July 23, 2026

فیکٹریوں کی بندش اور مزدور کا مستقبل

 فیکٹریوں کی بندش اور مزدور کا مستقبل

عثمان صادق

پاکستان کا تیسرا بڑا شہر فیصل آباد، جو اپنے ٹیکسٹائل اور پاور لومز کی صنعت کی وجہ سے ملک کا مانچسٹر کہلاتا ہے، اس وقت شدید معاشی اور صنعتی بحران کی زد میں ہے۔ شہر کے مضافات اور اہم صنعتی علاقوں میں لاکھوں محنت کش ان پاور لومز سے وابستہ ہیں جن کا چولہا روزانہ کی دیہاڑی پر چلتا ہے

لیکن حالیہ دنوں میں فیصل آباد کے ایک انتہائی اہم صنعتی علاقے، جھنگ روڈ پر واقع سیکٹر باؤ والا میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس نے ہزاروں مزدور خاندانوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے

یہاں کے پاور لوم فیکٹری مالکان نے مزدوروں کو پیشگی اطلاع دیے بغیر فیکٹریوں کو مستقل یا عارضی طور پر بند کرنے کے غیر قانونی نوٹس دیواروں اور گیٹوں پر آویزاں کر دیے ہیں

جس کے بعد پورے علاقے کے محنت کشوں میں شدید تشویش، غصہ اور بے چینی پھیل گئی ہے۔ فیکٹری مالکان کے اس یکطرفہ اور اچانک اقدام کے خلاف مزدور تنظیموں نے سخت ترین ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے مزدوروں کا معاشی قتل قرار دیا ہے۔

پاکستان لیبر قومی موومنٹ سیکٹر باؤ والا کے رہنماؤں اور نمائندوں نے فیکٹری مالکان کے اس عمل کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے ہنگامی اجلاس بلایا ہے

 مزدور رہنماؤں کا موقف ہے کہ صنعتی قوانین کے تحت کسی بھی فیکٹری کو بند کرنے یا پیداوار روکنے سے پہلے لیبر ڈیپارٹمنٹ اور مزدوروں کی نمائندہ تنظیموں کو مطلع کرنا قانونی طور پر لازم ہوتا ہے

لیکن باؤ والا کے مالکان نے مزدوروں اور ان کے نمائندوں کو بالکل اندھیرے میں رکھا اور راتوں رات یہ نوٹس آویزاں کر دیے جو کہ رائج الوقت لیبر قوانین اور صنعتی ضابطوں کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہے

مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ بدترین ملکی حالات، کمر توڑ مہنگائی اور شدید معاشی بحران کے دوران، جہاں غریب کے لیے دو وقت کی روٹی پوری کرنا محال ہو چکا ہے، محنت کشوں کو اس طرح اچانک بے روزگار کرنا سراسر ناانصافی اور ظلم کی انتہا ہے۔

مزدور تنظیم کے عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ وہ فیکٹری مالکان کی مشکلات سے ناواقف نہیں ہیں؛ خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، بجلی کے بھاری بل اور مارکیٹ کے حالات یقیناً خراب ہیں، لیکن اس کا حل یہ ہرگز نہیں کہ سارا بوجھ غریب مزدور پر ڈال دیا جائے

تنظیم نے مالکان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ چھپ کر نوٹس لگانے کے بجائے مزدوروں کے نمائندوں کے ساتھ میز پر بیٹھیں، موجودہ مشکل حالات کا مل کر جائزہ لیں اور باہمی مشاورت سے کوئی درمیانی راہ نکالیں۔ یکطرفہ طور پر کیے گئے فیصلے کسی بھی صورت تسلیم نہیں کیے جائیں گے کیونکہ یہ ہزاروں چولہے ٹھنڈے کرنے کے مترادف ہے۔

پاکستان لیبر قومی موومنٹ نے فیکٹری مالکان اور مقامی انتظامیہ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ غیر قانونی نوٹس فوری طور پر واپس نہ لیے گئے اور فیکٹریوں میں کام معمول کے مطابق بحال نہ کیا گیا، تو مزدور اپنے اور اپنے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے

باؤ والا سے شروع ہونے والا یہ احتجاج پورے فیصل آباد اور جھنگ روڈ کی دیگر صنعتی پٹیوں تک پھیلایا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری فیکٹری مالکان اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی

محنت کشوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنے روزگار کے تحفظ کے لیے ہر قانونی اور آئینی راستہ اختیار کریں گے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp