August 29, 2026

متاثرین کی آہیں اور سیسی کا نظام

 متاثرین کی آہیں اور سیسی کا نظام

خالد خان

صحت اور تحفظ کسی بھی ترقی یافتہ یا حتیٰ کہ ترقی پذیر معاشرے میں محنت کش طبقے کا وہ بنیادی حق تصور کیا جاتا ہے جس کی فراہمی ریاست اور اس کے ذیلی اداروں کی آئینی ذمہ داری ہوتی ہے

لیکن جب وہی ادارے جو مزدوروں کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کے ضامن بنائے گئے ہوں، خود ان کی بربادی کا ذریعہ بن جائیں، تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر ہمارے انتظامی نظام میں خرابی کہاں تک پہنچ چکی ہے

کراچی میں سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) کے زیرِ اہتمام چلنے والے کلثوم بائی ولیکا ہسپتال میں پیش آنے والا ایچ آئی وی وائرس کے پھیلاؤ کا لرزہ خیز واقعہ ایک ایسا ہی المیہ ہے جس نے نہ صرف سینکڑوں متاثرہ خاندانوں کی زندگیوں میں اندھیرا گھول دیا ہے بلکہ صوبائی حکومت اور سوشل سیکیورٹی کے گورننگ بورڈ کی کارکردگی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے کلثوم بائی ولیکا ہسپتال میں ایچ آئی وی وائرس کے پھیلاؤ کا معاملہ میڈیا اور انکوائری کمیٹیوں کی رپورٹوں کی زینت بن رہا ہے

اس ہسپتال میں ایچ آئی وی کا پہلا کیس مئی 2025ء سے قبل ہی سامنے آ چکا تھا، جب ڈاکٹر غلام مصطفیٰ ابڑو اس ادارے کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر فائز تھے۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اس قدر مہلک اور متعدی مرض کا کیس سامنے آنے کے باوجود نہ تو وقت پر تدارک کے احکامات جاری کیے گئے اور نہ ہی متاثرہ بچوں و دیگر مریضوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائے گئے۔

صوبائی محتسب اعلیٰ سندھ، سہیل راجپوت کی جانب سے تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹس نے اس حقیقت پر سے پردہ اٹھایا ہے کہ 100 سے زائد بچے اور افراد اس غفلت کے باعث ایچ آئی وی کے وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں

ان میں سے 10 سے زائد بچوں کی ہلاکت کی خبریں انتظامیہ کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہونی چاہئیں تھیں، مگر اس کے باوجود قصورواروں کو سزا دینے کے بجائے بااثر شخصیات کی سرپرستی کا سلسہ جاری رہا۔

یشنل لیبر فیڈریشن اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے سوال کیا ہے کہ ایک سال گزر جانے کے باوجود ایچ آئی وی سے متاثرہ 150 سے زائد بچوں اور ان کے خاندانوں کو اب تک کوئی عملی یا مالی ریلیف کیوں نہیں فراہم کیا گیا

وزیرِ محنت، گورننگ باڈی کے اراکین اور سیسی کی اعلیٰ انتظامیہ بتائے کہ انہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران متاثرہ بچوں کے علاج معالجے اور ان کے غریب والدین کی بحالی کے لیے کیا اقدامات کیے؟ سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو محض ایک رسمی کارروائی کے طور پر ہٹایا گیا، مگر بعد میں انہیں دوبارہ اہم عہدوں سے نوازنا اور تحفظ دینا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سیسی کی بیوروکریسی اور بااثر شخصیات مزدوروں کے مسائل سے یکسر بے خبر ہیں یا دانستہ طور پر نظر انداز کر رہی ہیں

اس پورے معاملے میں سب سے حیران کن پہلو سیسی کے گورننگ بورڈ اور صوبائی وزارتِ محنت کا رویہ ہے۔ ایک ایسے ادارے میں جہاں ہر ماہ لاکھوں مزدوروں کے محنت کی کمائی سے فنڈز جمع کیے جاتے ہیں تاکہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو صحت کی بہترین سہولیات مل سکیں، وہاں بچوں کی اموات پر خاموشی اختیار کر لینا سمجھ سے بالاتر ہے۔

سیسی کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ بعض بااثر شخصیات مسلسل 9 سالوں سے سیسی کی گورننگ باڈی اور مختلف کمیٹیوں پر قابض ہیں۔ کیا صوبائی وزیرِ محنت اس بات سے ناواقف ہیں کہ ایک ہی شخص کو بار بار گورننگ باڈی میں شامل کرنے کی کیا وجوہات ہیں، جبکہ ان کی سابقہ کارکردگی میں کوئی نمایاں بہتری سامنے نہیں آئی؟

اسپتالوں میں نہ تو جدید طرز کا طبی سامان دستیاب ہے اور نہ ہی ایچ آئی وی جیسے مہلک امراض سے نمٹنے کے لیے درکار بنیادی ادویات۔

مزدور تنظیموں نے اس سنگین بحران کے حل کے لیے حکومتِ سندھ اور محکمہ محنت کے سامنے مندرجہ ذیل فوری مطالبات رکھے ہیں کہ ایچ آئی وی وائرس سے متاثرہ تمام بچوں اور ان کے خاندانوں کو فوری طور پر مالی امداد فراہم کی جائے اور ملک کے بہترین نجی و سرکاری ہسپتالوں میں ان کے علاج کا تمام تر خرچ سیسی برداشت کرے۔

سیسی گورننگ باڈی کے وہ اراکین جو مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، ان سے فوری استعفیٰ لیا جائے اور میڈیکل ایڈوائزر، ڈائریکٹر پروکیورمنٹ اور سابق ایم ایس سمیت تمام ذمہ داران کے خلاف اعلیٰ سطحی انکوائری قائم کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔

سیسی کے زیرِ انتظام تمام ہسپتالوں کو جدید طبی تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے تاکہ آئندہ اس قسم کے بھیانک حادثات کو رونما ہونے سے روکا جا سکے۔

اگر حکومتِ سندھ اور محکمہ محنت نے اب بھی ان مظلوم بچوں اور مزدوروں کی فریاد نہ سنی، تو یہ محض ایک انتظامی ناکامی نہیں ہوگی بلکہ انصاف کے تقاضوں کا قتل عام ہوگا۔ صوبائی حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ زبانی جمع خرچ اور کمیٹیوں کی تشکیل سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کریں، تاکہ سیسی جیسے حساس ادارے کی کھوئی ہوئی اعتبار داری بحال ہو سکے اور محنت کشوں کے بچوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

تعارف :  خالد خان اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی مزدورتنظیم نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے صدر کے فرائض انجام دے رہے ہیں، آپ پاکستان کی مزدور تحریک کا ایک معتبر، نڈر اور انتہائی متحرک نام ہیں۔ وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے محنت کشوں کے حقوق، لیبر قوانین کے نفاذ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف صفِ اول میں رہ کر جدوجہد کر رہے ہیں خالد خان کی قیادت میں این ایل ایف کراچی نے صنعتی مزدوروں، کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے تاکہ پاکستان کے غریب مزدور کو اس کا آئینی اور قانونی مقام مل سکے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp