October 29, 2026

راشن کا تھیلا یا مزدور کا حق؟ رمضان کی آمد اور صنعتی منافقت

 راشن کا تھیلا یا مزدور کا حق؟ رمضان کی آمد اور صنعتی منافقت

تحریر ( سلیم سواتی ) رمضان المبارک کا مقدس مہینہ شروع ہوتے ہی ہماری فیکٹریوں کے گیٹوں پر رنگ برنگے بینرز آویزاں ہو جاتے ہیں جن پر جلی حروف میں لکھا ہوتا ہے ہم اپنے مزدوروں کے ساتھ ہیں خصوصی راشن تقسیم۔ مالک صاحب سفید اجلا لباس پہن کر نمودار ہوتے ہیں کیمروں کی فلیش گنز چمکتی ہیں راشن کے تھیلے تھمائے جاتے ہیں اور تصاویر سوشل میڈیا کی زینت بنتی ہیں۔ لیکن جیسے ہی کیمرے بند ہوتے ہیں حقیقت کا کڑوا رخ سامنے آ جاتا ہے۔ مالک اپنے اے سی والے دفتر میں جا بیٹھتا ہے اور مزدور دوبارہ اسی گرم مشین کے پاس لوٹ جاتا ہے۔

اسی فیکٹری میں ایک بشیر بھی ہے جو برسوں سے مشین چلا رہا ہے۔ ایک دن وہ صرف دس منٹ کی تاخیر سے پہنچا تو کلرک نے بے رحمی سے اعلان کیا آج کی پوری دیہاڑی کٹ گئی رول یہی ہے۔ بشیر خاموش رہا کیونکہ اس کے گھر میں وہی راشن کا تھیلا رکھا تھا جو اسے کل ملا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ راشن کا تھیلا اس کی ایک دن کی کٹوتی کا مداوا کر سکتا ہے؟ کیا وہ چند کلو آٹا اور چینی اس مزدور کے بچے کی اسکول فیس ادا کر سکتی ہے جسے بونس سے محروم رکھا گیا؟

ایک اور المیہ ان بزرگ محنت کشوں کا ہے جو تیس تیس سال فیکٹری کو خون دینے کے بعد جب بوڑھے ہو جاتے ہیں تو انہیں ایک سادہ سے کاغذ پر خدمات مزید درکار نہیں لکھ کر فارغ کر دیا جاتا ہے۔ جب وہ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی یعنی گریجویٹی مانگتے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ کمپنی پالیسی اجازت نہیں دیتی۔ گویا فیکٹری کی خود ساختہ پالیسی ملک کے قانون سے بھی بڑی ہو چکی ہے۔

اوور ٹائم کا حال اس سے بھی بدتر ہے۔ قانون کہتا ہے کہ اضافی وقت کی اجرت دوگنی ہونی چاہیے مگر یہاں حساب کی کاپی میں گھنٹے پراسرار طور پر کم کر دیے جاتے ہیں اور عذر پیش کیا جاتا ہے کہ حالات خراب ہیں۔ سرکاری چھٹی ہو یا تہوار گیٹ بند نہیں ہوتا بس مزدور کا حق بند ہو جاتا ہے۔ رمضان صرف صدقہ و خیرات کا مہینہ نہیں بلکہ یہ کڑے احتساب کا مہینہ ہے۔

فیکٹری مالکان کو یہ سوچنا ہوگا کہ مزدور کو دیا گیا راشن احسان نہیں اگر اس کی واجب الادا تنخواہ اور حقوق پورے ادا نہیں ہو رہے۔ اصل دینداری افطار کی تصویروں میں نہیں بلکہ اس انصاف میں ہے جو مسجد میں مانگا جاتا ہے۔ سکون تب آئے گا جب مزدور کو اس کا اوور ٹائم پورا ملے گریجویٹی وعدے کے مطابق ادا ہو اور برطرفی کے وقت قانون کا احترام کیا جائے۔ یاد رکھیے اللہ کے حضور راشن کے تھیلوں کا نہیں بلکہ مزدور کے پسینے کی قیمت کا حساب ہوگا

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp