اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
کم از کم اجرت کا قانون اور لیبر ڈیپارٹمنٹ کی پراسرار خاموشی
رپورٹ : ( محمد کامران ) پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی بحران نے جہاں عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، وہی محنت کش طبقہ ایک ایسی چکی میں پس رہا ہے جس کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ہر سال بجٹ یا مخصوص مواقع پر کم از کم اجرت کے بلند بانگ اعلانات تو کیے جاتے ہیں، لیکن حقیقت کی زمین پر یہ اعلانات محض کاغذی کارروائی ثابت ہو رہے ہیں۔
لیبر نیوز کے حالیہ سروے کے مطابق صنعتی مراکز اور نجی اداروں میں کام کرنے والے لاکھوں مزدور آج بھی اس قانونی حق سے محروم ہیں جو انہیں حکومت نے فراہم کیا ہے ملک کے سب سے بڑے برآمدی شعبے یعنی ٹیکسٹائل اور گارمنٹس انڈسٹری میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اس صنعت میں کام کرنے والے چالیس فیصد سے زائد محنت کش اب بھی حکومت کی مقرر کردہ کم از کم اجرت سے کہیں کم پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔
یہ وہ طبقہ ہے جو دن میں 10 سے 12 گھنٹے مشقت کرتا ہے، مگر مہینے کے آخر میں ملنے والی رقم ان کے گھر کا راشن پورا کرنے کے لیے بھی ناکافی ہوتی ہے
اس پورے نظام میں سب سے بڑا سوالیہ نشان محکمہ محنت کی کارکردگی پر ہے۔ قانون کے مطابق لیبر انسپکٹرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ فیکٹریوں اور تجارتی مراکز کا باقاعدہ دورہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر ورکر کو قانونی اجرت مل رہی ہے اور اس کا ریکارڈ چاروں صوبوں کی سوشل سیکیورٹی میں موجود ہے
تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ محکمہ محنت کے افسران اور فیکٹری مالکان کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ نے مزدوروں کے حقوق کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ اکثر اوقات انسپکشن صرف فائلوں تک محدود رہتی ہے، اور جہاں کارروائی ہوتی بھی ہے، وہاں جرمانے اتنے معمولی ہوتے ہیں کہ مالکان قانون توڑنا زیادہ سستا سمجھتے ہیں
پاکستان میں افراطِ زر کی شرح حالیہ برسوں میں تاریخی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ بجلی، گیس، آٹا اور چینی جیسی بنیادی اشیاء کی قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔ ایسے میں اگر ایک مزدور کو مقررہ 32 یا 37 ہزار روپے صوبائی فرق کے ساتھ) بھی پورے نہ ملیں، تو اس کے پاس خودکشی یا جرائم کی طرف مائل ہونے کے سوا کیا راستہ بچتا ہے؟
مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ اجرتوں کی عدم ادائیگی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ بن چکا ہے۔ بہت سے محنت کش اپنے بچوں کو اسکولوں سے اٹھا کر مزدوری پر لگانے پر مجبور ہیں تاکہ گھر کا چولہا جل سکے۔
لیبر نیوز نے سروے کے دوران ملک بھر کی بڑی لیبر فیڈریشنز اور یونینز سے رابطہ کیا ہے مزدور تنظیموں نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے۔ مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اب مذاکرات اور یقین دہانیوں کا وقت ختم ہو چکا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام نجی اداروں میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹس کی نگرانی میں چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو مالکان قانون کی خلاف ورزی کریں، ان کے یونٹس سیل کیے جائیں اور انہیں بھاری جرمانے کے ساتھ قید کی سزا دی جائے اجرتوں کی ادائیگی بینکوں کے ذریعے لازمی قرار دی جائے تاکہ ریکارڈ میں ہیرا پھیری نہ ہو سکے۔
اگر انتظامیہ اور حکومت نے فوری طور پر ہوش کے ناخن نہ لیے اور محنت کشوں کے معاشی استحصال کو نہ روکا، تو وہ وقت دور نہیں جب فیکٹریوں سے نکلنے والا یہ انسانی سمندر سڑکوں پر ہوگا۔ مزدور تنظیموں نے واضح کر دیا ہے کہ محکمہ محنت کے اداروں کو سمجھنا ہوگا کہ صنعتی ترقی مزدور کی خوشحالی کے بغیر ممکن نہیں اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کی کال دیں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری ریاست اور بے حس سیٹھوں پر ہوگی
