اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے خطرے کی گھنٹی
رپورٹ (عثمان صادق، فیصل آباد )
پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے کو پاکستانی برآمدات کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس پیش رفت سے پاکستان کو یورپی منڈی میں شدید مسابقتی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان اس وقت جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے تحت یورپی یونین کو ٹیکسٹائل اور ہوزری مصنوعات برآمد کر رہا ہے، تاہم اگر بھارت کو بھی یورپی منڈی تک ڈیوٹی فری یا کم ٹیرف رسائی مل گئی تو پاکستانی مصنوعات کی مسابقتی برتری ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بھارت پہلے ہی توانائی کی کم لاگت، بڑے پیمانے پر پیداوار، جدید ٹیکنالوجی اور حکومتی مراعات کی وجہ سے بہتر پوزیشن میں ہے، جس کا براہ راست اثر پاکستانی برآمدات پر پڑے گا
رپورٹ کے مطابق پاکستانی ٹیکسٹائل اور ہوزری صنعت پہلے ہی بلند شرحِ سود، مہنگی بجلی و گیس، ٹیکسوں کے دباؤ اور ریفنڈز میں تاخیر جیسے مسائل کا شکار ہے۔ ایسے میں بھارت کو یورپی منڈی میں اضافی رعایت ملنا پاکستانی صنعت کے لیے دوہرا دباؤ پیدا کرے گا۔ پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں برآمدی آرڈرز بھارت منتقل ہو سکتے ہیں، جس سے پاکستان میں صنعتی سرگرمیاں سست اور روزگار کے مواقع متاثر ہوں گے
ایسوسی ایشن نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ سفارتی اور تجارتی سطح پر فوری رابطے بڑھائے اور جی ایس پی پلس کے فوائد کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت کو برآمدی صنعت کے لیے توانائی کی قیمتوں میں کمی، فنانسنگ میں سہولت اور پالیسی سطح پر فوری اصلاحات کرنا ہوں گی تاکہ بدلتی عالمی تجارتی صورتحال میں پاکستان اپنی مسابقت برقرار رکھ سکے
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو بھارت۔یورپی یونین معاہدہ پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے
