کپاس کی پکار موبائل ایپ پنجاب اور سندھ کی زرعی مزدور یونینز کا تاریخی انقلاب
سیسی میں ڈیجیٹلائزیشن یا نیا شکنجہ؟

تحریر: ( محمد عمران ) سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن میں ان دنوں ڈیجیٹلائزیشن اور اصلاحات کا بہت غوغا ہے۔ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ نظام بدل جائے گا اور سب کچھ شفاف ہو جائے گا۔ لیکن پاکستان فیڈریشن آف کیمیکل انرجی مائنز اینڈ جنرل ورکرز یونین ان اصلاحات کو محض ایک نمائشی اقدام قرار دے کر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ڈیجیٹلائزیشن واقعی مزدور کے لیے ہے یا پھر یہ بیوروکریسی کے انتظامی کنٹرول کو مزید مضبوط کرنے کا ایک نیا طریقہ ہے؟
فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری عمران علی کا مؤقف نہایت واضح اور دوٹوک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس تمام تر مشق کا مقصد صرف بائیومیٹرک حاضری کیمروں کی نگرانی اور عملے پر دباؤ بڑھانا ہے تو یہ اصلاح نہیں بلکہ انتظامی سختی ہے۔ اصل اصلاح تو وہ ہوتی ہے جس کا فائدہ براہِ راست اس محنت کش کو ملے جو فیکٹری کی بھٹی میں جل کر اس ادارے کے لیے اربوں روپے کا فنڈ اکٹھا کرتا ہے۔ مزدوروں کے نام پر جمع ہونے والے ان اربوں روپے کے فنڈز پر کسی قسم کی یکطرفہ بیوروکریٹک گرفت کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔
حقیقی شفافیت تب آئے گی جب چند بنیادی سوالات کے جواب ملیں گے۔ کیا اس ڈیجیٹل نظام کے بعد ہسپتالوں میں ادویات کی مستقل دستیابی یقینی ہوگی؟ کیا ہر ہسپتال میں ادویات کے اسٹاک اور ان کی خریداری کی تفصیلات عوامی ویب سائٹ پر موجود ہوں گی تاکہ کوئی خرد برد نہ کر سکے؟ کیا کنٹری بیوشن کی وصولی اور اخراجات کا ایک ایک روپیہ آن لائن دیکھا جا سکے گا؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ کیا ان نگرانی کمیٹیوں میں مزدور نمائندوں کو کوئی فیصلہ کن کردار دیا جائے گا یا انہیں صرف خاموش تماشائی بنا کر رکھا جائے گا؟
ماضی میں سیسی کے فنڈز کے بے دریغ اور مشکوک استعمال پر ہمیشہ انگلیاں اٹھتی رہی ہیں۔ اگر واقعی نیت صاف ہے تو تمام خریداری کے ٹھیکے ادویات کی قیمتیں اور ادائیگیوں کی تفصیلات پبلک کی جائیں۔ جزوی شفافیت دراصل بدعنوانی کو چھپانے کا ایک جدید طریقہ ہے۔ اس کے علاوہ سندھ کے لاکھوں محنت کش کم تعلیم یافتہ ہیں ان کے لیے پیچیدہ آن لائن نظام سہولت کے بجائے زحمت بن سکتا ہے۔ اگر ادارہ ان کی رہنمائی کے لیے ہر دفتر اور ہسپتال میں مزدور سہولت مراکز قائم نہیں کرتا تو یہ نظام ایک نئے ایجنٹ کلچر کو جنم دے گا جہاں غریب مزدور اپنی ہی پنشن یا گرانٹ کے لیے آن لائن فارم بھرنے کے عوض ایجنٹوں کو پیسے دینے پر مجبور ہوگا۔
مزدوروں کے فنڈز ان کی امانت ہیں کسی افسر شاہی کی جاگیر نہیں۔ اصلاحات تب ہی کامیاب کہلائیں گی جب ڈیتھ گرانٹ کی ادائیگیوں میں برسوں کی تاخیر ختم ہو ادویات معیاری ملیں اور شکایات کے ازالے کا ایک آزاد نظام موجود ہو۔ عمران علی نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ڈیجیٹلائزیشن مزدور دوست نہ ہوئی تو اس بیوروکریٹک اجارہ داری کے خلاف ہر قانونی اور جمہوری فورم پر بھرپور آواز بلند کی جائے گی۔ محنت کش طبقہ اب مزید کسی لفاظی یا ٹیکنالوجی کے نام پر دھوکہ دہی کا شکار نہیں ہوگا۔
