July 23, 2026

ترکی 2025 میں مزدور حقوق کی صورتحال تشویشناک

 ترکی 2025 میں مزدور حقوق کی صورتحال تشویشناک

رپورٹ ( عظمی سلطان، ہید لیبر نیوز فارن ڈیسک )

سال 2025 میں ترکی میں مزدور حقوق کی صورتحال ایک بار پھر تشویشناک رہی، جس نے ملکی مزدور طبقے کی زندگیوں اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ کی رپورٹ کے مطابق، کم از کم 2,105 مزدور کام کے دوران حادثات میں ہلاک ہوئے، جبکہ دراصل یہ تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں صنعتی شعبوں کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے کے مزدوروں کی بھی حالت زار بیان کی گئی ہے، جہاں حفاظتی اقدامات کی کمی اور غیر محفوظ کام کے ماحول نے حادثات میں اضافہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق بچوں کی مزدوری بھی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے، جس میں 72 سے زائد بچے کام کے دوران ہلاک ہوئے۔ یہ صورت حال بچوں کی تعلیم اور فلاح و بہبود پر منفی اثر ڈال رہی ہے اور ملکی و بین الاقوامی قوانین کے باوجود اس پر قابو پانا ابھی بھی ایک چیلنج ہے۔

مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے رپورٹ نے خواتین کارکنوں کی حالت پر بھی روشنی ڈالی۔ زرعی شعبے میں کام کرنے والی خواتین کارکنان کو یونین سے علیحدہ ہونے کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اور انہیں ہڑتال کے حق سے محروم رکھنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہڑتال اور مظاہروں پر پابندی نے مزدوروں کی اجتماعی جدوجہد کو محدود کیا ہے، جس سے تنخواہوں اور کام کے حالات پر دباؤ بڑھا ہے۔

صدر ریجب طیب ایردوان نے کئی صوبوں میں کان کنوں کی ہڑتال 60 دن کے لیے معطل کر دی، جس کا مقصد مزدوروں کی آواز کو دبانا اور صنعتی تنازعات کو محدود کرنا تھا۔ اس اقدام کے باعث مزدوروں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور وہ اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مزدوروں کی بنیادی سہولیات، جیسے صحت اور حفاظت، مناسب معاوضہ، اور سوشل سیکورٹی، کئی شعبوں میں ناقص ہیں۔ صنعتی حادثات کی بڑھتی تعداد، غیر محفوظ کام کے حالات، اور مزدور دشمن پالیسیاں ترکی میں معاشی ترقی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے حفاظتی اقدامات اور قانون سازی کی کمی نے مزدور طبقے کو غیر محفوظ اور معاشی طور پر کمزور بنا دیا ہے۔

اس رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ ترکی میں مزدور حقوق کی صورتحال سنجیدہ اور تشویشناک ہے۔ مزدوروں کی حفاظت، اجرتوں میں اضافہ، اور بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ مستقبل میں حادثات کی شرح کم ہو، بچوں اور خواتین کارکنوں کے حقوق کا تحفظ ہو اور ملکی معیشت میں مزدوروں کی شراکت محفوظ اور پائیدار ہو۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp