October 31, 2026

پاکستان میں چائلڈ لیبر کا طوفان اور حکمرانوں کی بے حسی

 پاکستان میں چائلڈ لیبر کا طوفان اور حکمرانوں کی بے حسی

تحریر: رانا شمشاد (مرکزی صدر، ملی لیبر فیڈریشن)

حکومتِ پاکستان کی جانب سے ملک بھر میں قومی تعلیمی ایمرجنسی لگائے دو سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے، لیکن زمین پر بدقسمتی سے حالات بدلنے کے بجائے مزید ابتر ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں سول سروسز اکیڈمی کی جانب سے جاری کردہ پالیسی رپورٹ نے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے پالیسی سازوں کے دعووں کا پول کھول کر رکھ دیا ہے

رپورٹ کے چونکا دینے والے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تعلیمی ایمرجنسی کے بلند و بانگ دعووں کے باوجود آج بھی ملک میں ڈھائی کروڑ سے زائد معصوم بچے اسکولوں سے باہر گلی کوچوں میں دھکے کھا رہے ہیں

پاکستان اس وقت دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی والا ملک بن چکا ہے، بطور مزدور رہنما جب میں ان اعداد و شمار کو دیکھتا ہوں، تو مجھے صرف اسکولوں کی خالی بنچیں نظر نہیں آتیں، بلکہ مجھے پاکستان کا تاریک ہوتا مستقبل اور ملک میں چائلڈ لیبربچوں سے مزدوری کا ایک ہولناک طوفان نظر آتا ہے

یہ ڈھائی کروڑ بچے جو آج اسکول نہیں جا رہے، کل یہ قلم اور کتاب تھامنے کے بجائے کارخانوں، گاڑیوں کی ورکشاپوں، اینٹوں کے بھٹوں، ہوٹلوں اور گھروں میں خون پسینہ بہاتے نظر آئیں گے

جب ریاست اپنے بچوں کو اسکول کی چھت اور تعلیم کا حق دینے میں ناکام ہو جاتی ہے، تو وہ بالواسطہ طور پر انہیں چائلڈ لیبر کی بھٹی میں جھونکنے کا سبب بنتی ہے۔

ناقص طرزِ حکمرانی، فنڈز کی عدم فراہمی، وفاق اور صوبوں کے درمیان سنگین عدم تعاون اور مجرمانہ غفلت اس تعلیمی بحران کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ سب سے تشویشناک صورتحال ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی ہے، جہاں نوے لاکھ سے زائد بچے اسکولوں کی شکل دیکھنے سے محروم ہیں۔

 جو صوبہ خود کو سب سے زیادہ ترقی یافتہ کہتا ہے، وہاں اتنی بڑی تعداد میں بچوں کا اسکولوں سے باہر ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں مزدوروں اور غریبوں کے بچوں کے لیے تعلیم صرف ایک خواب بن چکی ہے۔

 دوسری طرف سندھ کا حال بھی مختلف نہیں، جہاں مڈل اور سیکنڈری اسکولوں کی شدید کمی کے باعث پرائمری کے بعد بچے خصوصاً بچیاں تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں

خیبر پختونخوا سکیورٹی کے حالات اور خواتین اساتذہ کی کمی کا رونا رو رہا ہے، جبکہ بلوچستان میں ہزاروں اسکول غیر فعال ہیں اور وہاں بجلی، پینے کے پانی اور واش روم جیسی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔

ملی لیبر فیڈریشن سمجھتی ہے کہ تعلیم اور چائلڈ لیبر کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جب تک حکومتیں تعلیم کو ہر غریب کے بچے کے لیے مفت اور لازمی نہیں بنائیں گی،

 تب تک چائلڈ لیبر کا خاتمہ ممکن ہی نہیں ہے۔ غریب محنت کش ہوشربا مہنگائی کے اس دور میں جہاں دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے، وہ اپنے بچوں کی مہنگی کتابیں، کاپیاں اور اسکولوں کی فیسیں کیسے برداشت کرے؟

 جب بچہ اسکول نہیں جائے گا، تو غربت کا مارا باپ اسے کسی نہ کسی دکان یا کارخانے پر چند روپوں کے عوض کام سیکھنے کے لیے بٹھا دے گا تاکہ گھر کا چولہا جل سکے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے چائلڈ لیبر جنم لیتی ہے اور معصوم بچوں کا استحصال شروع ہوتا ہے۔ چائلڈ لیبر صرف قانون بنانے یا چھاپے مارنے سے ختم نہیں ہوگی، اس کا واحد حل ان ڈھائی کروڑ بچوں کو اسکولوں کے اندر لانا ہے۔

ماہرینِ تعلیم اور مزدور تنظیمیں مسلسل دہائیوں سے چلا رہی ہیں کہ تعلیم پر جی ڈی پی کا حصہ بڑھایا جائے، مگر ہر آنے والی حکومت نے تعلیمی بجٹ پر کٹ لگا کر ثابت کیا کہ ان کی ترجیحات میں غریب کا بچہ شامل ہی نہیں ہے۔

 سول سروسز اکیڈمی کی رپورٹ نے بالکل درست سفارش کی ہے کہ فوری طور پر نادرا سے منسلک ایک نیشنل اسٹوڈنٹ ڈیٹا بیس بنایا جائے تاکہ اسکول چھوڑنے والے بچوں کو ٹریک کیا جا سکےاسکولوں میں ڈبل شفٹ کا آغاز کیا جائے اور دور دراز علاقوں میں اساتذہ کو اضافی مراعات دی جائیں۔

ہم حکومتِ وقت اور تمام صوبائی وزارتِ تعلیم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ خوابِ خرگوش سے بیدار ہوں۔ تعلیمی ایمرجنسی کے صرف اشتہارات اخبارات اور ٹی وی پر چلانے سے بچے اسکولوں میں نہیں آئیں گے۔

 اگر آج ان ڈھائی کروڑ بچوں کو اسکولوں میں داخل نہ کیا گیا، تو کل کو یہ چائلڈ لیبر کا شکار ہو کر جرائم، منشیات اور معاشرتی تباہی کی طرف راغب ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکمرانوں پر ہوگی۔

 تعلیم کی مفت فراہمی ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے، اور ہم محنت کشوں کے بچوں کے اس حق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھاتے رہیں گے

تعارف ، رانا شمشاد پاکستان کے نامور اور متحرک مزدور رہنما ہیں، جو ملک کی معروف لیبر آرگنائزیشن پاکستان ملی لیبر فیڈریشن کے مرکزی صدر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔پاکستان کے پسماندہ اور محنت کش طبقے کی ایک طاقتور آواز مانے جاتے ہیں، رانا شمشاد نے بھٹوں، رکشہ یونین،  کارخانوں، اور صنعتی اداروں میں کام کرنے والے غیر منظم مزدوروں کے حقوق کے لیے طویل جدوجہد کی ہے وہ جبری مشقت  اور محنت کشوں کے معاشی استحصال کے خلاف مسلسل برسرِپیکار ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp