پنجاب میں کم از کم اجرت کی عدم فراہمی آل پاکستان فیڈریشن آف یونائیٹڈ ٹریڈ یونینز کا احتجاج
جسٹ ٹرانزیشن ترقی کا ایسا سفر جس میں کوئی پیچھے نہ رہ جائے
محمد عاطف راؤ
آج دنیا موسمیاتی تبدیلی، توانائی کے بحران اور تیز رفتار تکنیکی پیش رفت کے سبب ایک نادیدہ اور تاریخ ساز موڑ پر کھڑی ہے۔ کوئلے، تیل اور روایتی ایندھن پر انحصار ختم کر کے قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع اپنائے جا رہے ہیں،
جبکہ مصنوعی ذہانت، آٹومیشن اور ڈیجیٹلائزیشن نے روزگار کے قدیم ڈھانچے، فیکٹریوں اور اداروں کے کام کرنے کا ڈھنگ یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ صنعتی ترقی اور ماحول کی بہتری کی جانب یہ سفر اگرچہ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ایک بنیادی اور حساس سوال بھی جنم لیتا ہے
کیا معاشی و صنعتی تبدیلی کی یہ قیمت صرف محنت کش طبقہ اپنے روزگار کی قربانی دے کر ادا کرے گا، یا پھر وہ اس کے ثمرات میں برابر کا شریک ہوگا؟
اسی تاریخی سوال کا معقول اور عادلانہ جواب ہمیں “جسٹ ٹرانزیشنکے جدید تصور میں ملتا ہے۔
جسٹ ٹرانزیشن کا مفہوم محض ماحول کا تحفظ یا صرف گرین انرجی کے منصوبوں کو فروغ دینا ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا منصفانہ اور شمولیتی عمل ہے جس کے تحت معاشی، صنعتی اور تکنیکی تبدیلیوں کی زد میں آنے والے مزدوروں، ان کے خاندانوں اور مقامی آبادیوں کے روزگار، قانونی حقوق اور معاشی وقار کا باقاعدہ تحفظ کیا جاتا ہے
سادہ لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ دنیا میں ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی بہتری کا سفر ضرور جاری رہے، لیکن اس کی قیمت کسی مزدور کی بے روزگاری، کٹھن معاشی بحران یا اس کے جمہوری و آئینی حقوق پر ڈکیتی کی صورت میں ہرگز وصول نہ کی جائے
بین الاقوامی ادارۂ محنت نے جسٹ ٹرانزیشن کو پائیدار عالمی ترقی کا ایک لازمی اور بنيادی ستون قرار دیا ہے آئی ایل او کے اصولوں کے مطابق گرین اکانومی کی جانب منتقلی اسی وقت پائیدار اور کامیاب گردانی جا سکتی ہے جب اس میں باوقار ملازمتوں، سماجی تحفظ کے وسیع نیٹ ورک، نئی ٹیکنالوجی سے آہنگ تربیتی پروگراموں اور مؤثر سماجی مکالمے کی مضبوط ضمانت شامل ہو
اگر جدیدکاری اور ماحولیاتی قوانین کے نتیجے میں زمین تو محفوظ ہو جائے مگر انسان عدم تحفظ اور فاقہ کشی کا شکار ہو جائیں، تو ایسی کسی بھی پیش رفت کو انسانی و معاشی منصفانہ ترقی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر اور معاشی مسائل کے شکار ممالک کے لیے جسٹ ٹرانزیشن کی اہمیت مزید دوگنی ہو جاتی ہے۔ یہاں کروڑوں افراد زراعت، ٹرانسپورٹ، اور صنعتی شعبوں میں قلیل وسائل اور کمزور سماجی تحفظ کے سہارے اپنے گھروں کے چولہے جلاتے ہیں
اگر حکومتیں یا نجی ادارے بغیر کسی جامع حکمتِ عملی کے جدید ٹیکنالوجی، آٹومیشن یا سمارٹ سسٹم متعارف کرائیں گے تو اس سے بڑے پیمانے پر بے روزگاری کا خدشہ جنم لے گا
لہٰذا نجی اور سرکاری شعبوں میں جدت لاتے وقت محنت کشوں کو جدید تربیت فراہم کرنا، ان کا روزگار محفوظ رکھنا اور روزگار کے متبادل مواقع پیدا کرنا اشد ضروری ہے۔
پاکستان ریلوے اس صورتحال کی ایک نمایاں اور زندہ مثال ہے۔ ادارے کو خسارے سے نکالنے کے لیے انفراسٹرکچر کی بحالی، ڈیجیٹلائزیشن اور سمارٹ ٹیکنالوجی کا نفاذ لازمی ہے،
لیکن اس مرحلے پر ریلوے کے ہزاروں ملازمین کی تربیت، ان کی ملازمتوں کا تحفظ اور ریلوے ٹریڈ یونینز سے باہمی مشاورت کو پسِ پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔ جدید کاری کا مقصد کسی مزدور کو بے کار یا غیر ضروری بنا کر سڑک پر لانا نہیں، بلکہ اسے تکنیکی طور پر زیادہ باصلاحیت اور فعال بنانا ہونا چاہیے۔
جسٹ ٹرانزیشن کی کامیابی کا تمام تر انحصارسماجی مکالمے پر ہے۔ یعنی جب بھی ریاست، آجرین، اور مزدور نمائندے مل بیٹھ کر اصلاحات طے کرتے ہیں، تو یہ پالیسیاں پائیدار اور ہر سطح پر قابلِ قبول ثابت ہوتی ہیں۔ نوجوان ٹریڈ یونین رہنماؤں کو بھی اب اپنے روایتی طریقہ کار سے نکل کر موسمیاتی تبدیلی، گرین جابز اور جدید ڈیجیٹل صلاحیتوں کو سمجھنا ہوگا
جسٹ ٹرانزیشن ایک عہد ہے کہ معیشت ترقی کرے گی، لیکن اس ترقی کا معمار اور شراکت دار انسان اور محنت کش ہی رہے گا۔ یہی وہ بنیاد ہے جو معاشی سفر کو محض اعداد و شمار کا کھیل بنانے کے بجائے ایک انسانی اور باملک شکل دیتی ہے۔
تعارف : محمد عاطف راؤ ریلوے ورکرز یونین اوپن لائن کے سیکریٹری انفارمیشن کے طور پر مزدور خدمات انجام دے رہے ہیں پاکستان ریلوے ٹریڈ یونین تحریک کی ایک ممتاز اور فکر انگیز رہنما شخصیت ہیں جو ریل مزدوروں کے حقوق کے ساتھ ساتھ جدید معاشی و ماحولیاتی تقاضوں پر مبنی اصلاحات کے لیے سرگرم عمل ہیں وہ ٹریڈ یونینز میں جدید دور کے تقاضوں، گرین جابز اور ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ کے حامی ہیں صحافتی مضامین، فکر انگیز کالموں، بیانات اور تنظیم کاری کے ذریعے ریلوے ملازمین اور مجموعی مزدور طبقے کا مقدمہ تحریری و عملی سطح پر لڑتے ہیں
