سندھ منیمم ویجز بورڈ کی جانب سے اجرتوں میں صرف 7.5 فیصد اضافہ مزدوروں کے ساتھ ناانصافی قرار
سیسی ایڈز اسکینڈل، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت کارروائی کا حکم
رپورٹ ، محمد کامران
کراچی کے کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں مجرمانہ غفلت کے باعث معصوم بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے کا ہولناک انکشاف ہوا ہے
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ محنت کو ہدایت کی ہے کہ اس سنگین معاملے میں ملوث عناصر کا سخت احتساب کرتے ہوئے متاثرہ بچوں کے بلا تعطل علاج اور طویل المدتی بحالی کو یقینی بنایا جائے. وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ صحت کی سہولیات میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی.
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسپتال میں اب تک 78 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو چکی ہے.
یہ معاملہ پہلی بار 23 اکتوبر 2025ء کو سامنے آیا تھا. وزیر محنت سعید غنی کی قائم کردہ انکوائری کمیٹی اور بعد میں ڈاکٹر نائلہ ظہیر کی سربراہی میں دوسری تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹس میں انکشاف ہوا کہ اسپتال کے شعبہ اطفال اور لیبارٹری میں انفیکشن کنٹرول کے ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی کی گئی.
سرنجوں اور دیگر طبی آلات کا غیر مناسب اور دوبارہ استعمال، جراثیم سے پاک کرنے کے عمل کی عدم نگرانی، اور طبی فضلے کو درست طریقے سے تلف نہ کرنا اس وباء کے پھیلنے کی بنیادی وجوہات بنیں.
بریفنگ کے مطابق، انتظامی اور آپریشنل غفلت کے ذمہ دار سابق اور موجودہ منتظمین، ڈاکٹروں، نرسوں اور لیبارٹری عملے سمیت 37 افسران اور ملازمین کو معطل کر کے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے.
اس سے قبل دسمبر 2025ء میں اس وقت کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سمیت 9 ملازمین کے خلاف بھی ایکشن لیا گیا تھا.
صوبائی محتسب سندھ نے بھی واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے نظام کے تھرڈ پارٹی آڈٹ اور بچوں کے لیے علیحدہ آئسولیشن وارڈ قائم کرنے کی ہدایات جاری کیں، جن پر عمل درآمد کر دیا گیا ہے. یہ معاملہ اس وقت سندھ ہائی کورٹ میں بھی زیرِ سماعت ہے.
متاثرہ بچوں کے بہترین علاج کے لیے آغا خان یونیورسٹی اسپتال کی معروف ماہرِ امراضِ اطفال پروفیسر ڈاکٹر فاطمہ میر کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں.
وزیراعلیٰ سندھ نے متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کی فلاح، ادویات اور طویل المدتی نگہداشت کے لیے 2 ارب روپے کا اینڈومنٹ فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے.
انہوں نے سیسی کے تمام اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے نظام کا ازسرنو جائزہ لینے اور جراثیم کشی کے ضابطوں پر سختی سے عمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی زندگیاں قیمتی ہیں اور مجرموں کو بلا تاخیر میرٹ پر سزا دی جائے گی.
