اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
اٹلی میں ہوم بیسیڈ وومن ورکر کی غلامی اور معاشی استحصال
رپورٹ ( مہوش ظفر ، نمائندہ لیبر نیوز اٹلی ) یورپی ملک اٹلی، جو اپنی ثقافت اور خوبصورتی کے لیے مشہور ہے، اس کے در و دیوار کے پیچھے لاکھوں تارکینِ وطن خواتین کی سسکتی زندگیوں کا ایک ایسا سچ چھپا ہے جسے دنیا پوشیدہ محنت کہتی ہے۔
اٹلی کے گھریلو محنت کے شعبے میں جاری بدترین معاشی استحصال اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں تارکینِ وطن خواتین جدید دور کی غلامی نما زندگی گزارنے پر مجبور ہیں
اٹلی میں سرکاری سطح پر تقریباً 9 لاکھ گھریلو ملازمین رجسٹرڈ ہیں، لیکن یہ محض برفانی تودے کی نوک ہے۔ اصل حقائق یہ ہیں کہ غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی طور پر کام کرنے والی خواتین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
ان میں سے اکثریت کا تعلق فلپائن، جنوبی ایشیا، مشرقی یورپ اور افریقی ممالک سے ہے، جو بہتر مستقبل کی تلاش میں اٹلی آئیں لیکن یہاں کے پیچیدہ قوانین اور زبان کی رکاوٹ نے انہیں بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔
ان خواتین کی زندگی سورج نکلنے سے پہلے شروع ہوتی ہے اور رات گئے تک ختم نہیں ہوتی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ان ملازمات کو روزانہ 12 سے 15 گھنٹے تک مسلسل کام کرنا پڑتا ہے۔
بچوں کی دیکھ بھال سے لے کر بوڑھوں کی تیمارداری اور گھر کی صفائی تک، ان کے کندھوں پر بھاری بوجھ لاد دیا جاتا ہے۔ اس قدر سخت مشقت کے باوجود انہیں دی جانے والی اجرت اٹلی کی مقررہ کم از کم اجرت سے بھی بہت کم ہے۔
اکثر صورتوں میں مالکان انہیں نقد رقم دیتے ہیں تاکہ ٹیکس اور سوشل سیکیورٹی کے واجبات سے بچ سکیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان خواتین کا بڑھاپا کسی بھی قسم کے پنشن یا طبی تحفظ سے محروم ہے۔
گھریلو ملازمہ خواتین کو نہ صرف معاشی بلکہ شدید نفسیاتی اور جسمانی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بند کمروں میں کام کرنے کی وجہ سے وہ معاشرے سے کٹ کر رہ جاتی ہیں، جہاں انہیں نسلی امتیاز، تنہائی اور اکثر اوقات جنسی و جسمانی ہراسانی کا سامنا ہوتا ہے۔
قانونی دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے یہ خواتین پولیس یا لیبر یونینز کے پاس جانے سے ڈرتی ہیں، کیونکہ انہیں ملک بدری کا خوف لاحق رہتا ہے۔ مالکان اسی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں خوف کے سائے میں رکھتے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور لیبر یونینز نے اطالوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان ‘پوشیدہ محنت کشوں’ کو فوری طور پر باقاعدہ مزدور کا درجہ دیا جائے۔ جب تک ان خواتین کو سماجی تحفظ، صحت کی سہولیات اور قانونی تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا،
اٹلی کا گھریلو شعبہ استحصال کا گڑھ بنا رہے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنائے اور مالکان پر کڑی نگرانی رکھے تاکہ “مساوی کام کی مساوی اجرت” کے عالمگیر اصول پر عمل درآمد ہو سکے۔
اٹلی کی معیشت اور معاشرت میں ان خواتین کا کردار کلیدی ہے، کیونکہ ان کی بدولت اطالوی خواتین باہر نکل کر ملازمت کر پاتی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ اطالوی ریاست ان محنت کشوں کے حقوق کو تسلیم کرے اور انہیں وہ عزت اور تحفظ فراہم کرے جس کی وہ حقدار ہیں۔
بصورتِ دیگر یہ پوشیدہ حقیقت اٹلی کے جمہوری ماتھے پر ایک بدنما داغ بنی رہے گی۔
