کپاس کی پکار موبائل ایپ پنجاب اور سندھ کی زرعی مزدور یونینز کا تاریخی انقلاب
ڈیجیٹلائزیشن اور شفافیت: سندھ سوشل سیکیورٹی کا نیا دور

تحریر : ( وسیم جمال ، کراچی)
پاکستان میں سماجی تحفظ کے ادارے محنت کش طبقے کے لیے ایک مضبوط سہارا تصور کیے جاتے ہیں۔ صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ مزدوروں کے حقوق، طبی سہولتوں اور مالی تحفظ کی فراہمی ریاستی ذمہ داریوں کا اہم حصہ رہی ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سوشل سیکیورٹی نظام نے محدود وسائل کے باوجود مزدور طبقے کی فلاح کے لیے خدمات انجام دیںابتدا میں یہ سہولیات چند بڑے شہروں اور مخصوص صنعتی شعبوں تک محدود تھیں، مگر وقت کے ساتھ یہ نظام وسیع ہوتا چلا گیا اور آج ملک بھر میں اس کی شاخیں پھیل چکی ہیں۔
سندھ میں سماجی تحفظ کے منظم نظام کی بنیاد 1971ء کے بعد رکھی گئی جب سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن نے باقاعدہ طور پر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ آج اس ادارے کے زیر انتظام صوبے بھر میں ڈسپنسریوں، میڈیکل سینٹرز اور اسپتالوں کا ایک مربوط نیٹ ورک فعال ہے۔ 14 لوکل ڈائریکٹوریٹس کے ذریعے آجروں اور محنت کشوں کی رجسٹریشن، کنٹری بیوشن کی وصولی اور مالی فوائد کی ادائیگی کا عمل جاری ہے۔ ماضی میں اس ادارے کی کارکردگی کو ایک معیار کے طور پر دیکھا جاتا تھا، حتیٰ کہ بلوچستان میں سوشل سیکیورٹی نظام کے قیام میں بھی سندھ کی انتظامی تجربات سے استفادہ کیا گیا۔
وقت کے ساتھ ساتھ ادارے کی کارکردگی کے حوالے سے مزدور اور آجر دونوں طبقات کی جانب سے تحفظات سامنے آنے لگے۔ اسی پس منظر میں موجودہ انتظامیہ نے اصلاحات کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ کمشنر سیسی ہادی بخش کلہوڑو کی تعیناتی اور صوبائی وزیر محنت سعید غنی کے دوبارہ منصب سنبھالنے کے بعد ادارے میں تبدیلیوں کو ترجیح دی گئی، جن کا مرکزی محور ڈیجیٹلائزیشن اور شفافیت کو قرار دیا گیا ہے۔
نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے سندھ بھر کے دفاتر میں بائیومیٹرک حاضری کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق اس اقدام سے ملازمین کی حاضری کے ریکارڈ میں بہتری آئی ہے اور غیر ضروری غیر حاضری کے رجحان میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ انتظامیہ کا منصوبہ ہے کہ چند ماہ بعد ملازمین کی تنخواہوں کو بھی بائیومیٹرک سسٹم سے منسلک کیا جائے تاکہ کارکردگی اور مالی ادائیگی کا نظام مزید شفاف ہو سکے۔
اس کے علاوہ اسپتالوں اور فیلڈ دفاتر میں نگرانی کے لیے کیمروں کی تنصیب کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد صرف مانیٹرنگ نہیں بلکہ سروس ڈیلیوری کے معیار کو بہتر بنانا اور عوامی اعتماد کو مضبوط کرنا ہے۔ جدید انتظامی نظام میں جوابدہی کو بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے، اور یہ اقدامات اسی سمت میں اہم پیش رفت تصور کیے جا رہے ہیں۔
ادویات کی فراہمی کے نظام کو بھی ازسرنو ترتیب دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ماضی میں محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے ادویات کی عدم دستیابی، تاخیر یا معیار کے حوالے سے شکایات سامنے آتی رہی تھیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر کامران اعوان، ڈائریکٹر پروکیورمنٹ ڈاکٹر اکرم شیخ اور چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر حنا اعجاز کی تجاویز کی روشنی میں نئی پالیسی کی منظوری دی گئی ہے۔ توقع ہے کہ رواں مالی سال کی آخری سہ ماہی سے ادویات کی خریداری اور سپلائی کا نیا نظام فعال ہو جائے گا جس سے معیاری ادویات کی بروقت فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
انسانی وسائل کسی بھی ادارے کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔ اسی حقیقت کے پیش نظر طویل عرصے بعد سیسی کے افسران اور اسٹاف کی تربیت کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔ وائس کمشنر سکندر بلوچ اور کمشنر ہادی بخش کلہوڑو خود ان تربیتی پروگراموں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران فیلڈ ڈائریکٹرز، سوشل سیکیورٹی افسران اور دیگر عملے کے لیے مختلف تربیتی کورسز منعقد کیے گئے ہیں جبکہ مستقبل میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی پیشہ ورانہ تربیت کو بھی ترجیح دی جائے گی۔
جدید انتظامی ضروریات کے مطابق ادارے کو پیپر لیس سسٹم کی طرف لے جانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دفتری امور کو ای میل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے تیز اور مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ دفاتر کو کمپیوٹرائزڈ آلات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے جبکہ ادارے کی ویب سائٹ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔
ویب پورٹل پر لوکل ڈائریکٹوریٹس، اسپتالوں، سرکل دفاتر، ڈاکٹرز اور کنسلٹنٹس کے اوقات کار، گوگل لوکیشن اور دیگر ضروری معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ افسران کی سنیارٹی لسٹ، ٹرانسفر و پوسٹنگ آرڈرز اور دیگر سرکاری دستاویزات بھی عوامی دسترس میں لانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جو شفافیت کی طرف اہم قدم ہے۔ مستقبل میں مزید ریکارڈ کو آن لائن سسٹم کا حصہ بنانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔
دو ماہ قبل مزدور نمائندوں کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کی کوششیں جاری ہیں تاکہ مشاورت کا عمل محض رسمی نہ رہے بلکہ عملی نتائج میں تبدیل ہو سکے۔ ادارہ اس سمت میں آگے بڑھ رہا ہے کہ مزدوروں اور ان کے خاندانوں کو بہتر طبی اور مالی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
مجموعی طور پر سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن ایک نئے انتظامی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں ڈیجیٹلائزیشن، شفافیت اور انسانی وسائل کی ترقی کو بنیادی ترجیحات بنایا گیا ہے۔ اگر یہ اصلاحات مستقل مزاجی، دیانت داری اور فیلڈ سطح پر مؤثر نگرانی کے ساتھ جاری رہیں تو محنت کش طبقے کا اعتماد بحال ہونے کے ساتھ ساتھ ادارے کی ساکھ بھی مضبوط ہو سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں ان اصلاحات کے عملی نتائج مزید واضح ہونے کی توقع ہے
تعارف : وسیم جمال سندھ سوشل سیکیورٹی کے پبلک ریلیشنز، ٹریننگ اور ریسرچ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ وہ سماجی تحفظ، مزدور حقوق اور ادارہ جاتی اصلاحات کے موضوعات پر تحقیقی و تجزیاتی تحریریں لکھتے ہیں
