July 23, 2026

محنت کش کی غلامی

 محنت کش کی غلامی

رپورٹ ( نوید احمد ، انچارج لیبر نیوز ویب ڈیسک ) پاکستان کے بڑے صنعتی شہروں کراچی، لاہور اور فیصل آباد میں لاکھوں محنت کش ایک ایسے استحصالی نظام کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں جہاں وہ کام تو کرتے ہیں مگر قانونی طور پر ان کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔

اپوائنٹمنٹ لیٹر  محض ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ مزدور اور آجر کے درمیان وہ قانونی پل ہے جو سوشل سیکیورٹی، ای او بی آئی  اور گریجویٹی جیسے حقوق کی ضمانت دیتا ہے

جب مزدور کو تقرر نامہ نہیں دیا جاتا تو وہ قانونی طور پر غیر موجود ہو جاتا ہے محنت کش کے پاس اپنی ملازمت، تنخواہ یا ڈیوٹی کے اوقات کا کوئی تحریری ثبوت نہیں ہوتا، جس کا فائدہ اٹھا کر آجر اسے کسی بھی وقت بغیر کسی معاوضے کے فارغ کر سکتا ہے

اس نظام کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ بغیر تقرر نامے کے کام کرنے والے مزدوروں کوآزادیِ انجمن سازی کے آئینی حق سے محروم رکھا جاتا ہے چونکہ مزدور اپنی ملازمت ثابت نہیں کر پاتا، اس لیے وہ کسی لیبر یونین کا حصہ نہیں بن سکتا

انتظامیہ اکثر ٹھیکیداری نظام کو ڈھال بنا کر مزدوروں کو تقسیم رکھتی ہے تاکہ وہ متحد ہو کر اپنے حقوق کے لیے اجتماعی سودے بازی نہ کر سکیں یہ عمل نہ صرف لیبر قوانین بلکہ آئینِ پاکستان کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔

صنعتی حادثات کی صورت میں یہ صورتحال ایک المیے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اگر کوئی مزدور دورانِ ڈیوٹی زخمی یا جاں بحق ہو جائے تو تحریری ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے مالکان اسے اپنا ملازم تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں

 اس کے نتیجے میں لواحقین نہ صرف اپنے پیارے سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں بلکہ کسی بھی قسم کے قانونی معاوضے سے بھی محروم رہ جاتے ہیں اصل مسئلہ قوانین کی کمی نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد کا فقدان ہے

فیکٹریوں کی مانیٹرنگ کا نظام کرپشن اور سستی کا شکار ہے بعض مالکان دانستہ طور پر مزدوروں کو رجسٹرڈ نہیں کرتے تاکہ ٹیکسوں اور قانونی ذمہ داریوں سے بچ سکیں

بے روزگاری اور غربت کے باعث مزدور اس ظلم کو برداشت کرنے پر مجبور ہے حکومت تمام صنعتی اداروں میں تقرر ناموں کے اجرا کو لازمی قرار دیا جائے اور ٹھیکیداری اور تھرڈ پارٹی ملازمت کے غلط استعمال پر پابندی لگائی جائے

لیبر انسپکشن کے نظام کو شفاف اور جدید بنایا جائے تا کہ یونین سازی کرنے والے مزدوروں کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کیا جائے

جب تک مزدور کو اس کی شناخت اور قانونی حقوق نہیں ملتے ملکی ترقی کا ہر دعویٰ کھوکھلا ہے یہ نظام ایک خاموش غلامی ہے جسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اب ناگزیر ہو چکا ہے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp