لیبر سٹی کے فلیٹ زبون حالی کا شکار، ملی لیبر فیڈریشن سندھ کا مشترکہ جدوجہد کا اعلان
ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان کا صنعتوں میں صنفی مساوات کے فروغ کا عزم
رپورٹ ، عمیر شاہ
پاکستان کے صنعتی دارالحکومت کراچی میں ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان نے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے اشتراک اور حکومتِ جاپان کے خصوصی تعاون سے ویمن امپاورمنٹ فورم 2026 کا انعقاد کیا
یہ فورم چار سالہ طویل پروموٹنگ رائٹس اینڈ سوشل انکلوژن تھرو آرگنائزیشن اینڈ فارملائزیشن پراجیکٹ کے کامیاب اختتام کی یادگار کے طور پر منعقد کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد ملک میں خواتین کی معاشی شمولیت، صنفی مساوات اور کام کے باوقار ماحول کو یقینی بنانا تھا۔

فورم میں آجروں سرکاری نمائندوں، مزدور تنظیموں کے رہنماؤں اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس چار سالہ منصوبے نے پاکستان میں خواتین کی معاشی خود مختاری کے لیے ایک اہم سنگِ میل کے طور پر کام کیا ہے
فورم کا مقصد ان گزشتہ چار سالوں کے دوران حاصل ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینا اور مستقبل کے لیے ایک ایسے لائحہ عمل کی تشکیل کرنا تھا جس سے کام کی جگہوں پر خواتین کے لیے رکاوٹوں کو ختم کیا جا سکے۔
فورم کے دوران مختلف سیشنز میں خواتین کی انٹرپرینیورشپ کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دینے، ان کے لیے کام کی جگہ پر شمولیت کے عملی طریقوں اور گھریلو و ہوم بیسڈ ورکرز گھروں میں کام کرنے والی خواتین کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات پر زور دیا گیا۔ بحث کے کلیدی نکات درج ذیل تھے

شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کاروباری اداروں کے مالکان پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسا ماحول قائم کریں جہاں صنفی بنیاد پر تفریق نہ ہو اور ہر خاتون کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے یکساں مواقع میسر ہوں۔
خواتین کی کاروباری صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں نہ صرف مالی وسائل تک رسائی دی جائے بلکہ ان کی مہارتوں کو بھی جدید دور کے تقاضوں کے مطابق بہتر کیا جائے۔
کام کی جگہ پر خواتین کے تحفظ کے لیے شکایات کے مؤثر اور قابلِ رسائی نظام کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فورم میں اس بات پر زور دیا گیا کہ قوانین پر عملدرآمد کو محض کاغذوں تک محدود نہ رکھا جائے
پاکستان کے غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والی خواتین، جو اکثر اپنے حقوق سے آگاہ نہیں ہوتیں، انہیں قانونی تحفظ اور سماجی انکلوژن سماجی شمولیت کے دائرہ کار میں لانا اس منصوبے کا ایک بڑا ہدف رہا ہے

فورم کے اختتام پر ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ وہ اپنے شراکت داروں، بشمول انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن، حکومتِ جاپان اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے
ایمپلائرز فیڈریشن کے نمائندوں نے کہا کہ خواتین کو برابر کے حقوق فراہم کرنا نہ صرف ان کا بنیادی انسانی حق ہے، بلکہ یہ پاکستان میں کاروباری اداروں کی پائیداری اور مجموعی قومی معاشی ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے
صنفی مساوات پر مبنی ورک پلیس، جہاں وقار اور مساوی مواقع ہوں، ملک کی معیشت کو ایک نئی بلندی پر لے جا سکتی ہے۔

اس موقع پر پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن کے نمائندوں اور لیبر ڈیپارٹمنٹ سندھ کے افسران نے بھی شرکت کی اور مزدور حقوق کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔ فورم کے شرکاء نے جاپان حکومت کی جانب سے اس منصوبے کے لیے دی جانے والی معاونت کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اس طرح کی کاوشیں پاکستان کے لیبر سیکٹر میں ایک مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گی
یہ فورم اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر حکومت، آجر اور مزدور تنظیمیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر کام کریں، تو نہ صرف خواتین کے لیے کام کی جگہوں کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے، بلکہ ملک میں ایک زیادہ مساوی اور خوشحال معاشرے کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے
