اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
مزدور کی 35 ہزار تنخواہ اور 458 کا پیٹرول
رپورٹ ( علی ملک، ایڈیٹر لیبر نیوز )
کیا پاکستانی مزدور کے پاس اب صرف ‘خودکشی’ کا راستہ بچا ہے ؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر مزدور خود سے کر رہاہے
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافے نے ملک کے کروڑوں محنت کشوں کو ایک ایسے بند گلی میں دھکیل دیا ہے جہاں بقا کی جنگ اب ناقابلِ تسخیرہوتی جا رہی ہے
ایک طرف پیٹرول کی قیمت 458 روپے اور ڈیزل 540 روپے کی بلند ترین سطح کو چھو رہا ہے، تو دوسری طرف حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم اجرت یعنی 35,000 روپے اب ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے
پیٹرول کی قیمت میں اس سنگین اضافے نے ایک عام مزدور کی زندگی کو بری طرح مفلوج کر دیا ہے اگر ایک اوسط محنت کش کی ماہانہ تنخواہ 35,000 روپے کو سامنے رکھا جائے، تو موجودہ قیمتوں کے تناظر میں اس کا بجٹ کچھ اس طرح نظر آتا ہے
کم از کم بجلی کا بل 6,000 روپے اور گیس میٹر کا فکسڈ ٹیکس 1,000 روپے ملا کر مجموعی طور پر 8,000 سے 10,000 روپے صرف یوٹیلٹی بلز کی نذر ہو جاتے ہیں
پیٹرول 458 روپے ہونے کے بعد، موٹر سائیکل پر کام پر جانے والے مزدور کا ماہانہ خرچ 12,000 سے 15,000 روپے تک جا پہنچا ہے
دودھ 240 روپے لیٹر، گیس سلنڈر 480 روپے اور پانی کا ٹینکر 5,000 روپے کا ہو چکا ہے۔ گھر کا کرایہ اور راشن نکالنے کے بعد مزدور کے پاس صفر روپے بچتے ہیں۔
پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا مطلب صرف گاڑی کا ایندھن مہنگا ہونا نہیں ہے پیٹرول کی قیمت براہِ راست ٹرانسپورٹیشن لاجسٹکس پر اثر انداز ہوتی ہے
جب ڈیزل 540 روپے کا ہوگا تو شہروں تک سبزیاں، اناج اور ادویات پہنچانے والے ٹرکوں کا کرایہ دگنا ہو جائے گا
اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ آٹا، چینی اور دالوں جیسی بنیادی اشیاء کی قیمتیں مزدور کی پہنچ سے باہر ہو رہی ہیں۔ ایک دہاڑی دار مزدور، جو صبح کام کی تلاش میں نکلتا ہے،
اب اس کشمکش میں ہے کہ وہ کام پر جانے کے لیے کرایہ بھرے یا شام کو بچوں کے لیے روٹی لے کر جائے
موجودہ بحران میں سب سے زیادہ نقصان بچوں کی تعلیم اور خاندان کی صحت کو پہنچ رہا ہے۔ 35 ہزار روپے کمانے والا شخص جب 1000 روپے گیس کا فکسڈ ٹیکس اور ہزاروں روپے بجلی کا بل دے گا، تو اس کے پاس بچوں کی اسکول فیس یا بیمار بیوی کی دوا کے لیے پیسے نہیں بچیں گے
صنعتی علاقوں میں اسکول چھوڑنے والے بچوں کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ والدین اب انہیں ورکشاپوں یا فیکٹریوں میں چائلڈ لیبر کے طور پر بھیجنے پر مجبور ہیں تاکہ گھر کا چولہا جل سکے
یہ صرف اعداد و شمار کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ ٹوٹی ہوئی امیدوں کا المیہ ہے۔ جب ایک محنت کش دن بھر پسینہ بہانے کے بعد گھر خالی ہاتھ لوٹتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی پوری دیہاڑی پیٹرول اور بجلی کے بل میں نکل گئی تو وہ شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے
یہی مایوسی معاشرے میں جرائم اور خودکشیوں کی شرح میں اضافے کا سبب بن رہی ہے
