فیکٹری مافیا لیبر قوانین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، جبکہ موجودہ حالات میں 40 ہزار روپے کی رقم بھی کسی ایک اوسط خاندان کی بنیادی ترین انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے

ایک مزدور صبح سے شام تک فیکٹریوں، ورکشاپوں، تعمیراتی مقامات اور حبس زدہ ماحول میں اپنی ہڈیاں پگھلاتا ہے، اپنی پوری جوانی اس ملک کی معیشت کا پہیہ چلانے میں کھپا دیتا ہے

مگر شام کو جب وہ خالی ہاتھ یا چند سو روپے لے کر گھر لوٹتا ہے تو اپنے بچوں کو دو وقت کی معیاری روٹی فراہم کرنے سے بھی قاصر ہوتا ہے

یہ صورتحال کسی بھی مہذب معاشرے اور خود کو اسلامی فلاحی ریاست کہنے والے ملک کے لیے ایک بڑا لمحۂ فکریہ ہے

جب ایک باپ اپنے معصوم بچوں کی اسکول فیس ادا نہ کر سکے، بیمار بوڑھے والدین کے علاج کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھائے مکان کا کرایہ اور بجلی کے بھاری بل ادا کرنے سے عاجز آ جائے تو یہ صرف ایک فرد یا خاندان کی ناکامی نہیں ہوتی، بلکہ یہ اس پورے ریاستی اور معاشی نظام کا المیہ بن جاتا ہے جو اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکا ہے

موجودہ پاکستان میں تعلیم اور صحت اب بنیادی انسانی حقوق نہیں رہے، بلکہ یہ چند سرمایہ داروں کے لیے ایک انتہائی منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کر چکے ہیں

ایک غریب محنت کش اب اپنے بچوں کو کسی اچھے تعلیمی ادارے میں پڑھانے کا خواب دیکھنا تو دور، سرکاری ہسپتالوں کی لائنوں میں لگ کر ذلیل ہونے پر مجبور ہے

دوسری طرف مہنگائی کا مسلسل بڑھتا ہوا طوفان اس کے منہ سے روٹی کا آخری نوالہ بھی چھیننے پر تلا ہوا ہے۔ اگر ہم دنیا کے ترقی یافتہ ممالک پر نظر دوڑائیں تو وہاں ریاست اپنے شہریوں کو تعلیم، صحت، روزگار اور سوشل سیفٹی نیٹ کی صورت میں سماجی تحفظ فراہم کرتی ہے

یہاں تک کہ ہمارے پڑوسی ممالک میں بھی عوام کو بنیادی سہولتیں نسبتاً بہتر اور سستے داموں میسر ہیں، لیکن پاکستان کا محنت کش آج بھی 2026ء میں زندگی کی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے

 مزدور حکومت سے کسی خیرات، وظیفے یا امدادی کارڈز کی بھیک نہیں مانگ رہے بلکہ وہ اپنے خون پسینے کے اس جائز حق کا مطالبہ کر رہے ہیں جو آئینِ پاکستان اور عالمی لیبر قوانین نے انہیں دیا ہے

اگر ایک مزدور کو اس کی محنت کا مناسب اور بروقت معاوضہ مل جائے، تمام مزدوروں کو سوشل سیکیورٹی اور ای او بی آئی  میں لازمی رجسٹرڈ کیا جائے، تو وہ خود اپنے بچوں کو تعلیم دلوا سکتا ہے اور بڑھاپے میں کسی کا محتاج بنے بغیر دوا خرید سکتا ہے

حکومت کو چاہیے کہ وہ بجٹ سازی کے بند کمروں میں بیٹھ کر صرف سرمایہ دار طبقے اور تاجروں کو رعایتیں دینے کے بجائے پینشنرز، مزدوروں اور غریب عوام کی چیخوں کو بھی سنے، کیونکہ ایک مضبوط، پرامن اور خوشحال پاکستان کی بنیاد صرف اور صرف ایک خوشحال اور مطمئن مزدور پر ہی رکھی جا سکتی ہے۔

تعارف :  خالد خان اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی مزدورتنظیم نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے صدر کے فرائض انجام دے رہے ہیں، آپ پاکستان کی مزدور تحریک کا ایک معتبر، نڈر اور انتہائی متحرک نام ہیں۔ وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے محنت کشوں کے حقوق، لیبر قوانین کے نفاذ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف صفِ اول میں رہ کر جدوجہد کر رہے ہیں خالد خان کی قیادت میں این ایل ایف کراچی نے صنعتی مزدوروں، کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے تاکہ پاکستان کے غریب مزدور کو اس کا آئینی اور قانونی مقام مل سکے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp