کپاس کی پکار موبائل ایپ پنجاب اور سندھ کی زرعی مزدور یونینز کا تاریخی انقلاب
مزدور کو پینشن کیسے ملے گی

صمیم طارق
ہمارے ہاں لیبر یونین کا تصور اس قدر محدود، سطحی اور روایتی ہو چکا ہے کہ جیسے اس کا کام صرف اور صرف احتجاج، دھرنے، پہیہ جام ہڑتالیں اور نعرے بازی ہی رہ گیا ہو۔
قیادت کے نام پر چند چہرے اسٹیج پر آتے ہیں، بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں اور پھر محنت کش طبقہ وہیں کا وہیں رہ جاتا ہے۔ اس روایتی اور محدود طرزِ سیاست کا بھیانک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج ہزاروں نہیں، بلکہ لاکھوں محنت کش اپنی بنیادی قانونی، آئینی اور سماجی سہولیات سے بھی یکسر ناواقف ہیں۔
وہ کارخانوں میں اپنا خون پسینہ تو بہاتے ہیں، لیکن یہ نہیں جانتے کہ قانون نے ان کی پشت پناہی کے لیے کیا کیا حقوق وضع کر رکھے ہیں۔
کتنے ہی ورکرز اپنی پوری زندگی کارخانوں کی بھٹیوں اور مشینوں پر محنت کرنے کے بعد خاموشی سے ریٹائر ہو جاتے ہیں، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ انہیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن کی طبی سہولیات کے حق دار ہیں یا نہیں؟
انہیں یہ تک پتہ نہیں ہوتا کہ ای او بی آئی سے بڑھاپے کی پنشن کیسے ملتی ہے، اس کے حصول کے لیے کن کن بنیادی دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے، یا اگر کسی ظالم آجر اور فیکٹری مالک نے سرے سے ان کی رجسٹریشن ہی نہ کرائی ہو تو اس کا قانونی اور آئینی حل کیا ہے؟
یہ سنگین صورتحال صرف محنت کشوں کی علمی کمزوری نہیں، بلکہ ان روایتی یونینوں کی مجرمانہ ناکامی اور نااہلی بھی ہے جو خود کو مزدوروں کا ہمدرد اور واحد نمائندہ کہتی تھکتی نہیں ہیں۔
ایک حقیقی، مخلص اور نظریاتی لیبر یونین کا مقصد صرف سڑکوں پر احتجاج کرنا یا تنخواہوں میں چند روپے بڑھوانے تک محدود نہیں ہوتا۔ اصل مقصد محنت کشوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنا، انہیں ہر قدم پر قانونی رہنمائی فراہم کرنا، اور اداروں میں ان کی رجسٹریشن کو ہر صورت یقینی بنانا ہے۔
ایک ذمہ دار قیادت کا فرض ہے کہ وہ کم از کم اجرت کے نفاذ، سوشل سکیورٹی کارڈز کے حصول، پنشن کی فراہمی، مفت علاج، بچوں کی تعلیم اور دیگر فلاحی حقوق کے حصول میں مزدوروں کی عملی معاونت کرے۔ جب تک مزدور کو یہ تحفظ نہیں ملے گا، وہ کسی بھی صنعتی نظام میں غلام ہی رہے گا۔
جہاں تک ای او بی آئی سے پنشن حاصل کرنے کا تعلق ہے، یہ محنت کش کا کوئی وظیفہ یا خیرات نہیں بلکہ اس کا قانونی حق ہے۔ اس کے لیے مزدور کی عمر مردوں کے لیے 60 سال اور خواتین کے لیے 55 سال اور ادارے میں کم از کم 15 سال کی رجسٹرڈ ملازمت کا ریکارڈ بنیادی شرط ہے
ریٹائرمنٹ کے وقت ورکر کو اپنے کارڈ، شناختی کارڈ کی کاپی، اور ملازمت کے سرٹیفکیٹ کے ساتھ دعویٰ فارم جمع کرانا ہوتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جب فیکٹری مالکان رجسٹریشن چوری کرتے ہیں، تو مزدور بے یار و مددگار رہ جاتا ہے۔ یہیں پر یونین کا کردار شروع ہوتا ہے کہ وہ مالکان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے اور ڈیپارٹمنٹ پر دباؤ ڈال کر مزدور کا حق بحال کروائے۔
اب وہ وقت آ گیا ہے کہ پاکٹ سائز اور صرف مخصوص ایجنڈوں کے تحت احتجاجی سیاست کرنے والی روایتی یونینوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔
ان کی جگہ ایسی فلاحی، تعمیری اور خدمت پر مبنی لیبر یونینیں اور فیڈریشنیں سامنے آئیں جو محنت کش کو صرف ایک نعرہ اور جھنڈا نہ دیں، بلکہ اسے شعور، قانونی رہنمائی اور عملی تحفظ بھی فراہم کریں۔
مزدور کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ وہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ یہی وقت کی پکار ہے اور یہی ایک کامیاب، مخلص اور ذمہ دار مزدور قیادت کی اصل پہچان ہے۔
تعارف : صمیم طارق کا شمار کراچی کے متحرک مزدور رہنماؤں میں ہوتا ہے، جو خاص طور پر ملی لیبر فیڈریشنکے پلیٹ فارم سے محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد میں نمایاں ہیں۔ ان کی شناخت ایک ایسے نقاد اور تجزیہ نگار کی ہے جو لیبر قوانین اور ان کے زمینی حقائق کے درمیان موجود فرق کو اعداد و شمار کے ساتھ پیش کرتے ہیں
