پیرزادہ امتیاز سید کا گجرات سے آئی ایل او تک سفر
تحریر ( رزاق احمد غفاری ) گجرات کی دھرتی اپنے علمی، ادبی اور صنعتی پس منظر کی وجہ سے پوری دنیا میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہے۔ اسی مٹی سے ایک ایسی قد آور شخصیت نے جنم لیا جس نے اپنی پوری زندگی محنت کشوں کے حقوق، سماجی انصاف اور مظلوم طبقے کی داد رسی کے لیے وقف کر دی۔ پیرزادہ امتیاز سید (مرحوم) کا نام پاکستان کی مزدور تحریک اور انسانی حقوق کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
پیرزادہ امتیاز سید نے اپنی عملی زندگی کا آغاز خدمتِ خلق کے جذبے سے کیا۔ انہوں نے خاص طور پر بھٹہ خشت کے مزدوروں اور بنوں کرشنگ انڈسٹری سے وابستہ محنت کشوں کے مسائل، جیسے کم اجرت اور بنیادی سہولیات کی کمی، پر بھرپور آواز بلند کی۔ ان کا ماننا تھا کہ جب تک محنت کش طبقے کو اس کا جائز مقام اور انصاف نہیں ملے گا، معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے ‘پاکستان واپڈا لیبر یونین’ سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور 1979 میں پاکستان میں استحصال کا شکار بھٹہ خشت مزدوروں کے لیے پاکستان بھٹہ لیبر یونین کی بنیاد رکھی۔
پیرزادہ امتیاز سید کی جدوجہد صرف مقامی یا قومی سطح تک محدود نہ رہی، بلکہ انہوں نے عالمی سطح پر بھی پاکستان کے محنت کشوں کی نمائندگی کی انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے فورم پر انہوں نے پاکستان کے استحصال زدہ مزدور طبقے کے لیے آواز بلند کی اور اہم سفارشات پیش کیں۔ 1995 میں 80 ممالک کے گلوبل مارچ اگینسٹ چائلڈ لیبر کے شرکا نے جب گجرات کا دورہ کیا، تو پیرزادہ صاحب نے بچوں کی مزدوری کے خاتمے اور ان کے حقوق کے لیے مؤثر دلائل پیش کیے۔ انہوں نے مختلف عالمی فورمز پر مزدوروں کے حالات، حقوق اور مسائل کو جس مدلل انداز میں پیش کیا، وہ ان کی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
پیرزادہ امتیاز سید کی شخصیت اخلاص، عجز اور انسانی ہمدردی کا حسین امتزاج تھی۔ وہ ایک بے لوث رہنما تھے جنہوں نے کبھی عہدوں یا شہرت کی تمنا نہیں کی، بلکہ ہمیشہ محنت کشوں کے دکھ درد کو اپنا سمجھا۔
ان کی وفات کے بعد ان کے مشن کو ان کے صاحبزادے پیرزادہ امتیاز سید ضیا نے سنبھالا، جنہیں 2021 میںآل پاکستان فیڈریشن آف یونائیٹڈ ٹریڈ یونینزکا جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا۔ آج ان کا مشن ایک تحریک کی صورت میں آگے بڑھ رہا ہے، جو محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہمہ وقت سرگرمِ عمل ہے۔ پیرزادہ امتیاز سید کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچائی اور خلوص کے ساتھ کی گئی جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
